ایران کی عدلیہ نے موساد سے جاسوسی کے الزام میں ایک مزید شخص کو پھانسی پر لٹاک دی ہے۔ اس سے قبل Ali Ardeshiri کو بھی یہی الزame me puka diya gya tha. اس دौरے میں ایران کی حکومت نے اسرائیل کے لیے جاسوسی میں ملوث رہنے والوں پر سزا دی گئی ہے جو Iran میں پھنس گئے ہیں۔
پولیس اور انٹیلی جنٹل ایجنسی نے حامد رضا ثابت اسماعیل پور کو Ali صبح کی جگہ لے لیا ہے جس پر موساد سے جاسوسی کا الزام تھا۔ حامدرضا کو April 2025 میں ہی Iran میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے اس شخص کو Iran کی فوجی اور تحریک revolutionary Guard میں مدد کے لیے آلات خریدنے، دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی میں کردار ادا کرنا اور اسرائیل تک پہنچائی ہوئی معلومات کے لیے سزا دی تھی۔
ایران میں Iran اور Israel کے درمیان جنگ کے بعد سے لگ بھگ دو سے چار سال سے پھانسی دینے کی سزائے موت دی گئی ہے۔ اس مدت کے اندر سے ایران میں Israel پر حملے میں پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
گزرشہ برس June میں Israel نے ایران پر حملے میں Passaderan Revolution کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعدIran کی حکومت نے انکوائرلشن شروع کی جس میں Israel کو معلومات کی درست فراہمی ملک کے اندر سے ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا گیا جس میںIran میں dozens افراد کو حراست میں لیا گيا تھا جن پر Israel کو information فراہم کرنے کا allegation ثابت ہوا تھا۔
اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اوروں نے ان لوگوں سے محبت کی کیا جس پر ایسے الزامات لگائے گئے؟ Iran میں Israel کے خلاف ان حملوں کے بعد کیا ہوا، Iran کی حکومت نے اب بھی وہی ذیل سزا دی رہی ہے جو قبل سے ہی تھی؟ اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اوروں نے ان لوگوں سے محبت کی کیا جس پر ایسے الزامات لگائے گئے?
اس کے علاوہ، Iran میں فوجی اور تحریک revolutionary Guard میں مدد کے لیے آلات خریدنے اور اسرائیل تک پہنچائی ہوئی معلومات فراہم کرنا جیسے کارروائیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ اور کیا اس صورتحال کو حل کرونا مشکل ہے؟
ایران میں ایسے سارے واقعات نکل رہے ہیں جس کا اندازہ لگنا مشکل ہو رہا ہے۔ اچھے سے دیکھ لیا جائے تو April 2025 میں Iran میں حامد رضا ثابت اسماعیل پور کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب اس پر موت کी سزا دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ Iran کی حکومت نے Israel کو معلومات فراہم کرنے والوں کو پھانسی پر لٹاکنے کی کار्रवाई شروع کی ہے۔ اب تک April 2025 سے June تک Israel کے حملوں میں دو سے چار سال لگ گئے ہیں اور اس دوران Iran میں dozens افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔
دیکھا جائے تو April 2025 سے June تک Israel نے Iran پر حملوں میں Passaderan Revolution کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اچھی طرح سے دیکھ لیا جائے تو April 2025 میں حامد رضا ثابت اسماعیل پور کو Israel سے جاسوسی کا الزام تھا جو Iran میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔
دیکھ لیا جائے تو اسی دوران Iran کی حکومت نے Iran اور Israel کے درمیان جنگ کے بعد سے لگ بھگ دو سے چار سال سے پھانسی دینے کی سزائے موت دی گئی ہے۔ اس دوران dozens افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور Israel کو معلومات فراہم کرنے کا allegations ثابت ہوا تھا۔
اس طرح Iran کی حکومت نے Israel پر حملوں سے پہلےIran میں dozens افراد کو حراست میں لیا تھا اور اس دوران Passaderan Revolution کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
جاسوسی میں موت کی سزا دی گئی ہوئی حامد رضا ثابت اسماعیل پور کا کہنا ضروری ہے کہ ایران اور Israel کے درمیان جنگ کے بعد سے لگ بھگ دو سے چار سال سے پھانسی دینے کی سزائے موت دی گئی ہے۔ اس دوران dozens افراد کو حراست میں لیا گیا تھا اور Israel کو معلومات فراہم کرنے کا allegations ثابت ہوا تھا۔
ایسا نہیں ہو سکتا ہو؟Iran اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے ایک دوسرے پر پھونس دیتے رہتے ہیں لیکن اس گریبان حالات میں بھی معاف نہیں ہونا چاہئیے۔ حامدرضا ثابت اسماعیل کو اور Ali Ardeshiri کے جیسے لوگوں کو کیا فائدہ ہوگا جو Israel کے ساتھ مل کر ان سارے واقعات کی پوری کہانی بتاتے چلے آ رہے تھے؟
ایران کی عدلیہ نے ایک مزید شخص کو پھانسی پر لٹاک دیا ہے، لیکن یہ بات کبھی نہیں سوچنی چاہیے کہ ان کے ساتھ Israel کو معلومات فراہم کرنے کا الزام تھا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ Iran کے حکومت نے اس شخص کو Iran میں گرفتار کر لیا، اور بعد ازاں انہیں فوج اور تحریک Revolutionary Guard میں مدد کے لیے آلات خریدنے، دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی میں کردار ادا کرنا اور اسرائیل تک پہنچائی ہوئی معلومات کے لیے سزا دی گئی ہے؟ یہ سب Israel کے خلاف ایک اسی مہم کی част ہے، جس کا مقصد Iran کو Israel پر حملے میں PASSADران REVOLUTION کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنانا تھا۔
ایران کی عدلیہ نے Mossad سے جاسوسی کے الزام میں ایک مزید شخص کو پھانسی پر لٹاک دیا ہے اور یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ حکومت نے Israel کی طرف سے ملنے والے لوگوں پر سزا دی تھی۔ لیکن اگر Iran میں Israel پر حملے میں Passaderan Revolution کے اعلیٰ کمانڈرز، فوجی افسران اور ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے بعد سے لگ بھग دو سے چار سال سے پھانسی دینے کی سزائے موت دی گئی ہے۔ نا کہ ایسے افراد کو جاسوسی میں ملوث رہنے پر پھانسی دیتے ہیں۔ یہ بھی بات قابل توجہ کی ہے کہ Iran میں Israel کو معلومات فراہم کرنے والوں پر سرچ آپریشن شروع ہو گئے ہیں اور dozens افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
Wow! Iran ki Adliyah naye mazdoor ko phansi par litakar diya hai. Interesting. Yeh bilkul suni saamne aaya hai. Mere khayalon meh Iran ki government ke hisab se Israel ke liye jasoosi me mlooth rehne walon ko saza di gayi hai. Jawabat yeh hai ki Iran mein pheens gaye hain.
یہ بات تھی کہ میں بھی ایک دیکھا ہوا ہے جس نے مجھے اچھی طرح متاثر کیا ہے، وہ ایک پہلا سیزن تھا جس میں میٹرو کے ٹرانسفر میں بے روزگاری والوں کو رینج دی جاتی ہے اور اس نے مجھے ان لوگوں کی کہانی سنی تھی جو اپنے زندگی کو بدلنا چاہتے تھے لیکن ابھی بھی وہی مواقع موصول ہوتے ہیں اور ان کے بعد بھی نئے مواقع کھو جاتے ہیں۔
میری رाय ایسی ہے کہ Iran میں دوسرے لوگ بھی حامد رضا ثابت اسماعیل پور جیسے افراد کو پھانسی پر لٹاکنے کی سزا دی جائے گی... نہیں، میرا خیال ہے کہ اگر اہل قیادہ انہیں بھی پھانسی پر لٹاتے ہیں تو وہ اس کی سزا ادا کرنے والوں کو بھی پھانسی پر لٹاک دیتے ہیں... یہ دیکھنا تھکہ اٹھتے ہیں کہ ان لوگوں نے Iran کی فوجی اور تحریک Revolutionary Guard میں مدد کے لیے آلات خریدنے، دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی میں کردار ادا کرنا اور اسرائیل تک پہنچائی ہوئی معلومات کے لیے سزا دی گئی... میرے خیال ہیں کہ اس وقت کو دیکھتے ہیں تو وہ لوگ جس پر یہ الزامات تھے ان کے خلاف نہیں لگتی... اور اگر وہ سزا ادا کر رہے ہیں تو وہ بھی قوم کی مدد کرتے ہیں...
ایران کی عدلیہ نے ابھی سے پھانسی دینے کی سزائے موت دی رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہ بھارosa ہو رہا ہے۔ پہلے Ali Ardeshiri کو اور اب حامدرضا ثابت اسماعیل پور کو یہی سزا دی گئی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایران کی حکومت نے Israel کے خلاف سرچ آپریشن شروع کر لیا تھا اور اس کے بعد ان لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جن پر Israel سے جاسوسی کا الزام تھا۔
ایران میں Israel کے ساتھ جنگ کے بعد سے Iran کی حکومت نے پہلے بھی Israel پر حملے میں Passaderan Revolution کے اعلیٰ کمانڈرز اور فوجی افسران کو نشانہ بنایا تھا، اب وہ Israel سے جاسوسی کرنے والوں پر بھی سزا دی رہی ہے۔
لیکن یہ بات بھی توجہ دئے جائے کہ ایران کی حکومت نے ابھی Israel کو معلومات فراہم کرنے والوں پر سزا دی رہی ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی معلومات حاصل کر رہی ہے۔ اس سے Iran کی حکومت کے درمیان Israel اور Iran کے درمیان گھنٹوں میں گزرشہ ہوتا جا رہا ہے۔
ایران کی عدلیہ نے فوری ہی ایک شخص کو پھانسی پر لٹاک دیا ہے جس پر Mossad سے جاسوسی کا الزام تھا ، یہ تو ایران میں Israel پر حملے سے پہلے سے ہی جاسوسی کی رکنوں کو پھانسی پر لٹاک دیا جا چکا ہے۔ حامدرضا اس شخص پر Mossad سے جاسوسی کا الزام تھا اور عدلیہ نے اسے Iran میں فوجی اور تحریک revolutionary Guard میں مدد کے لیے آلات خریدنے، دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی میں کردار ادا کرنا اور اسرائیل تک پہنچائی ہوئی معلومات کے لیے پھانسی دی تھی.
ایران کی عدلیہ نے ابھی سے ایسے لوگوں کی پھانسی دی جاسکتی ہے جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کر رہے ہوں؟ ایران میں دھماکہ خیز مواد سے لیس گاڑیوں کی منتقلی اور اسرائیل تک پہنچائی جانے والی معلومات کے لیے یہ سزا اتنی ہی دیرپا ہو گئی ہے؟
اس سارے ماحولیے نے ایران میں ایسے لوگوں کی پھانسی پر لٹائی ہے جو اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے تھے یہ تو انتقامی عمل ہے مگر یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ لوگ ایسے سے جاسوسی کرتے تھے جن کی زندگی ایک نہانہ ہو گیا تھا، اب ان کی مौत اور ان کے خاندانوں کی صعبت کتنے بڑی ہوگی
اس Iran کی عدلیہ ko kaisi decision li hai? Ek baar phansi di gayi hai, fir ek baar chalna hoga jab tak yeh Israel ke saath koi problem nahi hai
Mere likhaan ka message ye hai: Iran ki government ko apni operationon mein bhi zyada transparency dene ki zarurat hai. Yeh information ki galti se milne ke liye aisi operations nahi chalani chahiye.
Diagram (ASCII art):
```
+---------------+
| Iran ki |
| government |
| information |
+---------------+
|
|
v
+---------------+
| Israel ko |
| galti se milne|
| wale data |
+---------------+
```
Aur, phir yeh question aata hai: Iran ki government ka kya solution hai? Agar Israel ke saath koi problem nahi hai to Iran ki government ko apni operations mein zyada transparency dene ki zarurat hai. Yeh information ki galti se milne ke liye aisi operations nahi chalani chahiye.
ایران کی پھانسی دینے کی سزائے موت دی گئی ہے، یہ ایک خطرناک بات ہے لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اگر آپ کے خلاف کوئی الزام بھرنا پڑتا ہے تو ان کو سزا ملنی چاہیے … اس واقعات میں Israel کا ایسے لوگ شامل تھے جو Iran میں پھنس گئے تھے اور وہاں کوئی information فراہم نہیں کر سکتے … Iran کی حکومت نے اس کے لیے ایک بڑا انکوائرلشن شروع کیا ہے۔
اس وقت ایران کی عدلیہ بھیIsrael سے بھی ایک دوسرے کے خلاف پھانسی دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ ابھی Ali Ardeshiri کو بھی اسی طرح کی سزا دی گئی تھی، اب حامد رضا ثابت اسماعیل پور کو بھی اسی سے نجات نہیں مل سکتی۔ یہ کبھر کبھر کچن میں ہی ہوتا جاتا ہے، ایک شخص اپنا دوسرا پہچانتا ہے اور پھانسی کا درجہ پہنچاتا ہے۔ لگتا ہے کہ اس وقت Iran میں Israel سے بھی جاسوسی کی شروعات کر دی گئی تھی اور اب انہوں نے اسی کو بھگادنا شروع کر دیا ہے۔ ہر ایک اپنی پریشانی کا بہानہ بنا رہا ہے، یہ تو واضح ہو چکا ہے کہ ایران میں Israel سے جاسوسی کی شروعات کر دی گئی تھی اور اب انہوں نے پہلے سے بھی اسی کو ہلاک کر لیا ہے۔
ایران کی یہ عدلیہ واضع ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جاسوسی کی کوششوں کو جو انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں وہاں تہمہ دھواڑ نہیں ہونی چاہیے! پورے Iran میں Israel کے لوگوں کی جان سے نجات کی جا رہی ہے. اس عدلیہ کو ان لوگوں کی وکالت کرنے والوں کی بھی مدد ضروری ہے جن پر یہ الزامات ڈالا جارہا ہے مگر ابھی تک ان کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہوا ہے.
ایسا لگتا ہے کہ ایران کی عدلیہ ان سے توڑ پھوٹی ہوئی ہے جو اور تو Mosad سے جاسوسی کرتے ہیں. پورے دौरے میں کیا ہوا تھا وہ نہیں دیکھتے. Israel کو information فراہم کرنے والوں پر پھانسی دی گئی ہے، اور اب ان سے بھی توڑ پھوٹی ہوئی ہے. پورے دौरے میں ایران کی حکومت نے Israel کو information فراہم کرنے والوں پر دباؤ ڈالا تھا، اور اب ان کے لیے نتیجہ آچکا ہے. یہاں تک کہ Iran میں Israel کو information فراہم کرنے والوں کی تعداد بھی کم ہو گئی ہے. لگتا ہے کہ ایران کی حکومت نے اس سے اپنی سلامتی کو بڑھایا ہے.
ایسا لگتا ہے کہ Iran کی حکومت نے اپنی ایک پھانسی کا سلسلہ جاری رکھنا شروع کیا ہے اور اس میں Israel کے لوگوں کو بھی بھر پور معاف کر دیا جائے گا۔ مگر دیکھو! ایسا نہیں ہوا جیسا کہ لوگ سوچتے ہیں، حامد رضا ثابت اسماعیل پور کو بھی سزا دی گئی ہے جو April 2025 میں ایران میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ Iran کی حکومت نے اپنی جانب سے بھی Israel کے خلاف کام کیا ہے اور اب وہ دوسری طرف جانے والوں پر بھی نظر رکھنے لگی ہے।