ٹرمپ کی دھمکی: ڈنمارک اور گرین لینڈ کی امریکا سے بات چیت کی درخواست

کلامِعشق

Well-known member
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے مطالبے پر ڈنمارک اور گرین لینڈ نے امریکا سے بات چیت کی درخواست کی ہے، جس میں گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اے پی کے مطابق ٹرمپ کے ایسے بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طویل مدتی منظر عام پر قبضہ کی بات کا دھمکی آمیز انداز ہیں، جس سے نیٹو اتحاد کے خاتمے کی بھی سوچ سے ہوتا ہے۔

انہوں نے یورپی دفاعی تجزیہ کار ماریا مارٹیسئیوٹے کو بتایا کہ ٹرمپ کے بیانات ایک اتحادی ملک کی خود مختاری کے لیے خطرناک ہیں۔ جب کہ گرین لینڈ نے اسی طرح کی وعدوں کو مسترد کیا، یہ بات پھیلا دی گئی کہ معدنی وسائل سے مالا مال یہ جزیرہ اس کے عوام کا ہے۔

فرانس، جرمنی، اٹلی، پولینڈ، اسپین اور برطانیہ کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں یہ کہا کہ گرین لینڈ کی خود مختاری کو حمایت کی جائے گی اور نیٹو کے بنیادی اصولوں کے خلاف کسی بھی قسم کا دباؤ مسترد کیا جائے گا۔
 
مروں سے ڈونلڈ ٹرمپ کی بات چیت کے مطالبے پر گرین لینڈ نے امریکا سے بات چیت کی درخواست دی ہے، یہ بات تو واضع ہے کہ ایسے معاملات میں بات چیت اور دباؤ دونوں کے خلاف ہیں۔ گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضے کا مطالبہ تو بے حرمت ہے، جیسے اس کے عوام کا معاملہ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اس نے اپنا وطن پرستی محفوظ رکھا ہوے۔

مروں کو یہ بات تو بھی پتہ چل گئی ہے کہ نیٹو اتحاد کی دیرینہ تاریخ اور گرین لینڈ کی خود مختاری کے تحفظ پر یہ تنازعہ کبھی حل نہیں کیا جائے گا۔ یورپی رہنماؤں نے مشترکہ بیان میں اپنی حمایت کی وعدوں دی ہیں، لیکن جو اس سے پتہ چلتا ہے وہ یہ ہے کہ ایسے معاملات میں دباؤ اور بات چیت دونوں کے خلاف ہیں۔
 
امریکی صدر ٹرمپ نے جرین لینڈ پر اپنی فوجی قبضہ کی وعدوں کو سنا تو مجھے اچھی لگ رہی ہے ان سارے بیانات سے میری صحت بھی کمر نہیں ہوئی کہ لوگ اس ملک میں واقف نہیں ہوں اور انہوں نے اپنے ملک کو یقینی طور پر ایک بڑے ملک کی جیسا پیش کش دیا ہے۔ میرے خیال میں یہ نئی ہندوستان بنانے کے لیے ایک بہت بڑا اقدامہ ہے، وہ لوگ جو اس ملک کی خودمختاری کو دھमकایا گیا تو وہ اپنی زندگیوں کو توڑنے والے ہیں۔
 
اسے دیکھنا مشکل ہے کہ امریکی صدر نے ایسے بیانات دیے ہوں جو نیٹو اتحاد کے خاتمے کی جانب لے رہے ہیں، اور یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ گرین لینڈ کے عوام کی دولت اسے ملک کا حصہ بنانے کی طاقت ہے...

یہ تو بہت خطرناک ہے، خاص طور پر جب یہ بات پھیلائی گئی ہے کہ گرین لینڈ کا جزیرہ اس کی عوام کا ہے...

ہمیشہ سمجھتے آئے تھے کہ نیتو اچھی طرح سے کام کر رہا ہے، لیکن اب یہ بات بھی دکھائی گئی ہے کہ اس کی موثریت کی پہچان نہیں ہوتی...
 
ایسا لگتا ہے جو ان کی بات سے یورپی ملکوں کو کچھ نکلنا چاہیے، گرین لینڈ پر امریکی فوجی قبضے کا مطالبہ تو بالکل بھی چیلنجنگ ہے… اس بات کو سمجھنا ضروری ہو گا کہ یورپی ملک ان حالات میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں… اس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات میں کچھ ایسا ہے جو ابھی تو خوفناک بھی لگ رہے ہیں… 🤔
 
یہ تو عجیب بات ہے کہ امریکہ اس طرح کے بیانات کرتا رہا ہے جس سے نیٹو اتحاد کی صورتحال بدلتی ہے، لیکن وہ لوگ جو نتیجہ دیکھتے ہیں وہ تو چیلنج کرتے ہیں مگر اس پر ان کا دباؤ کیسے لگے گا؟

اس طرح کی باتوں سے یورپ کے نتیجہ ناکام ہونے کی بات ہی چلو، مگر اب بھی امریکہ جسے دباؤ کیا جا رہا ہے وہ تو اس پر استحکام بناتا رہے گا، اور یہی بات گرین لینڈ کی صورتحال سے بھی ملتی ہے؟
 
میری نظر میں یہ بات ایسے توہین آمیز ہے۔ امریکا کی پالیسی کا یہ سیکھنا بھی نویں چوتھی ڈگری والوں کو سمجھنے کی بات ہے، کیونکہ وہاں لگتا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ کرنا ایسا نئے صلاحیتوں کا تجربہ ہی نہیں ہو گا؟ یورپی ممالک کی جانب سے وہ بات بھی اچھی ہے کہ ان کی حمایت میں نہیں ایسا ہونا چاہئے۔

ہم توشاہیوں کو جاننا چاہیے، اس لیے میں اس پر مزید غور کروں گا؟
 
ٹرمپ کو اپنی مدتی منظر عام پر قبضہ کی بات تو ہی دھمکی ہوگی ، نہیں تو وہ امریکہ کی صرف ڈی ایس ٹی کے لیے ہی فٹ ہوجاتے . گرین لینڈ پر قبضہ کا مطالبہ تو بھارتی اور پاکستانی فوجوں کے قبضے کی طرح ایک طویل تاریخ والی بات ہوگی , نہیں تو وہ اسے لازمی طور پر قبول کر دیجگا .
 
ایسا ہی رہے تو نیٹو کی طاقتوں نے امریکہ کو ایک چیلنج دیا ہوتا تو انھیں یہاں تک پہنچنا پڑتا کہ جرمن اور فرانسیسی فوجی اسے باقی وہیں رکھ کر آئیں 🤣. گرین لینڈ کی خود مختاری پر دباؤ لگایا گیا تو اس نے بھی کچھ بات کہی پھر کہتے ہیں کہ معدنی وسائل اس کاProperty ہیں 🤑. نیٹو کی طاقتوں نے امریکہ کو کیا بے نتیجہ دیا ہوتا تو انھیں یہاں تک پہنچنا پڑتا کہ جرمن اور فرانسیسی فوجی اسے باقی وہیں رکھ کر آئیں.
 
اس کی چہم ہے! امریکی صدر کے بیانات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ وہ اپنی طویل مدتی منظر عام میں امریکہ کی پوری طاقت استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ پر قبضہ کا مطالبہ بھی ان کا ایک دھمکی آمیز بیانات ہے، جس سے یورپی ملکوں کو اتھنا پڑ رہا ہے۔ لیکن یہ بات کوئی نہیں بنائی گئی کہ امریکی فوجی قبضے کی اس طرح کی وعدوں سے ان کی خود مختاری کو نقصان پہنچ سکتا ہے، ایسے میں یورپی ملکوں کو ضروری نہیں کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے طاقت کی پیشکش کرنی ہو۔
 
amerika se kiya gaya hai ki wo apni sena ko greenland par lagakar uske liye nahi balki apne dushman ko rok sakega 🚫 toh ye bilkul sahi kaha ja sakta hai, kyunki america ka yeh bhi matlab hai ki woh apne doston ke khilaaf bhi kya karegi? 🤔 aur wo greenland ki sena ko lagakar uske liye nahi balki apne dushman ko rok sakega toh ye sahi hai ki europee countries ne kaha hai ki hum greenland ki azadi ka support karenge. kyunki yeh ek khaas baat hai, america ki sena kisi bhi desh ke liye lagakar uske liye nahi balki apne dushman ko rok sakta hai. aur wo hi bilkul sahi kaha ja sakta hai jo keh rahe hain ki greenland ki azadi ka support karenge, kyunki yeh ek azaad desh hai jis ke pas logon ka sapna bhi hota hai. 🌟
 
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کی بات چیت کی طلب تھی، لیکن وہ فوجی قبضے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا ایسا رد عمل نہیں آ سکتا جیسا اس کے بعد نتیو اتحاد کو ہٹا دیا جائے گا! گرین لینڈ کی معدنی وسائل کبھی بھی عوام کے ہاتھ میں نہیں آ سکتیں اور امریکی فوجیوں کو اس پر قبضہ کرنا ایک دھمکی آمیز کارروائی ہیں! یورپی رہنماؤں نے ان کے بیانات سے بھی خوفزدہ تھے، وہ ان کے خطرات کو سمجھتے ہوئے ایک مشترکہ بیان میں یہ کہا کہ گرین لینڈ کی خود مختاری کو حمایت کی جائے گی اور نیٹو کے بنیادی اصولوں کے خلاف کسی بھی قسم کا دباؤ مسترد ہو گا! 🙅‍♂️
 
"جب آپ کے قدموں پر زچک ہوتی ہے تو انہیں ٹھہرایا نہیں جا سکتا، ایسے میں انہیں چلنا پڑتا ہے"
 
واپس
Top