rawalpindi obscene videos of minor children viral suspect arrested further revelation expected | Express News

وکیل

Well-known member
انٹرنیٹ پر نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے والے بچوں کو کھتنا اور دوسروں کے معصوم بچوں کی ویڈیوز رکھنا ایک گھریلوCrime ہے، یہاں تک کہ وہ ملزم ہونے پر کیسے پہنچے اور ان کی زندگی میں یہ واقعات کس طرح آئے۔

انٹیلی جنس ایجنسی نے راولپنڈی میں بڑی کارروائی کی ہے جس کے نتیجے میں ملزم شعیب برت کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس سے اب تک اس کی جانچ پڑتال پر نتیجے نکلا ہیں اور اس کے موبائل فونز سے مزید معلومات متوقع ہیں۔

سابقہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ پی ایس ڈی میں چھاپا مارا گیا اور شعیب برت کو دھر لیا گیا تھا، جس سے دو موبائل فونز اب تک برآمد کر لئے گئے ہیں۔

ان کارروائی کے دوران ملزم کا معصوم بچوں کی ویڈیوز رکھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے اور یہ بات س्पषٹ ہوئی ہے کہ وہ ملزم ہی بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھتے تھے، تاہم جس مقام پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، اس میں ملزم کے خلاف Pikka Act کی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں اور پھر سے ان کے خلاف اور بھی زیادہ Strict Laws کے تحت مظالم متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

علاوہ ازیں جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کے قبضے سے دو موبائل فونز برآمد کی گئی ہیں، ان کارروائیوں کے دوران Inspector Muhammad توصیف کے سربراہی میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور اس نے ملزم سے برآمد ہونے والے موبائل فونز فرانس کے Laboritory روانہ کردیے ہیں، جبکہ یہاں تک کہ مزید انکشافات متوقع ہیں۔
 
یہ بہت ہی دہریلگاری کی گئی ہے … نازیبا ویڈیوز رکھنے والوں کے لیے انٹرنیٹ پر ان کا اثر اور پہلو بتانے کی ضرورت ہوتی ہے … شعیب برت کو گرفتار کرنا ایک بڑا قدم ہے، حالانکہ اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہوگا کہ وہ ملزم ہیں یا نہیں لیکن یہ بتانا ضروری ہے کہ ان کی جانب سے شادی شدت اور پریشانی سے بھرپور معاشرتی ماحول کی طرف متوجہیت ہو رہی ہے…
 
یہ بات تو چھپائی نہیں گئی تھی کہ انٹرنیٹ پر نازیبا ویڈیوز وائرل کرنے والے بچوں کو کھتنا اور دوسروں کی معصوم بچوں کی ویڈیوز رکھنا ایک عجیب بات ہے... مگر یہاں تک کہ وہ ملزم ہونے پر پہنچ جائیں تو وہ شائع ہو جاتے ہیں!

اجمل کرنے والے کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسی نے راولپنڈی میں بڑی کارروائی کی اور ملزم شعیب برت کو گرفتار کر لیا گیا... اور اب تک اس کی جانچ پڑتال پر نتیجے نکلا ہیں!

لیکن یہ بات بھی بات ہے کہ جس مقام پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، اس میں ملزم کے خلافStrict Laws کی سخت دفعات شامل کی گئی ہیں... مگر پھر سے اور بھی زیادہ Strict Laws کے تحت مظالم متعارف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے!

یہ بات تو ایک دلچسپ بات ہے... وہ ملزم ہی بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھتے تھے، تاہم جب ان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا تو ان کے خلاف Pikka Act کی سخت دفعات شامل کی گئیں!

مگر اس بات پر واضح ہو جانا چاہئے کہ جس مقام پر ملزم کو گرفتار کر لیا گیا تھا، وہ ملزم ہی بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھتے تھے... اور اب وہ فونز بھی برآمد کر لینگے!
 
اس بات پر کچھ خیال ہے کہ ان نازیبا ویڈیوز رکھنے والوں کو پھانسی دینا بھی ایسا ہی ہیگھا ہوگیا ہے جیسا کہ اس سے وہ اپنے ذمہ داریوں سے کفیل ہو جائیں گے؟ اور ان معصوم بچوں کی ویڈیوز کو رکھنا یہ کس نے کیا تھا؟ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی تو ان میں مظالم زیادہ کرنے کی بات ہونے لگ رہی ہے، لیکن یہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ جس نے آپ کو یہ ویڈیوز دیکھنے دیا تھا، وہ کیا دیکھ رہا تھا؟
 
یہ دیکھنے سے پھرچلنا ہو گیا ہے کہ کس حد تک نaziaba videos viral hone ke liye kids ko khatna karna padta hai? ye to ek galat faisle ki tarah hai, chal bhi ye video banne wale kids kaafi aam hote hain, jaise hi unkaafi log unki galtiyon ko sune aur unhe samajh nahi paate, tabhi yeh videos viral ho jaate hain. aur fir usse kisi bhi galat farz ko uthaana? ye to ek galat si niti hai...
 
ایسا نہیں چاہیے کہ بچوں کی وائرل ہونے والی ویڈیوز کو اس طرح سے دیکھا جائے جیسے ان کا معاشرہ توٹ گیا ہو! #بچوںکیسafety #انٹرنیٹکیذرمایہ

عثمانی دور کی پوری پڑتال پر سرفیسرز میں اس طرح کی ویڈیوز دیکھنے کو نہ دیا جائے، اس طرح بچوں کی ایک سوجھلی زندگی چل سکتی ہے! #بچوںکیسafety #انٹرنیٹکاعمalty

فرنسیسی Laboritory میں سرفیسر کرنا بھی اچھا نہیں، اس لیے ان موبائل فونز کو ملزم کے ہاتھوں نہ دیا جائے! #موبائلفیونسکیسٹر #فرنسیسیLaboritory

Inspector Muhammad توصیف کی سربراہی میں ان کارروائیوں میں شامل ہونا چاہئے، لہذا ان کا کھیت نہیں اچھا! #انسپکٹرمحمد توصیف #بچوںکیسafety
 
وہ ماحول جتنا ہی دھکائی ڈال رہا ہے وہی ہوتا ہے، نازیبہ ویڈیوز اس وقت تک دیکھ کر بھی مجھے خوشی نہیں آتی، حالانکہ ان کا معصوم بچوں کی ویڈیوز رکھنے کی بات سے وہ گھبراتے ہیں۔ یہ ایک گھریلو crime ہے جس کا پہلوا چکائی نہیں گی اور ان کو اب تک کے ساتھ مل کر پہچانا جائے گا۔ Inspector Muhammad توصیف نے ایسی کارروائی کی ہے جس سے وہ فوجی طور پر شوئیں چھوٹے ہیں۔
 
اس مظالم سے بچوں کو لوگ محصور اور غلط سمجھنے لگے، یہ کتنی بھرپور گھریلوCrime ہے?! ان نازیبا ویڈیوز کو رکھنے والے شعیب برت کو گرفتار کرلیا گیا اور اب تک ان کی جانچ پڑتال پر نتیجے نکلا ہیں، یہ تو جانتے ہیں کہ وہ ملزم تھے لیکن اب ان کی زندگی میں یہ واقعات اور مظالم سامنے آئیں!
 
ایسے سچائیوں کو چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئیں، ان چھپائی سچائیوں کی ایک دوسرے پھول جاتے ہیں اور وہ بھی گھریلو crime بنتی ہیں! اس کا مقصد یہی نہیں بلکل اس سے پوری دuniya کو ایک اسی درجے کی غلطیوں میں لانے ka ہے؟ وہ جو چل رہے ہیں انھیں بھی اچھے سلوکیں اور نئی دuniya بنانا چاہئیں!
 
یہ بات بھی سچ ہے کہ نaziبا ویڈیوز کو منظم رکھنے کی بات کرتےSamaj اور Social media کے لوگوں میں بہت ساری توجہ موجود ہے، لیکن اس کا ذمہ داری سے نکلنا بھی کافی مشکل ہو گا، کیونکہ جس جہاں ایسا ہوتا ہے وہاں سے دوسرے جگہوں پر پھیلنا بھی مشکل نہیں ہو گا، انہیں معیشت کو متاثر کرنے کا Risk بھی ہو گا، اس لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس کے خلاف Strict Laws اور regulations میں اضافہ کیاجائے तاکہ اس جہتی Act کو ختم کر دیا جا سکے
 
اس نئی کارروائی سے پتا چalta ہے کہ انٹرنیٹ پر بچوں کو آسانی سے غلط فہمی پر چلایا جا سکتا ہے اور وائرل ہونے والی ویڈیوز نے انھیں دوسروں کے معصوم بچوں کی جانت میں ملوث کیا ہوا۔ اس کی بات چیت سے یہ بات بھی پاتी ہے کہ ملزم کے پاس ان نaziبا ویڈیوز کو رکھنا ہی ایک عمدہ اور خطرناک کارروائی تھی، جس سے وہ دوسروں کی زندگی کو بھی متاثر کر سکتے تھے۔ لگتا ہے کہ ان کارروائیوں میں انٹیلی جنس ایجنسی نے ایک اچھی کارروائی کی ہے اور اس کے نتیجے میں ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے، لیکن کیا یہ صرف ایک پہلی کارروائی تھی؟ کیا ان کے پاس مزید مظالم ہیں جو اب تک نئے طور پر ظاہر ہونے گے؟
 
اس کے بعد بچوں کی اور معصوموں کی ویڈیوز کو رکھنا ایک واضح کرامتی ہے...ہاں تک یہ کیا کہ ملزم کے موبائل فون سے یہ معلومات مل گئی ہیں تو یہ انکی نازیبا ویڈیوز رکھنے کی بات ہے جس سے سب کو متاثر ہوا ہے...اس لیے اس کے لیےStrict Laws لگائی گئی ہیں تاکہ اس کا ایسا ہونا نہ ہو جس سے لوگوں کو متاثر ہوتا ہوا...اس پلیٹ فارم پر بھی Strict Rules رکھے گئے ہیں کہ کچھ بھی نازیبا یا معصوموں کی ویڈیوز کے ساتھ آپ کو نہیں رہنا چاہیے...اس لیے یہ بات واضح ہے کہ ملزم کو Strict Punishment دیا جا رہا ہے کیونکہ اس کے مظالم کا مطالبہ بھی نہیں ہوگا...اس پلیٹ فارم پر آپ کے اور آپ کے ساتھ لوگوں کے بچوں کی اور معصوموں کی ویڈیوز کو دیکھنا Strict Prohibited ہے۔
 
ایساFeels 😐 اچھا کہ ان مظالم پر توجہ دی جا رہی ہے جس سے نازیبا ویڈیوز کو بڑھا کر پھیلایا جا رہا ہے، اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم ان معصوم بچوں کی ویڈیوز رکھتے تھے اور اس سے ملزمیں مایوس ہو کر پوری دنیا میں مظالم متعارف کرا کر آگ لگا رہے تھے۔ اس کے بعد جب ان کی زندگی میں یہ واقعات سامنے آئے تو وہ ملزم ہی ہیں اور اب ان کے خلاف Strict Laws لگائی جا رہی ہیں، ایساFeels اچھا اور مجھے یہ بات کھل کر سنی چاہئے
 
امر اور کارروائیوں میں ایسی بات سامنے آئی ہے جو بھاری سے غمزنہ کر دیتی ہے، وہیں جہاں انٹرنیٹ پر نازیبا ویڈیوز رکھنے والے بچوں کے مظالم سامنے آئے ہیں اسے یہ بات ساف لگ رہی ہے کہ اسے ایک گھریلو Crime سمجھنا چاہیے۔ انصاف اور سیکورٹی کے درمیان پہلے کی طرف بڑا مظالم متعارف کرایا گیا ہے، اب یہ کہیں نہیں رہتا کہ ان شعبےوں کو ملایا جائے یا نہیں؟

دوسری چیز تو یہ ہے کہ شعیب برت کو اس کے مظالم کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا، اور اب وہ ملزم اور ان کے مظالم کے بارے میں بھی بتایا جا رہا ہے، اور یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس کی زندگی میں کیسے یہ واقعات آئے۔ ان کارروائیوں سے اب تک دو موبائل فونز برآمد کر لئے گئے ہیں، اور انکشافات متوقع ہیں۔
 
اس کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم شعیب برت کے پاس ایسے بچوں کی ویڈیوز رکھنے والے دیگر مظالم کیسے آئے، اور ان کے موبائل فونز سے کیا نتیجہ نکلا ہے؟ اب تک کا شواہد بہت کم ہیں، وہاں تک کہ ملزم کو گرفتار کرنے پر واضح رہتا ہے کہ وہ سچ نہیں کیے تھے؟

میری سوچ ہے کہ اس کارروائی کا یہ ریکارڈ نہیں ہو سکتا، جو کہ ایک گھریلو Crime ہے، اور اس کے بارے میڰ بات چیت کرنا بہت مشکل ہوگا؟
 
یہ سارے واقعے بھی ہوتے تو کیا ہوتے؟ ان نازیبا ویڈیوز کو رکھنے والوں کی زندگی میں یہ واقعات کس طرح آتے؟ انہیں کیسے ملزم کردیا جائے گا؟ انہیں انہیں کیسے دہشت گردی کا الزام لگایا جائے گا؟ ہمیں یہ سارے واقعات کے پیچھے کی جانچ کرنے کی زحمت اور تنگی ہوگی، لیکن یہ بات بھی واضع ہوگئی ہے کہ ان نازیبا ویڈیوز کو رکھنے والے کو اتنا ہی دंडا دیا جائے گا جو کہ ان کی مجرمی کی گینت دوگا
 
اس واقعہ نے مجھے بہت گھمندہ کر دیا ہے، اس شعیب برت کو دھر لیا گیا تھا تو یہ دوسروں کی ماں بیٹوں کی ویڈیوز رکھنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور یہ سب ان کی زندگی میں ایسا واقعہ ہوا جس سے ان کے جانے والے نہیں ہیں، مجھے یہ بات بھی گھنٹیوں تک چلنا پڑی کہ وہ واقعہ کس کی زندگی میں ہوا اور اس سے جب ان کا معصوم بچے کی ویڈیوز رکھنے کا واقعہ سامنے آیا تو مجھے ان کے ایسے بچوں کو دیکھنا پڑا جو وہ نہیں سنا چاہتے تھے، اس واقعہ کی نجات کی بات کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ اس کا کچھ بھی حل ہوسکتا ہے
 
یہ تو بہت غضبتے کن ہوا کے ساتھ لگ رہا ہے، ملزم کو پھانسی دینے پر یہ بات بھی آئی کہ وہ نازیبا ویڈیوز رکھنے والے بچوں کو کھٹاتے تھے… اور ان معصوم بچوں کی سگنیٹڈ ویڈیوز رکھنا ایک گھریلو Crime ہی نہیں بلکہ اس جرم کی پڑھائی کا وقت بھی آ گیا ہے… 🚔
 
بھانے بھانے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کی زندگی میں یہ واقعات کس طرح آئے پھر بھی اس بات پر فہم نہیں ہوتی کہ ان نازیبا ویڈیوز رکھنے والے بچوں کی کیا تائلیں تھین، وہ لوگ تو دیکھتے ہیں اور فیکس کر دیتے ہیں، مگر ان کا کوئی مقصد نہیں پٹتا، وہ سلاڈشپ کرتے رہتے ہیں اور اپنی زندگی کی جھوٹی چالوں پر چلے جاتے ہیں 🤣
 
یہ وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیوز بچوں کی زندگی میں ایک خطرناک تجربہ ہے، اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ ایسے بچے بڑھ کر کیسے ایسی غلطیوں میں پڑتے ہیں؟ اس سے واضع ہوتا ہے کہ ہمیں بچوں کی ایسے گھریلو crime کی سزائش پر توجہ دی جانی چاہئے، اور اس کے لئے معقول پالیسیوں کو اپنایا جاسکتا ہے تاکہ وہ ناواقف نہیں بن سکیں।
 
واپس
Top