کراچی میں دو ایک دوسرے کے بعد ٽریفک حادثات میں دو راہ گیر جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک موٹرسائیکل سوار شدید زخمی ہو گیا ہے۔ سبزی منڈی، ناردرن بائی پاس پل کے قریب پہلا حادثہ پیش آیا جہاں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے دو راہگیر جاں بحق ہو گئے۔ اس وقت ان دونوں کی لاشیں عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیں گی۔
جائے وقوعہ پر پہنچنے والے چھیپا کے رضاکار بتاتے ہی چھیپا کے عمل سے باہر نکل گئے اور جاں بحق افراد کی لashiں منتقل کر دیں گی۔ اس حادثے میں جو انسداد جانی بھاری زخمیوں والی گاڑی تھی وہ پتہ نہیں چلی سکتے کہ اس پر کون سی جگہ پر رجسٹریشن ہوئی ہے۔
دوسرا حادثے میں ایک تیز رفتار کار نے موٹرسائیکل کو ٹکر مار دیا اور وہ رگڑتے ہوئے کئی سہولتوں پر گिर کر کئی زخمیوں کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں اس کی لاش کو بھی Abbasi Shaheed Hospital منتقل کیا جا چکا ہے۔
مختلف مقامات پر موجود عینی شاہدین بتاتے ہی وہ گاڑی جس نے ٹکر کی تو اس میں سوار مرد اور خاتون تھے، اسی وجہ سے ایسے میڈیا کے افراد نے اپنے فون کے ذریعے گاڑی کی کیمرے کو چھوٹ کر فرار ہونے پر گئے تھے۔
دوسرے مقام پر بھی ان شہریوں نے اپنے فون سے ایسی ڈیٹا کی پوری کیا جس سے اس حادثے میں ملوث ملزمان کو ایک چوتھائی گزر جاسکتا تھا۔
یہ اتنا ہی رہتا ہے جو سڑکوں پر، ان لوگوں کا یہ پہلو نہیں لیتا کہ وہ جب کھلے دروازے سے گڑھے جا رہے ہوں تو، مچھلیوں کی طرح ٹھوس کرنا چاہیے? ابھی تین دھائی کے نوجوان کو پتھر میں گIRA ہوا دیکھا جاتا ہے اور اس پر نہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جان لے لئے چلا گیا؟ اس وقت ایک موٹر سائیکل کو تو ٹکر میں پھنسایا جاتا ہے اور وہ بھی شہدت کا شکار ہوتا ہے۔
यہ دیکھنا بہت ہی غیر معقول ہے کہ ایسے واقفین سے دو دفعے میں دو شخصیات جا چکے ہیں اور ایک موٹرسائیکل سوار بھی زخمی ہو گیا ہے، مگر اس کابینہ پر ان کی وہی رائیڈی تھی جو سب سے پہلے دوسرے حادثے میں بھی تھی، یہ ایک عجیب سا جہت ہے کہ اس گاڑی نے ٹکر مارنے والے لوگوں کو اور اس کی لاشیں جو جا چکی ہیں ابھی تک پوچھے نہیں جاتے، یہ دیکھنا تو بہت ہی غلط ہے
یہ دوسری بار ہو گیا ہے کہ لوگ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اس سے زور کرتے ہیں اور پھر ان کی موت ہوجاتی ہے! یہ کہلاتا ہوا ہے کہ لوگ اپنی زندگی کو ایک جھول میں لگاتے ہیں اور اس کے بعد وہ ان کی موت کا شکار ہوجاتے ہیں...
بہت غم مند یہ حادثات ہو رہے ہیں، کراچی کی رہائشی لوگ آگے بڑھنے سے نا انصاف ہوتا دیکھتا ہے۔ ٹریفک حادثات کی تعداد نہیں کم ہوتی، یہ کبھی ڈیرے پر نہیں آئے گا اور وہ لوگ جو پانچ سال سے بھرے ٹریفک میں بیٹھتے رہتے ہیں ان کا یہ شکار ہوتا دیکھ کر لوگوں کی آنکھوں میں تار پھول جاتے ہیں۔
کراچی میں ٽریفک حادثات ایسی ہو رہی ہے، جو صحت کی بات کروں تو دوسرے نہیں اور پھر بھی گاڑی چلائی دیتی ہے۔ آدھی رات پر یہ حادثہ ٹکر میں ہوتا ہے تو ایک جگہ پر، وہ حادثہ پھنسی ہو کرتا ہے تو دوسری جگہ پر... یہ لوگوں کی جان بھی گئی ہے، زخمی بھی ہوئے ہیں اور گاڑی بھی ٹکراتی ہوئی ہے تو کیا یہ ایسا ہو سکتا تھا؟
اس بات پر فیکٹری کے جواب دینے والے ڈرائیور بتاتے ہی وہ اس حادثے کو ٹکر میں دھونڈتے ہیں اور وہ چھوٹ گئے، یہ کیا ہوا؟ وہ ہمیں ایک طرف ماسٹرڈ کر کے دوسری طرف بھگت گیا، یہ جنت کی نیند اور اسے پھانسی ہوئی...
بہت بھی غم آ رہا ہے Karachi میں ٹریفک حادثات میں دو وہی دوسرے کے بعد دو راہگیر جا کر بحق ہو گئے، اور ایک موٹرسائیکل سوار شخص بھی شدید زخمی ہو گیا ہے . ابھی تک یہ بتنا مشکل ہے کہ ان حادثات میں ملوث گاڑیاں کی پوری جائیداد دیکھ لی جا سکے گی تو کیسے؟
یہ وہ وقت ہے جب ہم اپنی راہوں پر ذمہ داری نہ کیں تو کبھی بھی کچھ نہ ہو گا۔ یہ دو حادثات جو ہر رات شہریوں کو تھکائیں دیتے ہیں وہ سمجھنے کے لیے بہت اچھی مثال ہیں۔
اس وقت کی ٹریفک یقیناً آگ لگا رہی ہے، اگر نہ ہی ٹرافیک پلیئننگ کا نظام بہتر بنایا جائے تو نہ ہی اس وقت کی راتوں میں بھی ہر طرح کی دھامتیں ختم ہوجائیں گی۔
پاسے کئی بار بتایا جاتا ہے کہ یہ پلیئننگ کو نافذ کرنا ایک مشکل کाम ہو گا لیکن اس پر کام کی جانے کا وقت آگے بڑھتا چلا گیا۔
ایسے میں تو ان میڈیا لوگوں کا کام ہی بہت اچھا ہوا ہے، پھر بھی اس طرح کی حادثات سے ہمیشہ فائدہ نہیں ٹھیکہ سکتا...
اس مقام پر ٹکر ایسی رائے میں آئی جہاں سبزی منڈی کے قریب تھی اور وہاں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے دو راہگیر جاں بحق ہو گئے، اس حادثے میں زخمی رہتے ہوئے 15 سے 20 فیملی اور دوستوں کی تعداد ہوستی ہے...
اس کے بعد ایک موٹرسائیکل سوار شدید زخمی رہا جو اس حادثے میں اپنی زندگی کو نہیں بھگا سکا...
دوسرے مقام پر تیز رفتار کار کی گاڑی نے موٹرسائیکل کو ٹکر مار دیا اور اس کے ساتھ ان کے سہولت میں سے ایک زخمی رہا...
اس حادثے میں ملوث ملزمان کی تعداد 20 سے زیادہ ہوسکی جس پر پوری معلومات ڈیٹا کو بھیج کر یہ معلوم کیا جا سکta ہے...
اب اس مقام پر ٹکر ایسی رائے میں آئی جہاں سبزی منڈی کے قریب تھی اور وہاں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے دو راہiggers جاں بحق ہوگئے، اس حادثے میں زخمی رہتے ہوئے 15 سے 20 فیملی اور دوستوں کی تعداد ہوستی ہے...
اس کے بعد ایک موٹرسائیکل سوار شدید زخمی رہا جو اس حادثے میں اپنی زندگی کو نہیں بھگا سکا...
ایسا تو نہیں ہو سکتی کے اِس شہر میں ہروے ٹریفک حادثات ہو رہے ہیں! نے آج بھی ہی ایسی خبر suni thi کے ان شہریوں پر ایسا کیا وہ ان کے فون سے اپنی کوئی ڈیٹا دوڑائی دیتے ہیں! ایسا نہیں ہونا چاہیے کے ہمیں بھی ان شہریوں کی اِسی طرح کی ڈیٹا دوڑائی دینی پڑی!
یہ حادثات بہت گھنوسا ہیں, لوگ ٹریفک میں دھوتے ہوئے آ رہے ہیں... میرے لئے یہ ایک دھکہ ہی پہاڑوں پر ہے کہ وہ لوگ کیونکر ان سے بچ سکتے ہیں? سبزی منڈی جیسے مقامات پر وہ لوگ چل رہے ہوں، ایک دفعہ تو یہ پٹہ کھینچی لیتے ہیں اور دوسری بار اس کی لچک سے ٹکر مار دیا جاتا ہے... میرا خیال ہے لوگ ان حادثات میں ایسے بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کے پاس چکائی نہیں ہوتی.
اکیلے نکل کر بھگتنا اور پوچھ لینا تو ایسا ہی ہی ہوتا ہے، لیکن کیوں نہ کہ ان شہریوں نے اپنے فون سے ڈیٹا بھی دیا؟ پتہ چلتا ہے کہ وہ اور اس گاڑی کی معلومات جانتے تھے اور اب تو ان کو جواب مل گیا ہے۔
اس وقت یہ بات سامنے آتی ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بھی کتنی دیر تک نکل کر بھگت سکتے ہیں۔
جاب ہونے والے گاڑی کا رجسٹریشن پتہ نہ چلا تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ ملزم بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے جو بھگتا نہیں۔
ایسے ٹریفک حادثات ہوتے رہتے ہیں، میرے خیال میں اس سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، صرف اور صرف دوسرے لوگ کھونے پڑتے ہیں। یہ عینی شاہدین جو اپنے فون سے تمام جگہوں پر ڈاتا دے رہے ہیں وہ سب کچھ سمجھتے ہیں، لیکن ایسے میڈیا کے لوگوں کو بھی اس حادثے کی تمام جگہوں پر چلنا پڑتا ہے، وہ اپنے فون سے ڈاتا دیتے رہتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے ہیں کہ ان شہریوں کو بھی اپنے فون سے پوری جگہوں پر ڈاتا کرنا چاہئے، یہ نہایت گمراہ کن بات ہے۔
چال، یہ دیکھنا ہر وقت اچھا نہیں ہوتا، پہلے دو راہگیر جواد ہو گئے، اب موٹرسائیکل سوار شخص شدید زخمی ہوا ہے تو کیا کچھ اور نaya ho sakta hai?
اس کے بعد ٹریفک حادثات اور گاڑیوں میں چلنے والے لوگوں کی زندگی کو نقصان پہنچانے کی بات کرو، یہ سب کو متحرک کرتا ہے۔ لیکن یہ دیکھنا بھی اچھا نہیں ہوتا جب چھپے کے رضاکار گاڑی کی کیمرے کو چھوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں، تو یہ ان شہریوں کو بھی ہی ہوتا ہے جو وہ دیکھتے ہیں اور فون کے ذریعے اسے اپنے ساتھ لیتے ہیں، یہ سب ایک دوسرے کو بھگڑتا ہے، نہیں تو یہ ہمیں نئی بات سکھانے دے کہ چلنا ہمیشہ ایسا ہی نہیں رہتا اور ان کو پہلے سے سیکھنا ہوتا ہے اور یہ سب ان شہریوں کے لیے ایک بڑا مشق ہوتا ہے جس پر انہیں ہمیشہ ناکام رہنا پڑتا ہے۔
یہ بہت غم ناکارہ ہے! دو ماہرہ اور ایک موٹرسائیکل سوار شخص رات کے وقت جب یہاں ٹریفک کم ہوتا ہے، پھنسی بھی گئے اور دوسرے دو جان باخت ہوئے ۔ سبزی منڈی کے قریب ایسا حادثہ پیش آیا جب اس وقت وہاں کسی گاڑی کی ریکارڈ نہیں تھی جب تک کہ اس پر رجسٹریشن کرلی ہوئی نہیں پتہ چلی سکتے۔ وہ شہر یہاں سے آتے ہو رہے تھے اور اب ان کی لاشین ابassi شہید اسپتال میں منتقل کر دی گئی ہیں۔
جس پر یہ حادثات ہوئے وہ سبzi mandi ya naraman byas pal ka kheera hai. yah siraajat hona chahiye, lekin ab to ek aur saamne hain. logon ko yah zaroor pehchanana chaahiye jo aisi gariyon ko chalate hain.
main bhi sochta tha ki agar koi log to ghar se nikalta woh car nahi chalata to kuch zyada saraftar hote, bas ab logon ne yeh sawaal nahi pucha hai.
جس طرح یہ ٹریفک حادثات ہو رہے ہیں تو نہیں تو کیا ہو سکتا ہے، یہ بھی ایک دھمپ چلی گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب ٹریفک حادثات ہوتے ہیں تو ان کا خاتمہ ہونا ایک پچھلے روز کی بات نہیں ہوسکتا، کیونکہ یہ دیکھتے ہی نہیں کہ لوگ ایسے مقامات پر چل رہے ہوتے ہیں جن پر چلتے ہوئے ان کو ہٹنے کی سہولت نہیں ملتی۔
ایسا کروٹا ہوا دیکھنا تیری جھنیپتیوں پر کبھی بھی نہیں آتا۔ ایک ہی کے بعد دو اور پھر دو اور وہ راہگیروں کے دھماکوں کی سایہ میں موٹرسائیکل سوار ایسے لोग بھی جانیں بحنہ ہوئے۔ سبزی منڈی پر گاڑی کی ٹکر اور پھرNorthern Bypass پل پر ایک موٹرسائیکل کا دھماکا، یہ شہر کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟ میرے خیال میں یہ سب ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ بھی ایسے واقعات جو لوگ دیکھتے ہیں ان پر گورہا ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کو ایسی بات کرنے کی لازمی پالتی ہے کہ ہر ہلچل میں لوگ اپنی جان کی قیمتی کو بھول جاتے ہیں اور اس لیے یہ تو safest lane ہی رہتا ہے۔
عجیب کچھ ہوا ہے یہ حادثہ تو ہی نہیں بلکہ ٹریفک کی لند نہیں اٹھ سکی! دو ایک دوسرے کے بعد اور اس میں ایک موٹرسائیکل بھی شامل ہوا تو یہ کچھ حقیقی معیشت کا دکھ ہے۔ سبزی منڈی پر ہونے والا حادثہ میں وہ گاڑی جو ٹکر کی تو اس پر وہ نومال رجسٹریشن نہیں تھی یہ تو ایک دوسرے گاڑی سے لینے کے بعد جاری کر دی ہوئی تھی۔
اس وقت شہر میں ٹریفک کی سارسیں وہی جاری کر رہی ہیں جو ماضی میں تھیں، نئی پالیسیوں کو لگتا ہے کہ یہ ہمیں ایک بہتر شہر بنائے گا۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، یہ نئی پالیسیاں سڑکوں پر اپنی کامیابیوں سے ہٹ کر لگ رہی ہیں۔
تمہیں یہ معلوم ہو گا کہ یہ حادثات نہ ہی ایسے رہیں جو لوگ اس بات پر بات کرتے ہیں، بلکہ وہ حادثات جیسے اس میں سرجری کی ضرورت ہو گی، اور جب تک ملوث شخص نہیں، یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا سچ تھا یا نہ تھا۔ اب اس حادثے میں ملوث ملزمان کی جانب تو بھی پوچھنے کا وقت آ رہا ہے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ اب یہ ٹکر ٹال کر کھیل رہے ہیں۔