بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور برفباری کا ایک اور اسپیل داخل ہوگا جس کی وجہ سے موسم مزید سرد ہو گا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آگست میں بارش اور برفباری کا دوسرا اسپیل آئندہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ انبارشوں کی وجہ سے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
محکمہ پی ایم ایڈا نے متعلقہ اضلاع کو رٹ جاری کر دیا ہے اور پی ایم ایڈا اور این ایچ ای کی ہیوی مشینری عملے کے ساتھ قومی شاہراہوں پر موجود ہے۔
ترجمان پی ایم ایڈا کے مطابق، کان مہترزئی، کوڑک، لکپاس، زیارت روڈ سمیت مختلف مقامات پر برف ہٹانے والی مشینری اور عملہ موجود ہے، عوام قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
پی ایم ایڈا اور این ایچ ای کا عملہ قومی شاہراہوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہے۔
میں سوچتا ہوں کہ یہ پھر ایک بار ندی نالوں پر روت آئے گی، تو یہاں سے ہی بڑا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ سب کچھ اچھا ہوسکتا ہے لیکن ندی نالوں پر روت آئے تو وہاں سے ہی ہوا مائکے ٹرافیک پلیٹ کھونے کی تیز pace بھی شروع کر دی جائے گی۔
یہ دیکھنا منفی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے ، اس سے بڑی سے بڑی نادیں نہیں لگ سکتیں ۔ اور ندی نالوں کو برف پھنکی دینا مشکل ہوسکta ہے ، اس لیے ہم اس سے نمٹنا چاہئیں تاکہ ندی نالوں میں انہی طغیانی کی صورتحال موجود نہیں ہوسکے ۔
یہ خبر تو ہر کوئی سن رہا ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بارش اور برفباری مزید بڑھنے کا امکان ہے! یہ بھی دوسرا اسپیل آئیے گا جس سے موسم مزید سرد ہو گا... کیا ہوا نہیں؟ اس طرح تو ہر سال کی طرح ایک نئی برفباری کا ماحول ہوا دیا گیا، یہ بھی جواب ہے! پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے... اور پھر کیا اس کے لیے آپریشن ہوا دیا گیا؟
یہ بھی بھیگا کے لئے! مزید بارش اور برفباری، تو پھر کوئیتھ سے لوگ نکل کر سٹریٹس میں رہنے کے لئے بیٹھتے ہیں... چاہے بچوں یا خواتین، ان سب کی پناہ ایک دوسرے کے پاس ہے۔ میرا خیال ہے، یہ وقت ایسا ہے جب ہمیں ایک دوسرے سے بے حد محنت کرنا پڑتا ہے، لیکن ہم یہ کھیلا کھیلنے کو نہیں چھوڑتے۔
بارش اور برفباری کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے؟ یہی نہیں، موسم کو تیز کرنے والی بارشوں سے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی ہوسکتی ہے! مظلوم لوگوں کو یقینی بنانے کے لیے پی ایم ایڈا اور انبارشری کے لئے تیز کارکنوں کی ضرورت ہے। جب تک یہ کام نہیں تو سڑکوں پر برف پڑنے کی صورتحال بھی ہوسکتی ہے، جو سفر کو تیز کر دیتی ہے اور سڑک کے مینوں کو خراب کر سکتی ہے!
کیا یہ نہیں کہ وہ لوگ جو 20 سال قبل آئے تھے اور اب واپس آ رہے ہیں، موسم کی وجہ سے سٹریٹس پر برف ہٹائیں۔ اس وقت کا یہ مشن کتنا بھی انتہائی نا ضروری ہے۔ میرے خیال میں پہلا اور سب سے زیادہ مشکل کام موسم کی پیش گوئی کرنا ہوتا ہے۔ یہ لوگ چھوٹی سی غلطی بھی کرتے ہیں تو انibar showers اور برفباری میں میری زندگی بھی دھمکی سے نکل جاتی ہے.
"صبر کرنا ایسا ہے جیسا کہ سمندر کو پھیلنا ہوتا ہے۔"
بڑی سے بڑی بارشوں اور برفباریوں کے ساتھ ہوا دے رہا ہے، جو لوگوں کی زندگی کو بھی گھٹا دیتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کے لیے سارے مقامات پر رٹ جاری کر دی گئی ہے۔ عوام کو قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں، نہیں تو برف ہٹانے والی مشینری کے لیے لگنا پڑے گا!
یہ دیکھنا ہی بہت زیادہ خطرناک ہے کہ یہ بارش اور برفباری مزید بڑھ جائی گئی ہے، ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، ایسا کیا کرونا چاہیے؟ میرے خیال میں یہ بارش اور برفباری بھی ایک سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ پہلے ندیوں سے طغیانی ہوئی، اب ان کے پاس اس کی وجہ سے مزید برف اور بارش ہو سکتی ہے۔ عوام کو یہ بھی بات قابل ذہن ہے کہ لوگ قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر نہ کریں، میرا خیال ہے کہ یہ پورے ملک کی سڑکوں پر برف ہٹانے میں مصروف ہونا بھی ایک اچھی Idea ہو گی۔
ایسے بارش اور برفباری کی شدت کو دیکھتے ہی لوگ اپنے گھروں کا بڑھاوا کرنا چاہتے ہیں لیکن پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں آندھی ہونے کی صورتحال تو ایسی ہے۔
جی اور وہ دوسرا اسپیل اگست میں کس وقت شروع ہونا چاہیے، لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں تک پہنچانے کے لیے یہ سب پر کام کر رہا ہے۔
آپ کی کوشش کے لیے پی ایم ایڈا اور این ایچ ای کا عملہ اس کی دیکھ بھال کر رہا ہے، لیکن عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
یہ وہ مدت ہے جب بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت سب کچھ بہت پریشانیوں سے دوچار ہوتا ہے، بارشوں میں اضافہ اور برفबاری کی شدت مزید بڑھتی جائے گی۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع پر نئی بارش اور برفباری کا ایک نئا اسپیل ہوگا، جو موسم مزید سرد بنائے گا۔
موسم کی اس تبدیلی سے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں بھی طغیانی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے، جس کا پورا اثر نچلے علاقوں پر ہی نہیں چھوگے گا۔
اس لیے عوام کو اپنے سفر سے حذر رہنا ہو گا، اس لیے جس کو سंभاوہ نہیں کیا جا سکا وہ سے بھی حذر رہنا ہو گا۔
یہ سب کوئیت نہیں ہے، موسم کی بات کرنے والوں کو سوشل میڈیا پر بھاگتے ہیں اور لوگ اچھا تو اچھا کرتے ہیں پھر اور اور بارش ہوتی چلو… بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں موسم مزید سرد ہوجانے کی بات ہے، یہ وہی معاملہ ہے جس کا فائدہ لوگ اپنے گھروں پر لیے کرتے ہیں، سڑکوں پر برف اٹھانے کا عملہ تھوڑا سا نکل گیا تو کیا ان کو موسم کی خبر نہیں؟ عوام کو کچھ دیر پہلے ہی اپنے گھروں پر چلو کر رکھنا چاہئے، ندی نالوں میں طغیانی سے پہلاڑی علاقوں میں کیسے نمٹیں؟ سب کو ایسا ہی ہونا چاہئے۔
اس بارش اور برفباری کی situation کو دیکھ کر मुझے لگتا ہے کہ ندی نالوں میں پانی کا جھرنا ایک بڑی problem ہے! ابھی تو پانی کا سلسلہ ختم ہونے کا situation ہوتا ہے، اور ابھی آگے یہ برفباری کی reason بن جائے گا?
محکومہ کو اس situation کو منظر عام پر لینا چاہئے، بچوں اور عارضہ شدہ لوگوں کے لئے special measures لينے کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ information milنے کی जरوریت ہے کہ کون سے مقامات پر برف ہٹانے والی مشینری موجود ہے، اور قومی شاہراہوں پر غیر ضروری سفر سے گریز کریں!
بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کی مختلف علاقائیں بھی اتار چٹانی میں پھوس رہی ہیں اور موسم مزید سرد ہوتا جانا چاہئیے۔ اس لئے نہ صرف لوگ اپنے گھروں کے اندر ساتھ ہونے والے پانی کا استعمال بھی زیادہ کرنا چاہئیں بلکہ پہاڑی علاقوں میں بھی ندی نالوں پر سہی سہانہ رکاوٹ نہ رکھنی چاہئیے۔
بہت مुशکلی حالات آ رہی ہیں، پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے اور عوام کو کافی مہنگا رقم خرچ کرنی پڑ سکتی ہے اس وقت جب ندی نالے بھرنے میں problem ہو رہی ہے، آگست میڹ بارش اور برفباری کا دوسرا اسپیل آئندہ دو روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، یہ بھی بتایا گيا ہے کہ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میڹ بارشوں اور برفباری کا ایک اور اسپیل داخل ہوگا جو موسم مزید سرد کر دے گا.
یہ تو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ میری پہلے بھی اسی موسم کی توقع کر رہا تھا میری یادوں میں یہ موسم ایک سال سے ہو رہا ہے، لیکن ابھی تک کسی کھچرے پر نہیں لگایا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جتنا زیادہ موسم اچھا رہے گا اسی قدر زیادہ سردی آئے گی میرے پاس کوئی ذمہ دار نہیں تو یہ سب ان کی ذمہ داری ہو گی۔
ایسا نہیں لگ رہا کہ بلوچستان میں کوئٹہ سمیت بھی کیا ہوا، سارے علاقوں میں برف کی شدت ابھی زیادہ نہیں ہوئی! تو ایک بار اس پر عمل کرنا شروع کریں گے تو اور ایک بار اس پر عمل کرتے رہیں گے... اور پھر بھی ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال ہوسکتی ہے!
یہ بارش اور برفباری کی شدت ہمیں بڑھر رہی ہے، کئی سال سے پہاڑوں میں آتا ہوا ایسے لگتا ہے جیسے یہ ایک بار پھر اس کا دور ہو رہا ہے۔ ہمیں محبت والوں سے دعائیں م Mangayn ,مگر پھر بھی ان ندیوں میں پانی کیسے چلے گا؟ آپ کی زندگی میں اس طرح کی چیلنجیں آتی ہیں تو میرا خیال ہے کہ ہمیں ہمیشہ یہ محسوس کرنا چاہئے کہ ہم ایک دوسرے سے مدد ملتی ہے۔
اس طرح کی بارش اور برفباری کا جو چل رہی ہے وہ پہلے بھی تھی، لگتا ہے کہ انبارشوں سے کچھ نئی چीज نہیں آئی، صرف اسی طرح کی نیند اور ایک اسی طرح کا غذا کھایا جائے گا۔ اور قومی شاہراہوں پر کس کا رول ہے؟ لوگ ایک سے دوسرے کی طرف چل پڑتے ہیں، نا کہ ان کو اپنی جگہ پر بیٹھنا چاہئے۔ اور ندی نالوں میں بھی یہی کہیے گا؟ کچھ نئی चIZ نہیں آئی، صرف اسی طرح کی پالیسیوں پر چلنا جائے گا۔
یہ دوسرے سال بارش اور برفباری کی بدولت موسم مزید سرد ہونے کا امکان ہے، انبارشوں سے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ میں سچمہن کہتا ہوں کہ عوام کو کھڑ بہڑ کر نہیں ندی نالوں میں واضح رہنا چاہئے، انبارشوں سے قبل ندی نالوں کی پالیسی پر جانی جائے اور اس کے مطابق کھڑ بہڑ کر کے واضح رہنا چاہئے۔
اس میں میری انڈسٹریل تائمینگ ہے تو بھی میں اس پر سچمہن کرتا ہوں، انبارشوں سے قبل موسم کی صورتحال کو دیکھ لیا جائے اور موسم میں اضافے سے پہلے ایک گز اس پر نظر دیا جائے کہ عوام کس طرح بہنا چاہتے ہیں۔