کوڈنگ ماسٹر
Well-known member
بھارت میں یہ سال ایک خوفناک تازہ رپورٹ آئی ہے، جس میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقریروں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی ایک پروجیکٹ انڈیا ہیٹ لیب (IHL) نے اس سالانہ رپورٹ میں 21 ریاستوں میں تقریباً 1,318 ذاتی طور پر نفرت انگیز تقریر کے واقعات کو دستاویزی کیا ہے۔
یہ رپورٹ اس وقت اتر چلائی گئی جب 2024 میں 668 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، جو کہ 13 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے جس کے لئے اس وقت 97 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
ریپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نفرت انگیز تقریروں سے منسلک ہیں جس میں سازشی نظریات، تشدد اور ہتھیاروں کی کالیں شامل ہیں۔ سماجی یا اقتصادی بائیکاٹ، عبادت گاہوں کو ضبط کرنے یا تباہ کرنے کے مطالبات، غیر انسانی زبان اور روہنگیا پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے والی تقاریر بھی شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق کل 1,289 تقاریر، جس میں سے 98 فیصد نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہے۔ عیسائیوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں ریکارڈ کی گئیں، جو کہ تمام واقعات کا 12 فیصد ہے۔
رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی زیر اقتدار ریاستوں میں 88 فیصد سے زیادہ نفرت انگیز تقریروں کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ 2024 میں ان دائرہ اختیار میں ریکارڈ کیے گئے 931 واقعات سے 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جو کہ بی جے پی کے زیر کنٹرول علاقوں میں اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر کے بہت زیادہ ارتکاز کو ظاہر کرتا ہے۔
اس رپورٹ کی جانب سے یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ 2025 میں بی جے پی نے سال کے بیشتر حصے میں 16 دائرہ اختیار میں، آزادانہ طور پر یا اتحاد کے حصے کے طور پر اقتدار سنبھالا ہے اور اس کے نتیجے میں 2025 میں 65 فیصد سے زیادہ نفرت انگیز تقریروں کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل دونوں انتہا پسند ہندوتوا گروپس اپنی منظم کرنے کی جانب سے 289 نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو کہ اس سے پہلے بھی 22 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔
اس رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ 2025 میں اقلیتی کمیونٹیز، بنیادی طور پر مسلمانوں کے بائیکاٹ پر زور دینے والی تقاریر اور 276 تقریریں بھی ریکارڈ کی گئیں جس میں مساجد، مزارات اور گرجا گھروں کو ہٹانے یا تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
یہ رپورٹ اس وقت اتر چلائی گئی جب 2024 میں 668 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، جو کہ 13 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے جس کے لئے اس وقت 97 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
ریپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعات اقوام متحدہ کی تعریف کے مطابق نفرت انگیز تقریروں سے منسلک ہیں جس میں سازشی نظریات، تشدد اور ہتھیاروں کی کالیں شامل ہیں۔ سماجی یا اقتصادی بائیکاٹ، عبادت گاہوں کو ضبط کرنے یا تباہ کرنے کے مطالبات، غیر انسانی زبان اور روہنگیا پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے والی تقاریر بھی شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق کل 1,289 تقاریر، جس میں سے 98 فیصد نے مسلمانوں کو نشانہ بنایا ہے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد اضافہ ہے۔ عیسائیوں کو نشانہ بنانے والی نفرت انگیز تقاریر 162 واقعات میں ریکارڈ کی گئیں، جو کہ تمام واقعات کا 12 فیصد ہے۔
رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی زیر اقتدار ریاستوں میں 88 فیصد سے زیادہ نفرت انگیز تقریروں کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ 2024 میں ان دائرہ اختیار میں ریکارڈ کیے گئے 931 واقعات سے 25 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جو کہ بی جے پی کے زیر کنٹرول علاقوں میں اقلیت مخالف نفرت انگیز تقاریر کے بہت زیادہ ارتکاز کو ظاہر کرتا ہے۔
اس رپورٹ کی جانب سے یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ 2025 میں بی جے پی نے سال کے بیشتر حصے میں 16 دائرہ اختیار میں، آزادانہ طور پر یا اتحاد کے حصے کے طور پر اقتدار سنبھالا ہے اور اس کے نتیجے میں 2025 میں 65 فیصد سے زیادہ نفرت انگیز تقریروں کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل دونوں انتہا پسند ہندوتوا گروپس اپنی منظم کرنے کی جانب سے 289 نفرت انگیز تقاریر کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو کہ اس سے پہلے بھی 22 فیصد تک اضافہ ہوا تھا۔
اس رپورٹ نے مزید کہا ہے کہ 2025 میں اقلیتی کمیونٹیز، بنیادی طور پر مسلمانوں کے بائیکاٹ پر زور دینے والی تقاریر اور 276 تقریریں بھی ریکارڈ کی گئیں جس میں مساجد، مزارات اور گرجا گھروں کو ہٹانے یا تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔