پب جی ماسٹر
Well-known member
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے چھ طیاروں کو مرمت کے بعد ایسے ہی قرار دیا گیا ہے جیسے وہ اڑانے میں ناکام ہیں، جو یہاں تک کے کہ اڈے پر ہی رکھے جا سکیں، جبکہ ان کے اسپئر پارٹس بروقت فروخت نہ کرنے کی وجہ سے پی آئی اے کو مجموعی طور پر ایک ارب چھپن کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت یہ طویث شدہ ہیں جو اڈے پر رکھنے کی صورت میں بھی ایسے ہی رہتے ہیں، جبکہ ان کا کوئی فیصلہ نہیں لگایا گیا تھا کہ یہ طویث شدہ کیسے کر لیا جائے اور اس نتیجے میں انہیں ایک ارب چھپن کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
حکومتی رکنوں کی جانب سے ہونے والی پالیسی کی نیند سے ایسا نتیجہ بھی نکلتا ہے جو کوئی بھلا کچھ سمجھ سکتا ہو، اس وقت بھی یہ طویث شدہ ہیں جو اڈے پر رکھنے کی صورت میں ایسے ہی رہتے ہیں، ان کو نئے کھیل میں لانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا تھا کہ ایک ارب سٹرنڈنگ سے متعلق معاملہ ہے جس سے سندھ حکومت کو دو ارب اٹھ ان کروڑ روپے وصول کرنا تھا، لیکن اس معاملے پر ایک بھی فیصلہ نہیں لگایا گیا ہے، ایسے میں یہ دو ارب اٹھ ان کروڑ روپے بھی واپس جانے کو باہم مل گئے ہیں۔
اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایڈوکیٹ نائیک شاہدہ بیگم کی سربراہی میں پی آئی اے کے مالی انتظامات پر غور کیا، جس میں انہیں انتہائی ناقص قرار دیا گیا ہے جو ان کے اراکین کی جانب سے بھی ایک واضح بات بتائی گئی ہے۔
اس معاملے میں پی آئی اے کے چار افسران ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، جبکہ ان کی جانب سے بھی ایک واضح بات بتائی گئی ہے کہ ان میں سے ایک آٹھ طیاروں کی مرمت پر چوالیس دن لگے اور انہیں نوجوان ترین مرمت کارروائیاں کرنے کی ضرورت تھی، لیکن اس کی وضاحت بھی ان سے ہوئی ہے۔
اس میں ایک ارب سٹرنڈنگ کا ذمہ دار ہونے والی ہولڈنگ کمپنی نے بتایا کہ ان کے پاس ایک ارب پچیس لاکھ روپے کی رقم ہے جو انہوں نے جسے پی آئی اے سے وصول کیا تھا وہ بھی انہیں مل گئے ہیں، لیکن اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لگایا گیا ہے، یہی نہیں بلکہ ان کی بھی ایک ارب سٹرنڈنگ میں کئی سو لاکھ روپے شامل ہوئے ہیں جو ان کے بجائے ہونے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس پر ایک واضح بات بتائی ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت یہ طویث شدہ ہیں جو اڈے پر رکھنے کی صورت میں بھی ایسے ہی رہتے ہیں، جبکہ ان کا کوئی فیصلہ نہیں لگایا گیا تھا کہ یہ طویث شدہ کیسے کر لیا جائے اور اس نتیجے میں انہیں ایک ارب چھپن کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
حکومتی رکنوں کی جانب سے ہونے والی پالیسی کی نیند سے ایسا نتیجہ بھی نکلتا ہے جو کوئی بھلا کچھ سمجھ سکتا ہو، اس وقت بھی یہ طویث شدہ ہیں جو اڈے پر رکھنے کی صورت میں ایسے ہی رہتے ہیں، ان کو نئے کھیل میں لانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ملے گا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا تھا کہ ایک ارب سٹرنڈنگ سے متعلق معاملہ ہے جس سے سندھ حکومت کو دو ارب اٹھ ان کروڑ روپے وصول کرنا تھا، لیکن اس معاملے پر ایک بھی فیصلہ نہیں لگایا گیا ہے، ایسے میں یہ دو ارب اٹھ ان کروڑ روپے بھی واپس جانے کو باہم مل گئے ہیں۔
اجلاس میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ایڈوکیٹ نائیک شاہدہ بیگم کی سربراہی میں پی آئی اے کے مالی انتظامات پر غور کیا، جس میں انہیں انتہائی ناقص قرار دیا گیا ہے جو ان کے اراکین کی جانب سے بھی ایک واضح بات بتائی گئی ہے۔
اس معاملے میں پی آئی اے کے چار افسران ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، جبکہ ان کی جانب سے بھی ایک واضح بات بتائی گئی ہے کہ ان میں سے ایک آٹھ طیاروں کی مرمت پر چوالیس دن لگے اور انہیں نوجوان ترین مرمت کارروائیاں کرنے کی ضرورت تھی، لیکن اس کی وضاحت بھی ان سے ہوئی ہے۔
اس میں ایک ارب سٹرنڈنگ کا ذمہ دار ہونے والی ہولڈنگ کمپنی نے بتایا کہ ان کے پاس ایک ارب پچیس لاکھ روپے کی رقم ہے جو انہوں نے جسے پی آئی اے سے وصول کیا تھا وہ بھی انہیں مل گئے ہیں، لیکن اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لگایا گیا ہے، یہی نہیں بلکہ ان کی بھی ایک ارب سٹرنڈنگ میں کئی سو لاکھ روپے شامل ہوئے ہیں جو ان کے بجائے ہونے والی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس پر ایک واضح بات بتائی ہے۔