اللہ تعالیٰ! پاکستان ایک ملک ہے جو اور سے مہنگائی کا شکار ہے، یہ کس قدر معیشت میں بھرپور نقصان کا باعث بن رہی ہے، جبکہ لوگ اس سے بچنے کی کوئی سہولت نہیں دیکھتے ۔ یہ سماج ایک طرح سے تباہ ہو رہا ہے، جس کے لیے کبھی بھی حل کا راستہ نہیں ہوگا ۔ اس ملک میں لوٹ اور لین دेन کی پھرتی ویل کو کیسے ختم کیا جائے گا؟
مہنگائی ایسے ہی ہے جیسے انسان کے دماغ پر بھارپور چٹان لگا دی جائے، اس سے پورا ماحول متاثر ہو رہا ہے، اس کو دیکھتے ہی انسان عقل سے محروم ہوتا ہے اور اپنی جانت و سمجھ میں توٹ جاتا ہے، بڑے پیمانے پر معاشرے کو ان کے دوسرے تمام ارکان جیسے تعلیم یافتہ لوگ اس سے متاثر ہوتے چلے جانے لگتے ہیں اور ایک طالب علم اپنی جگہ پر بیٹھ کر وغیرہ کا کام نہیں کرسکتا، اس طرح مہنگائی کے باعث یہ معاشرے بھی ان کی جگہ سے اٹھتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔
اس ملک میں مزدور کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی روزانہ اجرت پر کام کرنے کے بعد اچھی نالیوں سے گزرتے ہوئے پورا جسم اور دماغ تباہ رہتا ہے، لیکن اس کے بعد وہ ایک دوسرے شخص کو بے دردی سے مارتا پیٹتا ہے اور ان پر شریعت کی نیند میں جھمکی رہتے ہیں، یہ لوگ جس کے پاس ایک نان بھی نہیں، وہ دوسرے لوگوں کو مل کر ایک نان کھاتا ہے، اور اس طرح مہنگائی کی وجہ سے پورا سماج تباہ رہتا ہے۔
یہ تو بے حد گمراہ کن ہے، لوگ اپنے آپ کو یہ بات کے لیے مجبور کرتے ہیں کہ وہ مہنگائی کا شکار ہو کر کام نہیں کرسکیں اور وہ اپنے آپ کو توٹا پھرا دیتے ہیں، ایک شخص جسے یہ بات بے یقین لگتی ہے اس شخص کو بھی یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے محروم ہو کر کام نہیں کرسکیں۔ یہ سماج ایک طرح سے تباہ ہو رہا ہے، اس کی وجہ سے لوگ اپنی جانت اور سمجھ میں توٹتے ہیں اور وہ ایسے کام کرتے چلے جاتے ہیں جو انہیں اچھا نہیں لگتا۔ ہر شخص اپنے آپ کو یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر نہیں رہ سکتا، اور اس طرح وہ تباہ موقف میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔
ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ معاشرہ ایسا ہو سکتا ہے نہیں جو لوٹ اور لین دेन کی پھرتی ویل کو ختم کرسکے؟
یہ وہ ایک معیشت ہے جس کا بھی کوئی حل نہیں دیکھ سکتا، لوگ اچھی نالیوں سے گزر کر آپ کی طرح تباہ رہتے ہیں، مزدوروں کا حال یہ ہے جس سے آپ کو گھبراہٹ لگتی ہے… مہنگائی ایک بھارپور چٹان جو دماغ پر لگ کر ماحول کو متاثر کرتا ہے، اس سے لوگوں کی جانت و سمجھ میں توٹ जاتا ہے اور معاشرے بھی ان کے دوسرے ارکان سے باہم چلتے ہیں…
مہنگائی کا یہ دباؤ ہمیں اپنے گھروں میں بھی پہنچتا ہے، میں تازہ ترین سٹریجک ٹاپنگ کی پہلی لین ہی نہیں کر سکta, کیا پورا گھر جاسوسوں سے بھرا رہا ہوگا؟ میرے دو بچوں کے اسکول کی بکنگز کی منصوبہ بندی تو کیسے کرونےگی، کیا وہ پورا ماحولیاتی نظام نہیں توٹ جائے گا؟
مہنگائی کا یہ زحم کس حد تک پھیل سکتا ہے، اس سے کوئی بھی معاشرے متاثر ہو گیا ہے اور لوگ اپنے آپ کو سمجھ کر کہتے ہیں کہ یہ کیسے پورا ختم کیا جائے؟
اس ملک میں لوٹ اور لین دेन کی پھرتی ویل ایسے ہی ہے جیسا کہ ایک گھنٹہ بھری لپیٹ میں ڈال کر اسے نہا لیا جائے، یہ پھرتی ویل کبھی نہیں ختم ہوسکتی، لیکن اس سے باہر جانے کے لیے لوگوں کو ایک دوسرے کی مدد سے نکلنا پڑتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ معاشرے پھیل رہے ہیں
جس کا معیار زندگی میں ایک نان کی قیمت ہے وہی معیار زندگی ہو گیا ہے، لوگ اپنے آپ کو سمجھ کر کہتے ہیں کہ یہ کیسے پورا ختم کیا جائے؟
مہنگائی سے متاثر ہونے والا معاشرہ اس کے ساتھ ہی ہوتا ہے اور لوگ اپنے آپ کو سمجھ کر کہتے ہیں کہ یہ کیسے پورا ختم کیا جائے؟
ਕੀ ہوا ہے؟ یہ لیکھا کچھ دیر سے نہیں ہوا ہے، مہنگائی کے شکار ہونے کی بات کروڈ۔ پوری دنیا ایسے ہی ہے، ہر ملک میں یہی مسئلہ ہے، اور ابھی ایک لاکھ روپئے میں پیسے کھانے جاتے ہیں، یہ تو بہت ہی دوسرا دuniya کی معیشتوں پر بھی زور ڈالتا ہے।
پاکستان میں مہنگائی ایک خطرناک بیماری ہو رہی ہے جس کا حل نہیں پاتے دیکھتے ہیں، یہ لوٹ اور لین دेन کی پھرتی ویل کو ختم کرنے کے لیے کوئی منصوبہ نہیں بنایا جا رہا ۔ مہنگائی کے باعث انسان کا دماغ تباہ ہو جاتا ہے، اور اس سے معاشرے میں بھی ان کی جگہ ہٹنے لگی ہے۔ مزدور لوگ اپنی روزانہ اجرت پر کام کرتے ہوئے پورا جسم اور دماغ تباہ کرلیں ڈالتے ہیں، اور اس کے بعد وہ دوسرے لوگوں کو بھائی چارے سے مار پیٹتا ہے، یہ بھی مہنگائی کی وجہ سے ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں سماج تباہ ہو جاتا ہے۔
اس ملک کی معیشت بھی مہنگائی کے باعث نقصان کی طرف ختم ہوتی رہی ہے، لوگ اس سے بچنے کی کوئی ایSI سہولت نہیں ملتی جو انہیں مہنگائی کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھ سکے۔
اس لیے، یہ ضروری ہوگا کہ اس ملک میں لوٹ اور لین دेन کی پھرتی ویل کو ختم کرنے کے لیے ایسی منصوبے بنائے جائیں جو معاشی استحکام کی طرف ہتھیار بوسوں سے لاتے ہیں اور لوگوں کو مہنگائی کے تباہ کن اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
مہنگائی کی وہی طرح پڑتال ہو رہی ہے جیسا کہ میرے دوسرے ساتھیوں نے اس سے پچاس سال قبل کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ اب بھی اسی طرح سے گھروں میں بیٹھ کر کھانے والوں کا مشورہ لیتے چلے جاتے ہیں، مگر وہ ایک نئی کفیل کو کھینچ رہتے ہیں اور اس سے اپنی مدد کرتے چلے جاتے ہیں. یہ بھی دیکھنا کہتا ہے کہ لوگ اب بھی وہی ماحول بھی رہن سہن کر رہتے ہیں جس نے انھیں صدیوں سے خراب رکھا تھا، مگر یہ کبھی واضح نہیں ہوتا کہ کس طرح ایسی پریشانی کو حل کیا جائے گا.
ਮੈਨੂੰ یہ خبر ہی نہیں لگ رہی کہ مہنگائی پاکستان میں کس قدر تباہ کن ہو چکی ہے. لوگ اپنے ہمیشہ سے بھگتے ہوئے معاشرے کا پورا تجربہ ختم کر رہے ہیں اور ان کی زندگیوں کو ایک سے زیادہ بدترین صورت میں دے رہے ہیں.
اس معیشت میں بھرپور نقصان کا باعث بننے کے بعد لوگ اس سے نجات کے لئے کوئی محفوظ طریقہ نہیں جانتے ہیں.
مہنگائی پوری زندگی مہلک اور تباہ کن ہونے کا باعث بنتی ہے جس سے لوگوں کی ذاتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے.
یہ معیشت ایسے ہے جس میں لوگ اپنی معیشت سے بھاگتے چلے جاتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں یہ تباہ ہو رہا ہے؟ میرے خیال میں اس کو حل کرنے کی سہولت سے محروم ہونے کے بعد بھی لوگ ابھی اسی معیشت کو دیکھ رہے ہیں؟ کیا انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ معاشی نظام اس طرح سے لگا دیا گیا ہے تاکہ وہ لوگ جسے اس میں اپنا کام بنانے کی اجازت دیتے ہیں وہ اسی معیشت کو دیکھ رہے ہوں؟ میرا خیال ہے کہ لوگوں کو اس معاشرے میں اپنی جگہ سے باہر چلے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، یہ ضروری ہے کہ ہم انھیں سمجھنے کی کوشش کریں کہ معاشی نظام بھی ایک ماحولیات ہے اور اس میں بھی ایسی بات ہوتی ہے جس سے ہر کے لیے خیر نتیجہ ہو۔
اس ماحول میں رہنے والوں کے لیے ایک اچھا سسٹم بنانا بہت مشکل ہوگا، لیکن انہیں اپنی معیشتوں کو تبدیل کرنا ہوگا، اس لیے کہ مزدور کی اجرت کو نہیں کم کرنا چاہئے بلکہ وہ اپنے کاروبار اور مشاغل کی بنیاد رکھنی چاہئیں، اور ان کے لیے ایک نوجوان کی طرح دھندلے سسٹم میں سے ہونے سے بچنا چاہئے।
یہ واقفہ بھی تو ہمیں کچھ نہ ہوگا، مہنگائی کی وجہ سے لوگ اپنی زندگی کس معیار پر رہتے ہیں، یہ تو ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن ہمیں اس پر بھرپور غور کرنا پڑتا ہے اور اس سے نمٹنے کی کوئی سہولت نہیں دیکھی تو کیا چال چلائی جائے؟ @PSL @FBR
یہ بھی لگتا ہے کہ یہ ملک ایسا ہی رہے گا جب تک لوگ اس کی معیشت سے بھاگنے کے لیے کوئی راز نہیں دیکھتے، اور وہاں کی پالیسیMaking کو ایسا ہی سمجھتے ہوں جو کہ ملک کی معیشت کو بھرپور نقصان پہنچاتا رہے گا، اور یہ لوٹ اور لین دेन کی ویل ایسے ہی چلے گی جیسے یہ ملک ایک تباہ ہو جانے والا ہی سمجھ رہا ہو,
اس سے پہلے بھی یہ کہ لوٹ اور لین دेन کی ویل ایسے ہی تھی جو کہ اس ملک کے معاشرے کو بھی تباہ کر رہی تھی،
جب تک یہ سچائیوں سے غافل نہیں رہتا یہ ملک کی وapasت۔
یہ مہنگائی سے پاکستان کو اٹھانے کا راستہ نہیں دیکھتے لوگ تو ہی بھرپور problem. مہنگائی انسان کے دماغ پر بھی پریشانی پڑاتी ہے، اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے لیکن اس کو حل کرنے کا راستہ تو ہمara sawal hai.
سکول میں بھی مہنگائی کی وجہ سے طالب علم اپنی جگہ پر بیٹھ نہیں سکتی. ایک دوسرے سے مل کر ایک نان کھاتا ہے تو یہ معاشرے کا اور مہنگائی کی وجہ سے وہ اچھی نالیوں سے گزرتے ہوئے تباہ ہوجاتے ہیں.
عہد حاضر میں پاکستان کی معیشت ایک بڑا نقصان کا شکار ہے , مہنگائی نے اس ملک کو ایک اور سے تباہ کر دیا ہے، لوگ اپنے فٹ پوری پالیس پر کام نہیں کرسکتے، سب لوگ ایک دوسرے کی رینج میں ہیں، مزدوروں کو بھی اس میں تباہی دیکھنی پڑتی ہے، انہیں روزانہ کم اجرت میں کام کرسکنا پیٹا پڑتا ہے، وہ اپنے جسم کو بھی تباہ کر دیتے ہیں اور بعد میں دوسرے لوگوں پر شریعت کی نیند میں جھمکی رہتے ہیں، یہ تو بھارپور کہوتا ہے!
یہ سب غلط ہے! Pakistan ka economy toh bahut bura ho gaya hai, lekin yeh kehna mushkil hai ki yeh ek naya disha dene ke liye koi samadhan nahi hai. Muhangayi se kis tarah humara samaj toota jaa raha hai? Yeh bata sakte hain kyu?
یہ واقفہ بہت چرچا ہوا کیا ہے، مہنگائی کو کبھی حل نہیں ملے گا۔ اس سے دو sided نقصان ہو رہا ہے، پہلے لوگ جھٹپھول کر رہے ہیں اور دوسرے تو انہیں ماری رہے ہیں، یہ ایک ایسا دور بھی ہو گیا ہے جہاں لوگ اپنی لپٹ سے باہر آ کر کچھ نہ کچھ کھیل رہے ہیں، اور اس میں انہیں بھی کوئی پہچان نہیں ملتی ۔ اس لیے یہ سماج ایک طرح سے ختم ہو رہا ہے، اور اس کا جواب وہی ہوسکتا ہے کہ سبھی کو ایک نان کھلنا پڑے اور لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے لگین، لیکن یہ بھی مشکل ہو گا کہ کسے مل کر ایک نان کھانا پڈھا؟
मہنگائی ایسا بڑا مسئلہ ہے جو Pakistan میں ہمیشہ سے موجود ہو رہا ہے، لیکن اب وہ پورے ملک پر چڑھ رہی ہے، کچھ لوگ اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ Pakistan میں معاشی نظام کا ہلچل لگا دیا گیا ہے، اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ مہنگائی کا باعث ملکی حکومت کی گہری ناکادھی ہو رہی ہے ، ابھی پہلے لوگ سایڈ ایکشن میں دھلے اور بھارپور مہنگائی کے ذریعے بے گزنی کی وجہ سے زیادہ دیکھتے تھے، لہٰذا ہمیں اس پر فوری کارروائی کرنے کی zarurat ہو گی، جس سے لوگوں کو معاشی کامیابی حاصل ہوسکے اور انki بچپن میں بھی مہنگائی کا گہرا اثر نہیں پڑے۔
پاکستان میں اب ہمیشہ تو کچھ نا کچھ کیوں ہوتی ہی رہتی ہے، مہنگائی نہیں تو چلی گئی ، اور اب یہ تو سماجی تباہی کا دور ہے، لوگ ایک دوسرے پر پھر رہتے ہیں، مزدوروں کو بھی معاشرے میں اس جگہ کی ضرورت نہیں، وہ بھی جس سے مل کر نان کھاتے ہیں، پتا چلتا ہے کہ انہیں یہی سمجھائیں گے کہ اب ایک نان کے لیے وہ اپنا دماغ بھی نہ بھر سکیں، اور ایسا ہی کیا جائے گا ؟