امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایک خطاب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر तैयار ہیں۔ انھوں نے امریکا کی جانب سے بڑھتے ہوئے بحری بیڑے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ ایران کی جانب سے موافقت کرنے پر تیار ہیں۔
امریکا کے صدر نے ایران سے تعلق رکھتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ وہ ان کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں اور ان کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیںہوئی گی۔
امریکا کے صدر نے ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تینوں جانب سے یقینی بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے ڈیل کرلے گا اور کسی بھی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تینوں جانب سے یقینی بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے ڈیل کرلے گا اور کسی بھی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
امریکا کے صدر نے ایران سے تعلق رکھتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ وہ ان کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں اور ان کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیںہوئی گی۔
انھوں نے ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تینوں جانب سے یقینی بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے ڈیل کرلے گا اور کسی بھی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔
امریکی صدر کے یہ خطاب پہلے سے ہی لگ رہا تھا، ایران سے تعلق رکھنے والے امریکا کے صدارت کے دوران بھی ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں جو ایسے ہیں۔ لگتا ہے کہ امریکا ایران سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہو گئا ہے، اور یہ معاملات تو بھی آج تک ہوا رہتے ہیں۔ اس کی وضاحت یہ ہو سکتी ہے کہ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنا ایک لمحہ بھی نہیں رہتا، اور پوری دنیا کو یہ دیکھنا ضرور پڑے گا۔
تمہیں معلوم ہوگا کہ میری بیوی نے آج شام کو مجھے ایک ایسا پیالا دالا جو میں پھر سے اسے نہیں چھوڑ پائاؤں۔ وہ بھی میں کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں اور ان کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیں ہوئی گی۔ میں اس کے لیے کوئی پیسہ نہیں دیا، لیکن وہ مجھے ان کے ساتھ ایک دوسرے سے ڈیل کرنے پر تیار ہیں اور کسی بھی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ میری بیوی نے مجھے اس پیالے کو دکھایا اور میں اسے بھی لیکوٹ کرنا ہوگا۔
اس بات پر مشتمل ہو رہا ہے کہ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بات چیت کرنے کی کوشش شروع کی ہے، لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں ہو سکتی کہ وہ ایران کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کے لیے तैयار ہیں۔
اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تینوں جانب سے یقینی بنایا جائے۔
اس خطاب نے ایران کو شکر گزارنا چاہیے، کیونکہ وہ بھی اپنی طرف سے کچھ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بات تو یقیناً چارچر پر ہوگی کہ ایران کو بھی وہی سا خطاب دیا جائی گا جو امریکا نے اپنے صدر کی طرف سے دیا ہوگا । اس میں اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ایران بھی دواہرے معاملات میں بات چیت کرنی پر تیار ہے اور وہ امریکے سے ڈیل کرنے پر تैयار ہے، لیکن یہ سوال کھیلا تو ایران کے صدر کی طرف سے کیا جواب دیا گیا ہو گا؟
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تینوں جانب سے یقینی بنایا ہے، لیکن میں اس بات کو سچ لگا کہ یہ بات بھی ایک دھماکی ہے۔ پہلے بھی امریکی صدر نے ایران سے دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر کہا تھا، لیکن ابھی تک کوئی فوری_result نہیں ہوا ہے۔ اور یہ دوسرا بھی سوچنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیں ہوئی، لیکن ماہرین اس معاملے میں اسی بات پر متفق ہیں جو امریکی صدر نے کہا ہے۔ یہ سب تو ہمیشہ ایک دھماکی کی طرح لگتا ہے، اور میں اسےserious_look سے دیکھنے کو ہی نہیں ہوگیا
ایسا لگتا ہے ایران اور امریکا کے مابین دواہرے معاملات میں بات چیت کرنا ایک بڑا قدم ہے اور یہ بھی کوئی بوجھ نہیں ہے :
______
/ \
سابق خطرات آگہستہ صبر
_________/ \________
امریکا کے ساتھ ایران کے تعلق کے باعث یہ اعلان بہت اچھا ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس سے پوری دنیا کے ساتھ صلح اور امن کی طرف بڑھنا ہوگا۔
امریکی صدر نے اپنی بات چیت کے خطاب میں ایران سے تعلق رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں اور ان کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیں ہوئیگی۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کرنا چاہتے ہیں اور پوری دنیا میں امن اور صلح کو فروغ دینا ہوگا۔
میں یقین رکھتا ہوں کہ اس بات پر امریکی صدر کی بات چیت ایران سے بھی موافقت ہوگی اور پوری دنیا میں امن اور صلح کے ساتھ بڑھنا ہوگا۔
یہ راز کو اس کے حقیقہ پر سمجھنا ایک بڑا کام ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دواہرے معاملات میں ایسی بات چیت ہونے کی یقینی بناوٹی ہو گئی ہے جو کہ ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ پہلے بھی امریکہ نے ایران سے بات چیت کرنے پر کوشش کی تھی، لیکن یہ بات چیت تو ہوئی لیکن اس میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور اب جب ایسا ہوا تو اس کی لکیروں کے اندر بھی یقینی بناوٹی ہے کہ ایسی بات چیت ہونے پر کوئی بھی نتیجہ نکلا گیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکا ایران سے بات چیت کرنے پر تैयار ہو گیا ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ یہ بات چیت کتنےจรور ہوئی گئی ہے؟ ایران کی طرف سے بھی پچیس سال سے دواہرے معاملات میں بات چیت نہیں ہوئی، تو کیا امریکا ابھی اس میں رخنا چاہی گا؟
مگر یہ وہ معاملہ نہیں ہے جس پر ان لوگوں کا انتظار تھا۔ امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کو کبھی اور بھی بات چیت کرنے کی ضرورت نہیں پڑی، مگر اب تو اس طرح سے کہا جانا ہے کہ وہ ایران سے دواہرے معاملات میں بات چیت کر رہے ہیں، یہی کوئی نئی بات نہیں ہے۔
امریکی صدر کی جانب سے ایران کے لیے یہ اعلان واضح طور پر ایک پہلوموالی کا ہے، جس میں انھوں نے اپنی جان کو بھی کچھ اچھی طرح کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی۔ ایران سے تعلق رکھتے ہوئے ایسا کہا جانا جواب دہدنی والی باتوں کا ہے، جبکہ امریکی صدر کی جانب سے یہ اعلان بھی ان کے اور ایران کے درمیان ایک نئی صورتحال پیدا کرنے کا ہے۔
ایسے میں تو اس بات کو نہیں چھوڑیے گی کہ اس معاملے میں ہر طرف سے لڑائی ختم ہو جائے گی، مگر ان لوگوں کی جان سے بھی یہ بات کوئی نہیں چھوڑ سکتی جو ایران کے لیے اس معاملے میں ایک آسان نکلنا ہو گا۔
ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران میں دواہرے معاملات کے حل کو لیئے جانے کی یہ اعلان ایک بہت بڑی اور Hopeful ہے!
اگرچہ اس معاملے میں بہت سارے چیلنجز موجود ہیں، لیکن جس صورت حال پر امریکہ نے یہ اعلان کیا ہے وہ بہت منفید اور خطرناک نہیں ہے، اور اس سے ایران کو بھی ایک فراہمی میں ملے گی!
اگرچہ یہ اعلان Iran کے لئے بہت حیرانی کا باعث بن رہا ہے لیکن اس سے Iran کے لئے ایک نئی روایہ پیدا ہو سکتی ہے جس میں وہ دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرے!
یہ اعلان کیا نئی بات کہیں? امریکا کی جانب سے دواہرے معاملات میں ایسا کیسے ہو گا؟ اور Iran سے تعلق رکھتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے کی کیا ضرورت تھی؟
یہ خطاب سے کیا نئی معافی ملگی? قبل سے ایران کی جانب سے بھی ایسا اچھا اعلان کیا گیا تو اسی طرح نئی بات کہیں؟
مگر یہ کچھ نہ کوئی ہوتا ہے جو کسی معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے ایک ایسا اعلان کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے، تاہم ان صورتوں میں اس کو یقینی بنانے کی ضرورت تھی یا نہیں؟
یہ لگتا ہے جیسا ہوتا تھا ووٹس پر پوسٹ کرنے والے بچے، صدر دونلڈ ٹرمپ نے ایران سے بات چیت کروانے کی بات کیا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں گا اس پر ان کے لئے پابندی لگانے کی کھوج میں چلنا پڑے گی۔
یہ سب تمام کچھ، اس لئے کہ وہ اپنی جان کھیل رہے ہیں ایران نے صدیوں سے امریکا پر حملہ کرنا شروع کیا ہوتا ہے اور اب وہ بھاگنے کے لیے چلتے ہیں اس سے پہلے کیوں؟ ایران نے سب کو ان پر حملہ کرنے کو مجبور کیا ہے اور اب وہ پھنس گئے ہیں
یہ بات ایسے سے نہیں آئی تھی کہ دونلڈ ٹرمپ صدر ہونے کے بعد یہ سب سے پہلا اعلان کروگا? ایران کی جانب سے بھی معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہونا ایسا نہیں ہوگا کہ دونلڈ ٹرمپ کو اس کے ساتھ دوسرے معاملات میں بھی بات چیت کرنا مل جائے گا؟
میری رايٰ میں یہ بات بہت اچھی ہوگی کہ ایران نے امریکا سے تعلق رکھتے ہوئے ایسے معاملات میں بات چیت کی جائے جو اس کی جانب سے حقیقی تھیں اور وہ معاملات میں بھی آسانی سے ہم آہنگی کرو سکے.
تینوں جانب سے یقینی بنایا کہ وہ ایک دوسرے سے ڈیل کرلے گا اور کسی بھی صورت حال میں بھی ان کے ساتھ بات چیت کی جائے گی، لاکین ہم نہیں جانتے کہ وہ کس معاملے پر بات کر رہے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنی پچیس دسیاں گینٹوں میں دواہرے معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہی ہیں. ساب-seab-سچھواہرے کے ذریعے اور کسی بھی صورت حال میں باہمی معافیت کی یقین نہیں رکھنا چاہئیے.
امریکے صدر دونلڈ ٹرمپ کو واضع ہوگئے کہ وہ ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں، جو ایک نئی رہنمائی ہے؟ اب سے تو وہ Iran سے تعلق رکھتے ہوئے bhi کہتے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر تیار ہیں اور ان کے ساتھ معاہدے کی سرزنی نہیں ہوئی گی۔ یہ ایک بڑا قدم ہے؟
میری توجہ اس بات پر مبنی ہے کہ اگر ایران نے اپنے معاشرے کے لیے دواہرے معاملات میں بات چیت کرنے پر یہ تیار ہو گئی تو اب بھی کوئی حد تک واضح نہیں ہوتی کہ ان کے ساتھ کیسے بات چیت کی جائے گी। میں اور تیری بات کیوں پہلی دفعہ سن رہا ہوں؟