بلوچستان میں پہاڑی علاقوں اور شمالی حصوں میں شدید سردی کی لہر نے اپنی گرفت کو پورا کیا ہے، جہاں ٹھنڈک کی گواہی دے رہی ہے کہ یہاں سارے سال کی سب سے شدید سردی ہو رہی ہے۔
ساحلی علاقوں میں برف کا نیا موسم شروع ہو چکا ہے، جہاں ٹھنڈک کی حد پورے صوبے پر اس کے اثر و رسوخ کر رہی ہے۔ کوئٹہ، زیارت اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر علاقوں میں برفباری کا امکان بڑھ گیا ہے جس سے ایک نئے موسم کی شروعات ہوئی ہے۔
آج سے صوبے کے زیادہ تر حصوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، جس کی وجہ سے بلوچستان کی سڑکیں بھی پھسیں گی اور ٹریفک معطل ہو گئی ہے۔
شام کے اوقات میں ایک طرف برف کی چمک، دوسری طرف بارش کی آواز ریکارڈ شدہ کم سے کم درجہ حرارت کی نویں سطح ہیں۔
قلات اور کوئٹہ میں پہاڑوں نے سردی کا نیا معیار قائم کر دیا ہے، جہاں سے پہلے کی سب سے زیادہ درجہ حرارت توڑ گئی ہے۔ کوئٹہ میں منفی 5 سے شہر کی سڑکیں یخ بستے ہوئی ہیں، جب کہ قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ میں بارش کا امکان ہے۔
چمن میں منفی 2 سے منفی 4، ژوب میں منفی 4، سبی میں 6، تربت میں 9 اور نوکنڈی میں 2 ریکارڈ کیے گئے ہیں، جب کہ گوادر میں 10 اور جیوانی میں 11 درجہ حرارت ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی کی لہر اور جزوی ابر آلود موسم برقرار رہے گا، جبکہ باقی علاقوں میں خشک فضا غالب رہے گی۔
صوبائی حکومت نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ برفباری کے دوران قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے جائے۔
شام کے اوقات میں 25 اور 26 جنوری کو بارش اور برفباری کا امکان ہے، اس سے صوبے میں موسم کو مزید ڈرامائی بنایا جائے گا۔
بھی بھانتے ہیں بلوچستان میں برفबاری کا دور آ رہا ہے، اب تو صوبے کی سب سے زیادہ درجہ حرارت توڑ چکی ہے اور ابھی تک کی سب سے کم درجہ حرارت پہنچ گئی ہے ………. -1degree ….. بھارپور سردی سے صوبے میں ٹریفک معطل ہو گی اور برفباری کا امکان زیادہ ہوتا جائے گا تو اس وقت تک انٹرنیشنل شاہراہ کو بھی سڑकے کی طرح بنایا جائے گا ……. -10degree …..
یہ سردی کی لہر کچھ ایسا لگ رہی ہے، جو سارے سال کی سب سے شدید ہو رہی ہے، اور بلوچستان میں سڑکیں بھی پھسیں گی ۔ اس کی وجہ سے ٹریفک معطل ہو گئی ہے اور لوگ اپنے گھروں کے سامنے رہ جائیں گے۔
میں کوئٹہ میں رہا تھا، جب وہاں سڑک پھس گئی تھی میرے خاندان نے اس وقت کے دور میں ایک شام کو اچانک یہ خبر ملی کہ سڑک پھسی ہو چکی ہے، تو وہاں کی فیکٹریوں میں کام چلنا بند کر دیا گیا تھا اور لوگ اس وقت تک اپنے گھروں کے سامنے رہتے رہے، جو ایک روزہ کام کا بھی نہیں بن سکا ۔
اس سال بلوچستان میں سردی کی لہر پوری سطح پر لھیر لے رہی ہے، اور یہاں کے سارے سال کے لیے سب سے زیادہ شدید سردی ہوئی ہے! پہاڑی علاقوں میں برفबاری اور بارش کی بھی صاف نما ہوئی ہے، اس سے یہ ریکارڈ کی جاسکتا ہے کہ یہاں کوئٹہ اور دیگر علاقوں میں برفباری کا امکان بڑھ گیا ہے! اور اس کے نتیجے میں بلوچستان کی سڑکیں ٹرول ہونگی اور ٹریفک ایک Side پر ختم ہوجائے گی!
شام کے اوقات میڰے میں برف کی چمک دوسری طرف بارش کی آواز ریکارڈ ہوئی ہے! اور قلات اور کوئٹہ میں پہاڑوں نے سردی کا نیا معیار قائم کر دیا ہے، جہاں سے پہلے کی سب سے زیادہ درجہ حرارت توڑ گئی ہے! کوئٹہ میں منفی 5 سے شہر کی سڑکیں یخ بستے ہوئی ہیں، اور قلعہ عبداللہ اور کوئٹہ میں بارش کا امکان ہے!
شام کے اوقات میڰے میں چمن میں منفی 2 سے منفی 4، ژوب میں منفی 4، سبی میں 6، تربت میں 9 اور نوکنڈی میں 2 ریکارڈ کیے گئے ہیں! اور گوادر میں 10 اور جیوانی میڰے میں 11 درجہ حرارت ہوا ہے!
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی کی لہر اور جزوی ابر آلود موسم برقرار رہے گا، جبکہ باقی علاقوں میں خشک فضا غالب رہے گی!
بلوچستان میں یہ ایک بڑا بحران ہے! سردی کی لہر ٹھنڈک کے ساتھ آ رہی ہے اور اس نے پہاڑی علاقوں کو خاصا دبایا ہے۔ کوئٹہ، زيارت اور قلعہ عبداللہ سمیت دیگر علاقوں میں برف باری کا امکان بڑھ گیا ہے جو نئے موسم کی شروعات کرتا ہے।
یہ ایک حقیقت ہے کہ صوبے کے زیادہ تر حصوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے جو سڑکیں پھوسیں گی اور ٹریفک معطل ہو جائے گا۔
شام کے اوقات میں ایک طرف برف کی چمک، دوسری طرف بارش کی آواز ریکارڈ شدہ کم سے کم درجہ حرارت کی نویں سطح ہیں۔ یہاں سے پہلے کی سب سے زیادہ درجہ حرارت توڑ گئی ہے اور کوئٹہ میں منفی 5 سے شہر کی سڑکیں یخ بستے ہوئی ہیں।
چمن میں منفی 2 سے منفی 4، ژوب میں منفی 4، سبى میں 6، تربت میں 9 اور نوکنڈی میں 2 ریکارڈ کیے گئے ہیں، جب کہ گوادر میں 10 اور جیوانی میں 11 درجہ حرارت ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمالی بلوچستان میں شدید سردی کی لہر اور جزوی ابر آلود موسم برقرار رہے گا، جبکہ باقی علاقوں میں خشک فضا غالب رہے گی۔
شام کے اوقات میں 25 اور 26 جنوری کو بارش اور برفباری کا امکان ہے، اس سے صوبے میں موسم کو مزید ڈرامائی بنایا جائے گا۔
بلوچستان میں یہ سردی بہت بھی تیز ہوئی ہوگی اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان اچھا ہوا ہے تو ایک نئے موسم کی شروعات ہونے کا بھی موقع ہے۔ لگتا ہے یہ بارش اور برفباری ہونے پر پہاڑوں میں سڑکیں پھس جائیں گی، ٹریفک معطل ہوجائے گی تو کچھ لوگ اسے ناکام سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہوگا کہ صوبے میں موسم کو ڈرامائی بنانے کے لیے یہ سبسے اچھا موقع ہے۔
یہ سردی تو ایسے جیسے پہلے کئی سالوں سے لگ رہی ہے، اس لیے اس کی وجہ کو یقینی بنانے والے لوگ بھی اس پر دباؤ نہیں ڈالتے، بلکہ ہم پہلے سے بھی کہتے تھے کہ یہ سردی کچھ زور لے رہی ہے، اور اب واضح ہو گیا ہے کہ اس نے سڑکوں کو بھی پھسایا ہے
یہ تو واضح ہے کہ بلوچستان میں سردی کا دور بڑھ رہا ہے، جو اس وقت تک پورا نہیں ہوا جب تک کہ سڑکیں نہیں ٹھنڈ گئیں اور برف نہیں پڑی۔ ایک بار پھر ٹریفک کی چوٹ پہنچ رہی ہے، اس لئے لوگوں کو صبر کرنا پڑے گا۔
یہ سردی تو بہت بدل دی، پہاڑوں کے علاقوں میں پھس رہی ہے، اور سڑکیں بھی ٹکر کرنے والی لگ رہی ہیں۔ لکین یہ تو دیکھنا ہی تھا کہ کوئٹہ میں یخ 5 سے شہر کی سڑکیں چمکتے ہیں۔ یہ سردی بہت پریشان کن ہے، لیکن شام کے اوقات میں بارش اور برفباری کا امکان تو ہونا چاہیے۔
شہر میں سڑکیں پھس رہی ہیں، ٹریفک موڑ لگ رہی ہے، اور لوگ کچھ اور کرنے کے لیے باہر نکل رہے ہیں۔ یہ موسم تو بہت بدل دیا ہوا، لکین ابھی تک کوئٹہ میں یہ عجائب دیکھنا میرے لیے خاص تھے۔
Wow ، بلوچستان میں سردی کی لہر نے پورے صوبے پر اپنا اثر چھوڑ دیا ہے اور سارے سال کی سب سے شدید سردی ہونے کا امکان ہے، یہ واضح ہے کہ یہ winters میں انتہائی مشکل ہو رہے ہیں!
اوہ بھی یہ بات نہ لگتی کہ بلوچستان کی سردی اس قدر شدید ہو چکی ہے، پہاڑی علاقوں میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ اچانک ٹھنڈ پڑ گیا ہو۔ کوئٹہ کی سڑکیں پھسی ہوئی ہیں، پہاڑوں میں برفباری کا امکان بڑھ چuka ہے اور شام کے اوقات میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس میں بارش اور برف کی چمک ہو رہی ہو۔ یہ بھی نہ لگتا کہ صوبے میں موسم کو مزید ڈرامائی بنانے کے لیے انہوں نے 25 اور 26 جنوری کو ٹائٹل دیا ہے۔
سیرین ریکارڈ کی گئی ہے ہو سکتا ہے نہیں ، اس کا بھی مطلب ہوتا ہے یہ سردی جاری ہے اور مزید بہت زیادہ برفباری ہونے کی کوئٹہ میں بارش کا امکان تھا تو اب اس کا کوئٹہ یہی حال ہو گا .
پہاڑی علاقوں میں شدید سردی کی لہر نکل رہی ہے تو کچھ لوگ تھوڑی دیر سے بھاگ کر پہاڑوں میں جا رہے ہن، یہ کوئٹہ اور بلوچستان کی سب سے زیادہ سردی والی مقامات ہیں۔
زندگی بھی ایسی ہی ہے جیسا کہ منصرف ہے، اور یہاں پہاڑوں میں بھی سردی سے نکل کر آتے ہیں... ہوا تو صاف بہتی ہے، لیکن وہاں کچھ کیا اور کیے گا؟ صوبے میں بارش اور برفباری کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے... یہی تو دیکھتے ہیں کہ پہاڑوں کو اچانک سردی میں لپٹ لی گئی ہے...
اس قدر صاف سے برفباری کا موسم آیا ہے کہ یہاں تک ہوا بھی صاف نہیں رہ سکی... ہوا تو نہیں، بارش اور برفباری سے تو کوئٹھا ہو گیا ہے... سڑکیں پھس رہی ہیں، ٹریفک بھی معطل ہوئی ہے... یہاں کچھ چال آئی تو نہیں...
25 اور 26 جنوری کو بارش اور برفباری کا امکان ہے، اس سے موسم اور بھی مزید ڈرامائی بن جائے گا... یہاں تو صاف سے رینج آئے گی...
یہ سردی تو بھارپور ہوئی ہے بلوچستان کی، پہاڑی علاقوں میں یقیناً بہت سے لوگ ایک سال میں پہلی بار برفباری دیکھ رہے ہیں تو یہ بھی کہیں سے نہیں اترہا، شام کے اوقات میں یہ سردی کچھ مزید بھاری ہو جائے گا تو پورے صوبے پر اس کی اثر و رسوخ پڑ جائے گا...
یہ سردی تو صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں پھیل رہی ہے…؟ کیا اس سے کوئی ساتھ نہیں رہتا؟ سردی کی لہر نے اچانک قلعہ عبداللہ کو منفی 15 کے درجہ حرارت پر پہنچا دیا… یہ دیکھو تو جو صارفین کچھ اپنی چمڑیوں میں لپے رہتے ہیں وہ کوئٹہ میں یہاں تک بہت اچھی طرح سے پڑ رہتے ہیں….
یہ لاحقہ سردی کی طرف ہم سب اپنے گھروں کے قریب رہتے ہیں اور ایک نئے موسم کو شام کر دیتے ہیں... پہاڑوں میں برفباری کی چمک اور سڑکیں پھسنی بھرے ماحول میں بیدار رہتے ہیں.. بلوچستان میں یہ سردی اتنا ایک دیرپا واقعہ تھا کہ اس نے ہمیں اپنے گھروں کی قیادت کرنے کا موقع دیا ہے...
اس موسم کے ساتھ ہم اپنی سڑکیں سننا پڑتے ہیں اور ٹریفک میں آخری بستے ہوئے ہیڰ جاتے ہیں.. یہ سردی ہمیں اپنے گھروں کے قریب رکھتی ہے اور ایک نئے موسم کو شام کر دیتی ہۏ...
ہمیشہ سے پہاڑی علاقوں میں برفباری کا فائدہ لینے والے لوگ ہیں، لेकن اب یہ بھی یہاں کے لوگ نہیں ہیں جو پہلے سے اس لیے آتے تھے ۔ ایک نئے موسم کی شروعات ہو رہی ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہاڑی علاقوں میں سڑکیں پھس جائیں گی اور ٹریفک بھی معطل ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں سردی کی لہر نہیں ٹھنڈ پڑ رہی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں کوئٹہ اور کوئٹہ کے آس پاس سے گزرتے ہوئے جھیلوں میں پانی اچھا نہیں ہوا، ایک بار پھر بلوچستان میں سڑکیں پھس رہی ہیں، صوبے میں موسم اس طرح ہونے کا امکان ہے جو کہ کہنے میں بھی محترم ہوگا، یار ہر سال اسی طرح اچھا نہیں ہوتا اور یہاں ایک نئی سردی کی لہر آ رہی ہے جس سے صوبے میں موسم اس طرح ہونے کا امکان ہے جس کو آپ ایسا ہی سنچھاتے ہوگے، یار بلاشک نہیں ہوتا ہے بلوچستان میں سڑکیں پھس رہی ہیں۔