رائے بریلی؛---- تو ان کے 100لوگوں کو - Latest News | Breaking News &

چھپکلی

Well-known member
انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی رائے بریلی، اترپردیش میں دائیں بازو کے وراٹ سمیلن میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف زہریلے اشتہاروں کی گئیں ہیں، جس میں ہندوتوا لیڈرز نے بدھ کے تقریر میں مسلمانوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا ہے۔

اس تقریر میں خوشبو پانڈے اور ریدھیما Sharma نے مسلم کمیونٹی کی تعداد کو کم کرنے کے بارے میں بات کی، جس میں یہ بات بھی تھی کہ اگر آپ کے دو لوگوں کو مارتے ہیں تو آپ کے 100 لوگوں کو مارڈالو اور اگر آپ کی ایک ہندو لڑکی کو بھگاتے ہیں تو آپ ان کی 100 لڑکیوں کو بھگالو۔

دوسری طرف، ٹھاکر رام سنگھ نے کھلے عام عیسائیوں پر غیر قانونی جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا ہے اور انہیں ایک ایسی کمیونٹی قرار دیا ہے جو ہندوستان بھر کے ہندو گروپوں کو ان کی تبدیلی کے لیے لے جا رہی ہے۔

اس تقریب میں ایک نامعلوم شخص نے کہا تھا کہ ’’اپنی کالونیوں میں محتاط رہیں، کسی ہندو عورت یا لڑکی کو ’جہادیوں‘ کے ہاتھوں اغوا نہ ہونے دیں‘۔

سمیلن میں کئی مقررین نے بار بار ہندو خواتین کو "لو جہاد” سے بچانے کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر کوئی مسلمان مرد ایسی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

سابق صحافی پرشانت کنوجیا نے شرما کے خلاف رائے بریلی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) کے پاس ایک باضابطہ شکایت درج کرائی ہے اور کہا ہے کہ ’’آئینی جمہوریت میں نفرت انگیز تقریر اور نسل کشی کے مطالبات کو معمول نہیں بنایا جا سکتا‘‘۔
 
عمر ہاں کیا ہوا، سمیلن میں ہندو راشٹریویں لوگ دوسروں پر کیا بھولتا ہیں؟ یہ وہ ساتھی ہیں جو آج آپ کو اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیں گے اور آپ کی بیٹی کو پچھا لینے کے لیے جہاد دھونڈو گے 🤦‍♂️

اس تقریب میں بھی کھلے عام غیر قانونی تبدیلی مذہب کا الزام لگایا گیا ہے اور عیسائیوں کو ایک نئی کمیونٹی قرار دیا جائے گا تو یہ بھی آج کل کی معاشرہ کی ہی باری ہوگی، اس سے تمہیں ان کے ساتھ اپنی رہائش کے لیے ایک نئا گھر بنایا جائے گا 🏠

اسلام اور ہندوستان کی تاریخ میں اس طرح کے اشتباہ ہونے سے پہلے بھی اس طرح کی باتوں نہیں سمجھی جاتی تھیں، اب یہ رائے بریلی نتیجہ وار اور عجیب ہے، مجھے لگتا ہے کہ اس کی ناقدیت کرنے والوں کو اپنی جائیداد پر بات کرنا چاہیے نہ کہ تھرڈ پارت کے لوگوں پر دباؤ ڈالنا 🙄
 
اس دکھلائی جانے والی رائے بریلی میں سارے جواب دینے والے لوگ ہندوستان کے معاشرے میں ایسی گڑبو کی چٹانوں کا بذلہ کر رہے ہیں جس سے انسان کو غور کرنے کا منصوبہ نہیں بنتا۔ دوسری طرف جو لوگ یہ بات چیت کر رہے ہیں وہ بھی اپنی پالیسیوں کی بدولت ایک دوسرے کے خلاف تیز گتار لگا رہے ہیں۔ اس دکھلائی جانے والی تقریر میں خوشبو پانڈے اور ریدھیما Sharma کی بات سے ان کے سیاسی حلقوں کو بھی نقصان پہنچا ہوگا۔
 
مٹی میں پھنس گئے ہندو لڑکیوں کو بھگاؤں کی بات سنی رہی ہے تو کیا ہر ایک یہ نہیں سمجھتا کہ یہ وہیں ہے جو ہوا دے گا؟ اس طرح کے بات چیت سے کیسے لڑائی جیتیں؟
 
اس سمیلن کی تقریر کا یہ ماحول بہت خطرناک ہے، اس میں مختلف اقلیتوں کے لوگوں پر بریلی اور شغف کو دھمکی دینا ہی نہیں بلکہ خطرناک ہے۔

اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس سمیلن میں ایسی باتوں کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جس سے لوگ انہیں دیکھ کر گھبرا رہے ہوں، نسل کشی کے مطالبات کو اس ماحول میں لانا بھی غلط ہے اور یہ سارے معاملات ایک بار پھر قانون کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔
 
یہ تو بھائی، ایسے میٹنگز کی ہوتی ہیں جس میں لوگ اپنی گaliyon ko khaan do jaate hain. lekin ab yeh to baaki takraar bhi ho rahi hai, wo jo cheez sahi ke saath nahi ki jati hai, woh to phir se aur badhti hai. Rasiya Bali ko ek aisa sandesh karna zaroori tha, kyunki uske comments ne un logon ko charcha ka madhyam banaya hai jo Muslim community ko target kar rahe hain. lekin yeh baat yaad rakhi jaaye ki social media par raiyan kisi bhi tarha ke nahi hoti, isse to phir hi logon ko aawaaz uthani padta hai.
 
اس تقریب کی وضاحت کرنے والوں کی یہ بات بھی تھی کہ اگر آپ کے دو لوگوں کو مارتے ہیں تو آپ کے 100 لوگوں کو مارڈالو اور اگر آپ کی ایک ہندو لڑکی کو بھگاتے ہیں تو آپ ان کی 100 لڑکیوں کو بھگالو، یہ کیسا قابل قبول ہے? 🤷‍♂️

ایسے تقریروں سے نسل کشی اور نفرت انگیز رائے کی پھیلائی ہوتی ہے، جو کسی بھی معاشرے کو خطرے میں پڑاتا ہے، اس سے قبل بھی ملک کے بہت سارے لوگ اس طرح کی اشتہاراتوں سے محفوظ رہنے کے لیے ٹیلی ویژن پر دیکھنا پڑتا ہے، اور نئی جنریشن بھی اس بات کو سمجھتی ہے کہ یہ توہین آمیز تقریر کیسے ختم کی جائے؟ 💡
 
عسائلیوں کی اس بات پر زور دینا کہ وہ لوگ ہندوستان میں دوسرے مذہبوں کے خلاف غیر قانونی جبری تبدیلی مذہب کی پالیسی کو اپنایا کریں تو یہ بھی ایک واضح خطرہ ہے

ابھی ہی ہندوستان میں مسلم قوم پرستوں کے خلاف جس तरह سے ظور اٹھایا گیا اور اس میں نسل کشی کے مطالبات کی بھی آواز ہوئی تو اب وہیں پہنچ کر انہیں اس طرح سے روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے

لیکن یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی کہ نسل کشی اور جبری تبدیلی مذہب کی پالیسیوں کو ہم سب کو روکنا ہوگا
 
واپس
Top