کراچی کے وکلاء اور رجب بٹ کے وکیل کے درمیان تنازع میں نیا موڑ

کراچی بار اور رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کے درمیان نئے تنازع کے موڑ

کراچی بار کے عظیم وکلاوں کی ایک گروپ نے رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کے ساتھ تنازعہ کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد اب اس تنازع میں ایک نئی موڑ آ گیا ہے۔

اب میاں علی اشfaq اپنے زیر توجہ مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کرنے کے لئے اس وقت کی کھلافتوں کے سامنے آئیں گے جس میں وہ کراچی بار کے عظیم وکلاوں سے بھی منسلک ہیں۔

اب یہ تنازعہ ایسا نہیں رہے گا جتنا تھا۔ اس میں ایک نئی ماحول بن گیا ہے۔

آج کے وقت میاں علی اشفاق سٹی کورٹ میں آئیں گے اور اپنے زیر توجہ مقدماتوں سے دستبرداری کا اعلان کریں گے، جس کے بعد کراچی بار اپنی درخواست واپس لیں گی۔

اس معاملے میں ایک نئی رائے آ گئی ہے۔ اس وقت اب بھی کسی ایسے معاہدے پر بات چیت کرنے کی کوشش جاری ہے جس کے تحت میاں علی اشفاق کو رجب بٹ کے وکالت لائسنس پنجاب بار کونسل نے معطل کیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ مقدمہ سٹی کورٹ ہائی کورٹ میں درج تھا اور اس کے بعد یہ تنازعہ سامنے آیا تھا۔ اب کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس معاملے کو اچانک حل کر دیا جائے۔

اس لیے میاں علی اشفاق کی طرف سے مقدمات سے دستبرداری کے بعد معاملہ ایسا ہی رہے گا جس پر ہم سب اتفاق کرتے ہیں۔
 
🤣 مایا علی اشفاق کی جانب سے مقدمات سے دستبرداری کے بعد ان کے لئے نہ صرف ایک رائے آ گئی بلکہ ایک ڈرامہ بھی :p📝
 
اس تنازعہ میں کوئی بھی جان نہیں دے سکتا کہ اس میں کوئی ایسی شراکت ہے جس کی وہ سب انکار کریں گے؟

میڈیا میں یہ بات چیت نہیں ہو رہی ہے کہ میاں علی اشفاق کو سٹی کورٹ میں جس کھلافت کی وہ آئیں گے وہ کیسے بنائی گئی تھیں؟ اور اس کھلافت کا مقصد یہ نہیں، بلکہ ان کو کراچی بار سے تنازعہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہوگی؟

میں سوچتا ہوں کہ اس معاملے میں ایک جھوٹا معاہدہ لگایا گیا تھا جو اب تک چل رہا ہے اور اب تک اس پر کوئی ادراک نہیں کیا ہوگا۔
 
اس معاملے میں کسی بھی نئے رول پلے کی لگن نہیں ہونی چاہیے، انساف کے لئے سمجھوتے اور بات چیت ہونا چاہیے تاکہ اس معاملے کو حل کیا جا سکے۔
 
جنوبی پاکستان میں یہ تنازعہ اتنا نئی بات نہیں تھی کہ اس کو حل کرنا مشکل بھی نہیں تھا۔ لیکن اب یہ معاملہ ایسا ہو گیا ہے جیسا کوئی چاہتا ہوا اس کو حل نہیں کر سکا۔

جب میاں علی اشfaq نے کراچی بار سے تنازعہ شروع کر دیا تو بھاگتے جھگتے ان پر گریفز دالنے والوں نے وہ اس پر بہت زیادہ جسٹس ملا، لیکن اب وہی معاملہ ایسا ہو گیا ہے جیسا وہ چاہتے تھے۔

جب تک میاں علی اشفاق کی طرف سے مقدمات سے دستبرداری کا اعلان ہو گا، اس معاملے کو حل کرنا مشکل ہی نہیں گیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایسا ہونا چاہیے۔
 
جب تک میاں علی اشfaq اپنی مداخلت کی وکالت کرے گا تو اس تنازعے میں کوئی حل نہیں آ سکتا، کیونکہ ان کا مقصد صرف ایسا ہی ہے جیسا وہ بھی رکھتے ہیں۔ اس کے بعد یہ معاملہ اس طرح ہوتا جاتا ہے جو اس کی حقیقی شکل کو ظاہر کر دیتا ہے۔
 
اس معاملے میں کوئی نئی بھی بات نہیں آ رہی، صرف ایک اور فائن کھیل آ رہا ہے! میاں علی اشfaq کی طرف سے مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کرنا تو ضروری تھا لیکن اس پر بھی کوئی نہیں چاہتا کہ اس معاملے کو اچانک حل کر دیا جائے، حالانکہ ان کی طرف سے فینٹسٹک فیصلوں سے ہم سب محروم ہیں!
 
میں یہ سوچتا ہوں کہ اس تنازع میں جو بات چیت کی جا رہی ہے وہ کھل کر آئیں تو نہیں، جو بھی بات چیت ہوتی ہے اس میں کوئی مفاد کا تعلق نہیں رکھتا، یہ صرف ایسے معاملوں میں نایاب مواقع بنائیں جیسے نہیں بنے، مگر اب میاں علی اشفاق کی بھی کوئی طرف سے مدد نہ ہونے پر وہاں کے وکلاوں کو ایسا لگ رہا ہے جیسے ان کے پاس بھی کوئی اور معاملہ ہو۔
 
یہ تنازعہ ابھی بھی نہیں تھامتا۔ اس کا ایک اور موڑ آ گیا، اور اب یہ سچ میں نہیں ہوگا کے رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کو کوئی معاملہ سمجھ کر حل کر دیں گے۔ یہ ایسا نہیں رہے گا، اور اس کا مطلب ہوگا کے وہ اپنی سٹرائیک کو دوبارہ شروع کریں گے اور کراچی بار کی ایسی ہی رہنمائی کرنے والی شخصت سے بات چیت کریں گے جو انہیں ابھی بھی وکالت کا اعزاز حاصل نہیں ہوا ہوگا۔
 
میں اس تنازعے کو پورا سمجھ نہیں سکتا… میں دیکھتا ہوں کہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے لئے سب سے بڑے بننے کی کوشش کرتے ہیں… میاں علی اشفاق بھی اس طرح ہیں… ان کے پاس ایسے معاملات تھے جو اب ان کو ایک مشکل موڑ دی گئی ہے… میرا خیال ہے کہ انہیں اپنی غلطیوں سے سچائی پانے کی ضرورت ہے۔
 
میں سے جو لوگ میاں علی اشفاق کی طرف سے مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کرنے والے ہیں انھیں چٹکا لگ رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ایسا ہی نہیں ہون گے۔ آپ کو یہ سچ مچ بھوتا ہوگیا ہوگا کہ اب بھی انھیں کسی معاہدے پر بات چیت کرنے کی کوشش کرنا پڑے گی اور ایسے میں انھیں اس معاملے کو حل کرنے کے لئے مجبور کیا جا سکتا ہے۔

آج کے وقت کراچی بار اپنی(request) واپس لی گئی ہوگی اور میاں علی اشفاق اپنے مقدمات سے دستبرداری کر دیگا تو اس معاملے کو حل کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔
 
اس تنازعہ میں ایک نئی ماحول پیدا ہو گیا ہے اور یہ کہا جائے گا کہ اس میں کوئی بھی طرف سے حتمیت کی جگہ نہیں ملا سکتی ۔ میاں علی اشفاق کے وکیل بننے اور رجب بٹ کے معاملات میں کام کرنے سے ان دونوں کے درمیان کچھ نئی تازگی پیدا ہوگئی ہے۔
 
اس نئے تنازعہ میں، میرے لئے اہم بات یہ ہے کہ اسے کیسے حل کیا جائے گا? کراچی بار کی ایک گروپ نے اپنے بڑھتے ہوئے تنازعہ سے کچھ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی، لیکن اب اس کا معیار توسیع کو حرم رکھنے والے ایسے شخص میں تبدیل ہو گیا ہے جس نے اپنی وکالت لائسنس کو چور پلوں سے بدل دیا ہے!
 
یہ تنازعہ تو زیادہ نہیں ہوا اور اب یہ دوسراRound ہو رہا ہے، میاں علی اشفاق کے لئے یہ سب ایک چھلنی ہے، وہ لوگ جو اسے چھوڑنے کا سچا مطالبہ کرتے ہیں ان کے لئے بھی یہ صرف ایک ایک گیم ہے، اور میاں علی اشفاق تو ایسا نہیں ہوتا کہ وہ ایسے سے چلوں، وہ اب بھی رجب بٹ کے ساتھ اس تنازعہ میں ڈالے گا اور اس میں سے بھی فائدہ اٹھائے گا
 
تمین نے یہ سوچنا چاہئے کہ میاں علی اشفاق کی اور رجب بٹ کے وکیلوں کے درمیان کیا تنازعہ ہوا، اب ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ صرف ایک دھلچسب معاملہ ہی تھا۔ مگر نہیں تو ان دونوں کا تعلق کراچی بار سے بھی ہوتا ہے، اور اب وہ اپنے زیر توجہ مقدمات سے دستبرداری کا اعلان کرنے کے لئے سامنے آتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ جب تک ان کے معاملے کو حل نہیں کیا گیا اور وہ اپنی جان جھیلنے کے لئے دھمکیاں دیتے رہتے ہیں تو ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔
 
جھگڑوں اور تنازعات سے نکلنے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو پہلے ان کی خواہشوں کی توجہ دی جاتی ہے، لیکن اب وہی کھیل سچنے پر آئے ہیں جو سچنے سے پہلے چھپایا گیا تھا۔ اور یہ تنازعہ اب ایک سیاسی منظر نامہ بن گیا ہے جس میں سب کو اپنی طرف مڑنا پڑا ہے، اس لیے یہ بات بھی یقینی نہیں کہ تنازعہ حل ہو گا، بلکہ یہ ایک طویل مسلسل رہی گا جس میں کسی کی طرف سے جواب دینا ضروری ہوگا۔
 
تھوڑا سا دیر پکڑ کر میں بھی یہ نہیں سُنا چکا تھا کہ رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق کی کیا مہم ہوگی؟ یہ منسلک ہونے پر اس تنازع میں ایسا نئی زندگی آ گئی ہے جو میں نہیں چاہتا تھا :(. واضح رہے کہ جیسا حالات تھے وہی حالات اور اس پر ایسا حل نہیں ملے گا جس پر ہم سب بات کر سکیں گے
 
میں تھوڈا سوچ کر بھی سونے کو چاہتے ہوں نہیں؟ اب میاں علی اشفاق اور رجب بٹ کے درمیان کیا یہ تنازعہ اس لئے ہوا کہ وہ کیسے کھیل سکتے تھے جو ایک بار ختم ہو چکا تھا؟ اور اب ان دونوں کی جانب سے ایسے معاملات بھی سامنے آتے ہیں جیسے یہ ان کو کچھ لاکھ روپئے مل گئے ہوں، نہ تو میرا خیال ہے اور نہ ہی اور؟
 
یہ تنازعہ تھوڑا بھی ہوا تو اچانک نکل کر کھل کر بات چیت کیا گیا، اب اُسٹی سٹی کورٹ میں جس طرح ایک نئی رائے آ گئی ہے وہی رائے اُن کی طرف سے بھی پڑھی جا سکتی ہے، میاں علی اشفاق کے لئے جو ایسا ہوا تھا وہ اب کراچی بار کو نہیں ملتا، اُن کی طرف سے آئی گئی اور پہلی رائے ایسی ہی اُن کی طرف بھی لائی جا سکتی ہے۔
 
واپس
Top