ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا آغاز، 20 عالمی رہنماؤں نے امریکی صدر کے ساتھ چارٹر پر دستخط کر دیے

سارس

Well-known member
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر خطاب میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اقتدار میں واپسی کے بعد آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے، جس سے عالمی سطح پر کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔

انہوں نے Iranians سے متعلق گفتگو میں گزشتہ برس جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کی تعریف کی اور دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اب مذاکرات کا خواہاں ہے اور امریکا سے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کر رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہIran Iran میں اپنی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہوئی ہے ، اور اس کی جگہ بھرپور مزیدتی کا عمل ہو رہا ہے۔

صدر ٹرمپ نے شام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں مثبت پیشرفت ہو رہی ہے اور یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطیٰ کو درپیش سکیورٹی خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل دنیا شدید بحران کا شکار تھی، تاہم اب حالات نسبتاً بہتر اور مستحکم ہو رہے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ حیرت انگیز تر بات نہیں۔

اسی موقع پر صدر ٹرمپ نے اپنے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس فورم کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، اور امریکا کی جانب سے انہیں ملازمت میں بھرپور دلچسپی اور تعاون کا اعلان کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق 59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فورم کے ذریعے دنیا کو ایک جدید سیکورٹی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہو گا، اور اس میں ان کے تمام عالمی رہنما اور رکن ممالک کا حصہ شامل ہو گا،

انہوں نے ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط بھی کیے، جس موقع پر بحرین اور مراکش کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، اور ان کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی آکر چارٹر پر دستخط کیے،

غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ترک نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، واضح کیا کہ امریکا اقوامِ متحدہ سمیت دیگر عالمی اداروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا،

اس کے بعد انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ڈیوس میں اس معاہدے پر دستخط کرنے سے یہ حقیقت کے سامنے آئے گی کہ ان تمام ممالک نے ایک دھندلی سیکورٹی پالیسی سے انکار کیا ہے، اور اس کا مقصد دنیا کو ایک زیادہ سیکورٹی میں لے جانا ہے۔
 
اس امریکی صدر کی باتوں پر بہت کھل کر رہنے والوں کی پوری بھاری جگہ ہے، اس نے ایسا کہا ہے جو اور کچھ نہیں بلکہ انہوں نے دنیا کو ایسا دکھایا ہے جس سے کسی کی تھкائی نہیں ہوتی، یہ اعلان دیکھنا کہ دنیا کو ایک سیکورٹی پلیٹ فارم فراہم کرنے کا مقصد رکھا گیا ہے تو بہت ممتاز ہے، اور وہ اس فورم میں کتنے عالمی رہنماؤں کی شرکت کا اعلان کر رہے ہیں تو یہ ایک بڑی چیلنج ہو گیا ہے، اور یہ بات بھی واضح ہوئی ہے کہ کیسے دنیا کو ایسا سیکورٹی پلیٹ فارم دکھایا جائے گا جو اس میں تمام عالمی رہنما اور ممالک کی شرکت شامل کرے، یہ تو بہت ایک اچھی بات ہے،
 
ارمنیوں پر امریکہ کی رینکشنس کی بات کرنے کا یہ دعویٰ، میرے لئے بھرپور حیرت انگیز تھی.USA کی جانب سے ایران میں جو ہمیشہ سے موجود تھی جہتی ہینس، اس پر اب یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اب ختم ہو چکی ہے.علاوا انہوں نے ایران میں ایک بھی جنگ نہیں لڑی، اور اگر حماس کو اس طرح سے ہتھیار ٹھکانے پر مجبور کیا جائے تو واضح کیا کہ یہ معاہدہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔امریکہ کی جانب سے اسی طرح کی بات چیت کی ضرورت نہیں ہوسکتی، اس لیے میں یہ کہنا مشکل ہو گا کہ امریکی صدر کے دعویٰ کی کیا بنیاد ہو سکتی ہے
 
تجھے معلوم نہیں ہوگا کہ پچاس وار اور ان کی جسمانی شہادت کی کتنے سال ہو گئے ہیں، یا کہ اب تک سے دنیا میں کتنی جنگ ہوئی ہے؟ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر ایک اچھی نئی جنگ لڑ رہے ہیں جس سے دنیا کی دوسری جنگوں کے خاتمے کا انکشاف ہوا، لیکن مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک دھندلی سیکورٹی پالیسی پر چل رہے ہیں جس سے اسے اپنی ماضی کی نقصانوں کی کھائی پھیری کرنے کی اجازت دی گئی ہے।
 
یہ کام کچھ بھی نہیں ہوگا اس عالمی فورم سے، 59 ممالک اچھی طرح سے شامل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن دنیا کو ایک زیادہ سیکورٹی میں لے جانا نہیں تھوڑی سی جگہ پر امن کے معاملات کا زور دینے سے زیادہ ہو گا، داعش یا حماس کو حل کرنے کے لیے یہ فورم کافی نہیں ہوگا، ہر سال ایک نئا اور بھی نویں بات پیش کی جائے گی۔
 
اللہ عجتلے… یہ بھی پچاس سالوں کی دیر پر چلا گیا ہے… ایک ایسا دور جب امریکی صدر کہتے تھے کہ انہوں نے 8 جنگوں کا خاتمہ کر لیا ہے… اور اب وہ کہتے ہیں کہ ایران کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے… یہ ایک حقیقت کے ساتھ نہیں جائے گا…

اور شام میں داعش کے خلاف امریکی کارروائیوں کا حوالہ دینے کی بات بھی اچھی نہیں ہے… اگر پچاس سال پہلے یہ بات چیت تھی تو وہ کیا ہوتا؟

یہ بورڈ آف پیس کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے… لیکن یہ بھی پچاس سالوں کی دیر پر چلا گیا ہے…

غزہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ترک نہ کیے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے… یہ بھی ایک حقیقت کے ساتھ نہیں جائے گا…

ہم کو یہ سوچنا چاہئے کہ دنیا میں ایسا وقت آیا ہے جب دنیا کو ایک حد تک تاکف پلیٹ فارم کے لیے مجبوری کرنا پڑتا ہے…
 
وہ بات غلط نہیں کہ امریکہ نے شام میں داعش جیسے خلیجی Terrorist Groups پر کارروائی کی ہے، اور یورپ اور مشرق وسطیٰ کو ایسے Security Threats سے محفوظ کرنا ہے لیکن اس بات پر غلطی نہیں کہ صدر ٹرمپ نے شام میں داعش جیسے Terrorist Groups کی تردید کی ہے۔

اس فورم کا مقصد ان تمام بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، اور امریکا کی جانب سے انہیں ملازمت میں بھرپور دلچسپی اور تعاون کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن اس فورم کے چارٹر پر دستخط کرنے والوں میں کچھ لوگ کیسے سہی اور کیسے بھولے؟
 
وہ یہ بات کہہ رہا ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی بھی ناکامی ہو تو دنیا کا ایک بڑا حصہ خطرے کے سامنے اٹھنا پڑے گا، اور ڈیوس میں یہ معاہدہ صرف اس لیے کامیاب ہو سکتا ہے کہ جس سے دنیا کو ایک زیادہ سیکورٹی میں لے جانا ہو، اور یہ بات بھی واضح کیا گیا ہے کہ اس معاہدے سے دنیا کو ایک ممتاز اور مضبوط سلامتی فراہم کی جا سکتی ہے۔
 
امریکی صدر ٹرمپ کی باتوں کھیلتے ہوئے، یہ کہتا ہے کہ وہ اٹھارہ جنگوں کا خاتمہ کر چکے ہیں؟ میرے لئے یہ بات بہت غلط ہے کہ ان کو اس معاملے میں اچھا پہلو کہنا جا سکتا ہے، وہ صرف ایک جانب دیکھ رہے ہیں اور ایران پر حملے کرنے کے بعد کی بات کر رہے ہیں؟

جنگوں سے نکلنے کا یہ دعویٰ ٹrimم کو اس کے اقدامات سے مٹانا چاہیے، وہ لوگوں کو کہتے ہوئے دکھای رہے ہیں کہ وہ ایسے معاملوں میں دلچسپی رکھتے ہیں جو اس نے خود توجہ دی ہے، انہوں نے ایران پر حملے کرنے کا جواب ایک دوسرے سے لڑنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ اس کی جوہری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے، میرے لئے یہ بھی غلط ہے

اس لیے میں اس حوالے سے اپنے خیالوں کی بات کر رہا ہوا کہ یہ دعویٰ کو کسی بھی معاملے میں نہیں لیتا ہوا کہ وہ ڈیوس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط کر رہے ہیں، اور اس کے بعد بھی یہ دعویٰ بناتا ہوا کہ ان کی ایک دھندلی سیکورٹی پالیسی سے انکار کیا گیا ہے

اس حوالے سے میں اس کے منفرد خیال اور اقدامات پر غور کرتا ہوں
 
یہ حقیقت تو محض کہانی نہیں ہے کہ امریکا نے دنیا کو ایک سیکورٹی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی یہ اعلان کیا ہے، مگر یہ سوال بھی آتا ہے کہ اس فورم کے ذریعے دنیا کو ایسا سیکورٹی پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہئے کہ اس میں تمام ملک اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کریں، مگر یہ معاملہ اچھا سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس فورم میں بھی کئی ناکام تحریکیں ہوگئیں ہیں، اور اب یہ سوال آتا ہے کہ اس سیکورٹی پلیٹ فارم کی واضح نشاندہی نہیں کی جائے گی، مگر یہ بات تو محض تصورات پر مبنی ہے۔
 
یہ کام تو بھی تو! امریکی صدر کی باتوں کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، چاہے وہ اپنی جانب سے آٹھ جنگوں کا خاتمہ کیا ہے یا نہیں، یہ بھی تو پتا ہے کہ دنیا کی صورتحال کچھ بھی نہیںBadal rahi hai, مگر ان کے مطابق امریکا اور ایران میں مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر ہو رہی ہے، تاہم ایران کی جوہری صلاحیت کھل کر نہیں دکھائی گئی، اور اس کی جگہ بھرپور مزیدتی کا عمل ہو رہا ہے, مگر یہ بات تو سمجھنے میں آسانی نہیں ہوتی کہ امریکا شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ملکوں کو بھی اس کے مقابلے کی ترجھاد دی چکی ہے?
 
واپس
Top