کراچی : پلازہ نہیں ہماری اقدارگل ہوگئی ہیں | Express News

سورج مکھی

Well-known member
کراچی میں انفرادی معاملات کی بجائے سماجی اقدار کو اپنے سامنے لایے
اس وقت کراچی میں گل پلازہ جیسے حالات سامنے آئے ہیں، جس میں ہمارے لوگوں کو بھی ہمیں خود کو سمجھنا پڑا ہے کہ ایک بلڈنگ کی جلن سے شہر اور شہری ایک ساتھ تین جہت پر آ گئے ہیں، جس میں وہ جو سمجھتے تھے وہی نہیں رہا۔

غیر کوئی ایسی نہیں ہے کہ شہر میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ ہو جس میں نہ بھلائی کا منصوبہ بنایا جا سکے، نہ ایک ایسا قائد ہو جسے لوگ اس کے اقدار کو یقینی بناتے ہیں۔ مگر پہلے کچھ روز ہی سے شہر میں پانی کی ناکامتی، بجلی کے قلت، دکانداروں اور ٹریولرز کو پٹرول کی کمی نے لوگوں کو ایک ہنگامی situation میں دوچھا دیا تھا۔

اس صورتحال میں لگتا ہے کہ شہر اور اس کی رہائشی ایک دوسرے سے بے ذمہ تھے، دیکھنا پڑا ہے نہیں وہ کبھی ایسا کیا ہوگا جس کی وجہ سے شہر کو خطرناک situation میں پہنچایا جا سکے؟ ہم سب اپنی انفرادی زندگی میں اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے، وہ جس طرح آگ سے لڑتا ہے اسی طرح اور نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ایک بلڈنگ کی جلن اس پوری دنیا کو بھی شہد کے مانند ہو گئی ہے۔

کبھی کچھ نہ تھا جس کی وجہ سے شہر اور شہری ایک دوسرے سے بھلائی یقینی بناتے تھے، مگر اب جس طرح ہمیں اپنے لوگوں کو سمجھنا پڑا ہے اس طرح ہمیں ان لوگوں کی اقدار کا بھی خیال کرنا پڑا ہے، جو لوگ شہر کی زندگی سے باہر نہیں آتے تھے وہاں بھی اس کی اقدار کو ایک دوسری کے ساتھ تعادل برابری پر رکھنا پڑا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ شہر اور اس نے ایک ہنگامی situation میں دوسرے سے بے ذمہ رہنا پڑا ہے۔

اس صورتحال کو سمجھنے کے بعد کبھی اچھا لگتا ہے وہ ہمیں ہمارے لیے بہتر سے بہتر بناتا ہے، جو لوگ اس حادثے میں اپنی جانوں کو جارح کر رہے تھے وہاں ایسا نہیں کیا گیا تھا، جبکہ اس صورتحال سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس اچھی سی پالیسی تھی جو ان پر بھارosa کر سکتی تھی۔

اس حادثے میں شہر اور اس کی رہائش کو دیکھتے ہوئے کیا یہی ہمارا معاملہ ہوگا؟ کیا ہمیں نہیں سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے، اس صورتحال کو ایسے نہیں رکھنا چاہئے جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو۔

اس وقت جب بھی شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی تھی تو ہم سب اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال رکھتے تھے، مگر اب جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے تو سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کیا جاتا، ایک بلڈنگ کی جلن اس کی بھی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اس وقت ایسے حادثے سامنے آتے ہیں جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، اس حادثے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس ایسی پالیسی نہیں ہوتی جو ان پر ہمیشہ وہی پaliسی بھارosa کر سکتی اور اس صورتحال کو ایسا بنایا جاسکے کہ وہ کوئی حادثہ نہ ہوتا جس سے لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنائے اور اس صورتحال کو ایسا بنایا جاسکے کہ وہ لوگ شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکے، حالانکہ یہ صاف ذہنی طور پر ہو سکتا ہے۔

اس صورتحال کا ایسا دور آیا جس میں لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلن اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں، حالانکہ اس کا تعلق بہت واضح ہے۔

اس وقت جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی تھیں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے، اس صورتحال کو ایسا بنایا نہیں جا سکتا جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو۔

شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے جب شہری اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کر رہے ہیں، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں۔

اس وقت کیا ہمیں سمجھنا چاہئے کہ شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں۔
 
اس وقت کراچی کی یہ صورتحال سامنے آئی ہے جب شہر اور اس کی رہائش کو ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے، جو کہ سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ضروری چیز ہے۔ اس صورتحال میں شہری اپنی انفرادی زندگی میں یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلن سے شہر بھی جلتا ہے، اور اس صورتحال کو ایسا بنایا نہیں جا سکتا جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو۔

اس وقت جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ ایک بلڈنگ کی جلن سے شہر بھی جلتا ہے، اور یہ صورتحال کو ایسا بنایا نہیں جا سکتا جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو۔
 
اس حادثے کو سمجھتے ہوئے، یہ بات صاف چلے آئے کہ شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں
 
اس وقت شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے کہ لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں، اب ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی نہیں۔
 
اس وقت شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں

جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال رکھتے تھے تو ایسا دور آیا جس میں شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا تھا، لेकिन اب وہی نہیں ہوتا

اس صورتحال کو سمجھنے کے بعد کبھی اچھا لگتا ہے جو لوگ اپنی انفرادی زندگی میں اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ ایک بلڈنگ کی جلن سے شہر بھی جلتا ہے، اور اس صورتحال کو رکھنا چاہئے

شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں

اس وقت کیا ہمیں سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلن سے شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے، لیکن اس صورتحال کو رکھنا چاہئے جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو
 
اس وقت کبھی نہیں ہوا جس میں شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملنے پڑتے تھے، جو لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بناتے تھے اور ایسی صورتحال سے تعلق رکھنے والوں کے پاس بھی اس بات پر یقین تھا کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے، مگر اب جب ان لوگوں کو اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کر رہا ہے، اس صورتحال سے تعلق رکھنے والوں کو بھی پتہ چلا ہے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے، لیکن یہ صورتحال ایسے نہیں رہ سکتی جس سے کوئی حادثہ نہ ہوتا جو لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔
 
کیا یہی شہر کا معاملہ ہے؟ جب تک لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے اور اس صورتحال کو ایسا بنایا جاسکتا ہے جس میں سماجی اقدار کو تباہ کیا جا سکے۔
 
جب گل پلازہ جیسا حادثہ کراچی میں واقع ہوا تو شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے مل گئے تھے، جس نے ہمارے لوگوں کو خود کو سمجھنے پر مجبور کیا کہ یہ شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے مل کر بھی جلتا ہے، نہیں بلکہ وہ جس طرح آگ سے لڑتا ہے اسی طرح نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ ایک بلڈنگ کی جلن اس پوری دنیا کو بھی شہد کے مانند ہو گئی ہے۔

جب تک شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی تھیں تو ہم سب اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال رکھتے تھے مگر اب جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے تو یہی خیال نہیں کیا جاتا اور ایک بلڈنگ کی جلن اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa نہیں کر سکتی ہی نہیں۔
 
جس حادثے نے شہر کراچی کی جلدھ دی ہوئی ہے وہ ایک علامہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کر رہے تھے، اور اب جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کیا جاتا۔

اس حادثے میں شہری اپنی انفرادی زندگی کی ذمہ داریوں سے نمٹنا نہیں پھینکتے، اور شہر نے بھی اپنی ذمہ داریوں کو انفرادی طور پر حل کرکے رہتے ہوئے اس صورتحال میں گिरا ہے جس سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنا پڑا ہے۔
 
😂 پانی کی ناکامیت، بجلی کے قلت، دکانداروں اور ٹریولرز کو پٹرول کی کمی... یہ سب شہر میں ہونے والی ایسی things ہیں جو لوگوں کو ایک ہنگامی situation میں دوچھا دیتی ہیں! 🤯

میرے لئے اس صورتحال کا سبسے بڑا Problem یہ ہے کہ لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے. 🤷‍♂️

جب شہر اور اس کی رہائش ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو یہ سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے. اس صورتحال کو ایسا بنایا نہیں جا سکتا جو کوئی نہ کوئی حادثہ کے بعد کا انتہا ہو! 🚨

ابھی تو شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑا ہے، لیکن لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے. یہ سب شہر کو ایک ہنگامی situation میں پھنسی دیتی ہے! 😱
 
🤔 یہ حادثہ اس وقت کا تعین کرنا مشکل ہے جب شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے، ایسی صورتحال میں لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں۔

اس وقت کیا ہمیں سمجھنا چاہئے کہ شہر اور اس کی رہائش میں ایک دوسرے سے ملنا پڑتا ہے جب لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کرتے، اس وقت ایک بلڈنگ کی جلدھ اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے، اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکتی ہی نہیں۔

اس حادثے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس ایسی پالیسی ہونی چاہئیں جس سے وہ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنائے، اور اس صورتحال کو ایسا بنایا جا سکے کہ لوگ شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کر سکیں، حالانکہ یہ صاف ذہنی طور پر ہو سکتا ہے۔
 
آج شہر کی زندگی ایک دوسری کے سامنے لگ رہی ہے، جس سے سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کا خیال نہیں کیا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں لوگ اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش نہیں کر رہے، ایک بلڈنگ کی جلن اس کی اقدار کو تباہ کر دیتی ہے۔
 
اس حادثے کا تعلق ایسی پالیسیوں سے ہوتا ہے جو شہر اور اس کی رہائش کو دیکھتے ہوئے بے ذمہ رہنے کا باعث بنتی ہیں، اگر ہمیں اپنی انفرادی زندگی میں سماجی اقدار کو محفوظ بنانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے تو اس صورتحال کو سمجھنا چاہئے کہ ایک بلڈنگ کی جلدھ سے شہر بھی جلتا ہے اور شہر اور اس کی رہائش میں جو اچھائی سے بدائی پھیلاتے ہیں ان پر بھارosa کرنا چاہئے۔
 
واپس
Top