کراچی میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سیکیورٹی گارڈ کی غفلت کے نتیجے میں 15 سالہ بچے کی جان چلی گئی، جو اس شہر کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک ہوٹل پر پیش آیا جہاں تعینات سیکیورٹی گارڈ نے احتیاطی تدابیر نہیں کیں۔
عوام کے مطابق شعیب خان ولد فیاض ایک ہیں جنہیں ایسے میونٹر میں تعینات کیا گیا تھا جس پر انہیں یہ ذمہ داری عائد کی گئی تھی کہ وہ اچانک حالات میں بھی سیکورٹی کو سمجھتا ہو۔
اس گارڈ نے اپنی انصاف کی ذمہ داری نہیں لی اور 12 بور رائفل لے کر آئیے تھے جس کے ساتھ وہ خود کو بھی خطرے میں پا کر رکھنا چاہتے تھے، جس نتیجے میں جھوٹے ذمہ دار مقتول سیف اللّٰہ کو 12 بور سے شہید کر دیا گیا۔
یہ واقعہ اچانک طور پر پیش آیا جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے غفلت برتنے والے سیکیورٹی گارڈ کو حراست میں لے لیا جبکہ ان کی استعمال ہونے وालے 12 بور رائفل بھی قبضے میں لی گئیں، جس کے بعد پولیس نے جواب دینے کے لیے ایک بڑا کارروائی شروع کر دی۔
وہ واقعہ یہ کراچی میں ہوا جو مندرجہ پر बतایا گیا ہے تو یہ انتہائی افسوسناک اور سادہ واقعہ ہے، شھیب خان کا جسم ایک 12 بور رائفل سے شہید ہو گیا ہے جو اس کے اپنے بچپن کو یہیں تھم دیتا ہے، ایسے حالات میں سیکیورٹی گارڈ کی غفلت بھی انفرادی طور پر ناجائز ہے، اس بات کو بھی پچتایا جانا چاہئے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے لاپرت کر دیا ہے اور جس کی وجہ سے ایسا واقعہ پیش آیا ہے، یہ صرف اس کے نتیجے میں 12 بور رائفل کو قبضے میں لیا گیا تھا جو اب بھی اپنی ذمہ داریوں سے لاپرت کر رہے ہیں
وہ چھپے ہوئے سیکیورٹی گارڈ، بچوں کی جان پھونکنا! یہ کیا ہوا؟ ان شے کا یہ کام کس کی ذمہ داری تھی? اس گارڈ نے 15 سالہ بچے کو 12 بور سے مار دیا اور اب وہ اپنی بھینٹ پھوٹ پر بیٹھا ہوا ہے! جب تک پولیس کا ان کی پھرک نہیں آئی، اس گارڈ کو چھپنے کا موقع تھا اور وہ جو کیا کر سکتا تھا، وہی کیا کر رہا ہوں گے! یہ ایک انتہائی افسوسناک واقعہ ہے، جس پر پوری دنیا کی پھرک ہے!
میں نہیں کھڑا ہوتا کہ شادیوں میں کتنے پیسے لگتے ہیں اور ایسی جانتے ہی کھڑے ہوا کرم، لیکن یہ واقعہ کراچی کے سرجانی ٹاؤن میں بچوں کی جان لینے سے تو کھٹکا نہیں ہوتا، ایسا ہونے پر یہ بات تو پتہ چل جاتی ہے کہ پالیسی میں اچانک کو لگایا جاسکتا ہے نہیں، سیکیورٹی گارڈ کی یہ غفلت نہایت افسوسناک ہے، 15 سالہ بچوں کی جان چلنا اس کو نہیں تolsکتا ، ایسے سیکورٹی گارڈ کے لیے وہ 12 بور رائفل ہمارے لیے بھی خطرناک ہوگئے
یہ واقعہ بہت ہی افسوسناک ہے، اس سے ہم کو سوچنی پڑ رہی ہے کہ سیکیورٹی کارروائیوں میں بھی اہلیت کی کمی کی کیا گزشتہ ہے؟ ایک 15 سالہ بچے کی جان چلی گئی، یہ توہین ختم کرنے کی کامیابی نہیں مل سکتی ۔ پھر ان لوگوں کو جس میں اہلیت ہوتی ہے وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کے لئے بے عمل رہتے ہیں۔ یہ ایک ہی نتیجہ اٹھا کر آتا ہے۔
یہ واقعہ تو بھارپور ہے، سیکیورٹی گارڈ کی غفلت سے یہاں کا شہر دہرا ڈال گیا ہے. ان چاروں طرف اچانک حالات میں ہونے پر کوئی ذمہ دار نہیں، اور اس طرح سے ایسا کیا جا رہا ہے کہ عوام بھی تنگ آ کر ہیں. یہ سیکیورٹی گارڈ تو اپنے ذمہ دار مقتول کو شہید کر دیا ہے، لیکن اس نے ان کی جانوں کے بدلے کیا ہے کہ اچانک حالات میں کوئی بھی گارڈ اپنی ذمہ داریوں سے بچ جائے.
اس واقعہ سے ہر انسانی غور کرتا ہے... کیا یہ اچانک حالات میں نہیں ہوتے تھے؟ کیا سیکیورٹی گارڈ کے پہلے بھی اس جگہ پر ہوٹل لگا کر کچھ سمجھنے کی کوشش نہیں کی، نہیں تو کیسے 15 سالہ بچے کو جان چلی گئی? اور یہ تو صرف ایک بچہ تھا... 12 بور رائفل لے کر آئیے تھے؟ یہ ایسا نہیں ہوتا کہ وہ بھی خطرے میں پڑنے کی سوچتے، اس طرح سے سیکورٹی کو سمجھنے کی کوئی تاکید کی جاتی کہ ایسے نہیں ہوتے?
ایسا تو ہلچل اور غمازگی کی سیر کی تھی، مجھے یہ بات اچھی نہیں لگ رہی کہ ہمارے شہر میں سیکیورٹی کے بارے میں کیا خیال ہوتا ہے؟ جو گارڈ ان شہریوں پر دباؤ رکھتا ہے جس پر ان کے ہاتھ بھی نہ ہو، وہ یقیناً خود کو بھی خطرے میں اتر کر رہا تھا، اور شعبہ ہمیشہ ان سے کہتا رہا کہ آپ سے زیادہ یہ ذمہ دار ہو!
اس واقعہ سے ہر کسی کی آنکھوں میں پانی آ گیا ہے، اس گارڈ نے ایسی غلطی کیا جس سے آپ ماں بھائی کو محفوظ رکھنے پر توجہ نہیں دیتے، یہ بچا کی جان چلی گئی، اور انہیں پھر ہوتے ہی یہ کہیں کہ اسے واپس لانے کو یقین نہیں تھا، ایک ایسا گارڈ جو اپنی جانیں بھی جاندا کہنے کے لیے ہمہ کوشिश کر رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی یہ غلطی نہیں کی جا سکتی تھی؟
اس واقعہ سے اٹھنے والے کسی بھی ادارے کے لئے ہماری پوری تنقید ہے. یہ پورا مظاہرہ ایک ہی سیکیورٹی گارڈ کی غفلت پر مبنی تھا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ادارے نے بھی اپنے ملازمین کو یہ دھمکی دی ہے کہ وہ ہر معاملے میں احتیاطی تدابیر کریں یا ہار جائیں. یہ ناانصافی کی ایک بڑی مثال ہے۔
ایسے میونٹر اور سیکیورٹی گارڈوں کی قیمتی زندگی چھڑک دیتے ہیں! یہ غفلت اور ناکامcy کا ایک واضح مثال ہے. سیکورٹی سسٹم میں بھی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؟ پھر کیوں ایک غفلت کی وجہ سے 15 سالہ بچے کی جان چلی گئی؟ یہ بھی کوئی نہیں بات کرتا کہ اور ایسے حالات میں کسی کی زندگی کو بھی خطرے میں پڑانے سے انکار کر دیا جائے؟
عجیب بات یہ ہے کہ ڈرامے میں ہی سے ایسے واقعات پیش کیے جاتے ہیں جو ناامیدوں اور انصاف کے حوالے سے ہی غلطی کرنے والے لوگوں کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
سیکیورٹی گارڈ کی غفلت ایک طالب علم کی جان چلائی گئی، اور یہی حالات اس شہر میں کبھی نہیں سنیے گئے ہنگاموں کو روکنے کے لیے پوری دنیا بھر میں ایسے سیکیورٹی اہلکار فراہم کیے جاتے ہیں، لہذا یہ تو حادثہ کبھی نہیں ہوتا۔
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ قوم کی سیکیورٹی جات میں بھی اچانک حالات میں رنجش اور ادراک کے نتیجے میں غلطیوں ہوتی ہیں، لہذا یہ واقعہ کسی ایسے شہر میں ہونے کو ختم نہیں کیا جا سکتا جہاں سماجی اور اقتصادی صورتحال کا خیال کی گئی وہاں اس طرح کی غلطیوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو روکنے کے لیے پوری قوم کو ایکٹ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسے واقعات سے ہر وقت کو خوفناک محسوس ہو جاتا ہے، #کراچی میں بھی ایسی ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد ساری شہرت اس مریض کی جان چلی گئی 15 سالہ بچے کو اس hotel پر ایک security guard کی غفلت نے جان لے لی، #اس_gar_d_nے_احتیاطی_تدابیر_نہیں_کیا اور اپنی انصاف کی ذمہ داری نہیں لی، اس کے بعد وہ بھی جان لے گئے!
اس واقعے سے ہر وقت کو خوفناک محسوس ہو جاتا ہے اور یہ بات سچ ہے کہ #جنگل_میں_مریض_کھونے_کی_بھی_نہیں_ہوت۔ police nے فوری کارروائی کی اور گارڈ کو حراست میں لیا اور اس کے 12 بور رائفیں قبضے میں لی گئیں، #اس_gar_d_kو_بھی_جنگل_میں_دال_ دیا_گيا_ہوگا!