یہ تو ایسا ہی کہنا نہیں کہ ان ملوث حملہ آوروں کو کتنے زبردست اور منعطف دل میں رکھنے کا بہت شکر ہے! وہ اپنی پریشان و خوفناک زندگی میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ ایک مذہبی شخصیت کے بیٹے کو بھی گاڑی پر فائرنگ کر دیں اور ان کے گارڈ کو مار ڈال لینے کی پریشانیوں میں رہتے ہیں! 
اس معاملے سے متاثرہ شفقت نامی گارڈ کی میت کا چیلنجنگ مراسم اور پوسٹ مارٹمکے لئے مارچری منتقل کر دیا جانا تو ایسا ہی کہنا نہیں کہ ان ملوث حملہ آوروں کو کتنے پیارے اور محبت کے دل میں رکھنے کا بہت شکر ہے! وہ اس قدر محنت کر جاتے ہیں کہ وہ ایسا نتیجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ حد تک پہنچ جائے کہ وہ کسی مذہبی شخصیت کے بیٹے کو گاڑی پر فائرنگ کر دیں اور ان کے گارڈ کو مار ڈال لینے کی پریشانیوں میں رہتے ہیں!
اس معاملے سے پتہ چلتا ہے کہ ان ملوث حملہ آوروں کو کتنے عقلانہ اورLogical دل میں رکھنے کا بہت شکر ہے! وہ اپنی پریشان و خوفناک زندگی میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ ایسا نتیجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ حد تک پہنچ جائے کہ وہ کسی مذہبی شخصیت کے بیٹے کو گاڑی پر فائرنگ کر دیں اور ان کے گارڈ کو مار ڈال لینے کی پریشانیوں میں رہتے ہیں!
اس معاملے سے متاثرہ شفقت نامی گارڈ کی میت کا چیلنجنگ مراسم اور پوسٹ مارٹمکے لئے مارچری منتقل کر دیا جانا تو ایسا ہی کہنا نہیں کہ ان ملوث حملہ آوروں کو کتنے پیارے اور محبت کے دل میں رکھنے کا بہت شکر ہے! وہ اس قدر محنت کر جاتے ہیں کہ وہ ایسا نتیجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ حد تک پہنچ جائے کہ وہ کسی مذہبی شخصیت کے بیٹے کو گاڑی پر فائرنگ کر دیں اور ان کے گارڈ کو مار ڈال لینے کی پریشانیوں میں رہتے ہیں!
اس معاملے سے پتہ چلتا ہے کہ ان ملوث حملہ آوروں کو کتنے عقلانہ اورLogical دل میں رکھنے کا بہت شکر ہے! وہ اپنی پریشان و خوفناک زندگی میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ وہ ایسا نتیجہ بھی حاصل کر لیتے ہیں کہ ان کی زندگی میں یہ حد تک پہنچ جائے کہ وہ کسی مذہبی شخصیت کے بیٹے کو گاڑی پر فائرنگ کر دیں اور ان کے گارڈ کو مار ڈال لینے کی پریشانیوں میں رہتے ہیں!