کراچی، عید گاہ پولیس کا پیٹرولنگ کے دوران ڈکیتوں سے مقابلہ، 2 ملزمان زخمی حالت میں گرفتار | Express News

ایس ایس پی سٹی کی یہ نews تھوڑا دیر پہلے ہی شہر کے ڈسٹرکٹ پولیس پر چیلنجز لگا دیا تھا، اب یہ بات صریح طور پر سامنے آ رہی ہے کہ انہیں لوٹ مار کرنا جاری ہے اور شہر میں سڑکوں پر زور دیکھا جا رہا ہے…


آج بھی ڈسٹرکٹ پولیس نے یہ کہی رہا تھا کہ وہ شہریوں کی سرگرمیوں کو دور کرنے اور برتیشری کی راہ میں قدم رکھتا ہے، لیکن یہ بات صریح طور پر سامنے آئی کہ وہ خود ایسے لوٹ مار کر رہے ہیں جو انہوں نے اپنے شہر کو برتیشری کی راہ میں قدم رکھنے سے روکنا چاہتے ہیں


چرہ آسمان سے دیکھا جائے تو یہ بات صریح طور پر سامنے آئی کہ ضلع کے پہلے اور پہلے کو چلا کر شہر میں ہونے والی ایسی گھٹنے کی وہ خود بھی مرتکب تھے، جو اب وہ لوٹ مار کر رہے ہیں…


فورچر کا پہلوان میڈیا کو یہ بات بھی بتای گیا ہے کہ شہر کی پولیس نے گاہیلا میں اسٹیل مارکیٹ سے لے کر نشتر روڈ تک تانہ پترون کے دورے پر کیا ہوگا، لیکن یہ بات صریح طور پر سامنے آئی کہ وہ ایسے لوٹ مار کر رہے ہیں جو شہر میں ایک چھپا تھا...


ایس سے بہت کچھ لگے کہیں بھی یہ بات صریح طور پر سامنے آئی کہ ضلع کے پہلے اور پہلے کو چلا کر شہر میں ہونے والی ایسی گھٹنے کی وہ خود بھی مرتکب تھے، جو اب وہ لوٹ مار کر رہے ہیں…


اس بات کو نظر انداز نہ کیا جا سکتا کہ انہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ضلع کے پہلے اور پہلے کو چلا کر شہر میں ایسی گھٹنے کی وہ خود مرتکب تھے، جو اب انہوں نے ایسے لوٹ مار کر رہے ہیں جو انہیں اس کا شکار بناتے ہیں…


اس بات کو نظر انداز نہ کیا جا سکتا کہ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے شہر میں ایک چھپا تھا، جس پر اب وہ لوٹ مار کر رہے ہیں…


اس بات کو نظر انداز نہ کیا جا سکتا کہ یہ بات بھی صریح طور پر سامنے آئی کہ ضلع کے پہلے اور پہلے کو چلا کر شہر میں ہونے والی ایسی گھٹنے کی وہ خود مرتکب تھے، جو اب وہ لوٹ مار کر رہے ہیں…
 
یہ تو دیکھنا ہی بہت سا اچھا نہیں ہے کے پولیس نے دو دکیتوں کو گرفتار کر لیا ہے، لेकن پوری بات کیا ہے؟ ان دو دیکیتوں کی جگہ ملازمین اور ان کے ساتھ منسلک افراد کبھی نہیں ہوتے یہی کہ پوری تھانہ پیٹرولنگ میں فائرنگ شروع کر دی ہوئی اور دو ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے، اس کی واضح وجہ نہیں پاتی اور یہ سب کچھ ایک سے بڑھ کر اور بڑھ کر ہو رہا ہے۔
 
یہ حالات گھبراہٹ دیتے ہیں، پولیس کی جانب سے لوٹ مار کیا جارہا ہے؟ اس طرح کی حوالہ دہیوں میں نہیں، یہ تو وہی ہوتا جو وہ چاہتے ہیں۔ حالات ایسے بھی سائنچ ہونے چاہئیں کہ کوئی معقول نتیجہ حاصل ہو، نہ تو شہریوں کی جان و مال پر انہیں تھم کیا جائے اور نہ ہی انہیں ایسے حالات میں لانے دوں جو فائرنگ کا باعث بن سکیں۔ پلیٹوں کو ضروری ہوتا ہے کہ وہ اسے ایک کارروائی کی طرح دیکھیں، نہ اس کی طرف توجہ دیں اور شہریوں کے ساتھ منافقت رکھیں۔ اس کی بجائے، وہ ہر وقت ان پر لاکھ لاکھ کے درجہ پہنچانے چاہئیں اور انہیں ایسی کارروائیوں میں شامل کرائیں جو شہریوں کی یقینیات کو بھر دیں۔
 
عید گاہ میں سارے لوگ ایسے ہی پائے جاتے ہیں کہ وہ جھٹکے دیتے ہیں اور اس لئے کوئی بھی گریجویشن کرتا ہے؟ اب ڈسٹرکٹ سٹی پولیس نے یہیں ایک دیکھتے ہی فائرنگ شروع کر دی ہے اور اب سارے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ وہ کس کی جہالت ہے؟ ایک بار پھر ایسی حालत کبھی نہیں کیا گیا، لیکن اب یہ پتہ چلتا ہے کہ ملزمین کو بے روزگاری کی وجہ سے یہ اچھی سے نہیں پٹی تھی؟ 🚔
 
واپس
Top