واشنگٹن میں امریکی صدر Donald Trump نے کہا ہے کہ روسی صدر Vladimir Putin نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر حملے نہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست نہیں کی تھی کہ یہ رکھنے والیں لڑائیوں کو روکنے پر آمادگی ظاہر کریں، لیکن اس پر Putin نے اتفاق کیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ذاتی طور پر Putin سے درخواست کی تھی کہ غیر معمولی سرد موسم کے دوران شہری علاقوں کو نشانہ نہ بنایا جائے، لیکن یہ واضح نہیں ہوا کہ اس پر Putin کیا ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ یہ درخواست بے سود ہو گی، لیکن Putin نے اس پر رضامندی ظاہر کی ہے اور یوکرین کی عوام کو یہ خوشی ہے۔ تاہم ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس معاہدے پر کب سے عمل ہو گا۔
روس کی جانب سے اس معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ہے، لیکن یوکرین کے صدر Vladimir Zelensky نے ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ روس اپنے وعدے پر عمل کرے گا۔
زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ بیان شدید سرد موسم میں کیف اور دیگر شہروں کے تحفظ کے حوالے سے اہم پیشرفت ہے اور ٹیموں کے درمیان متحدہ عرب امارات میں بات چیت بھی ہو چکی ہے۔
یوکرین نے عندیہ دیا ہے کہ اگر روس شہری علاقوں پر حملے روک دیتا ہے تو وہ بھی روسی تیل ریفائنریوں پر اپنے حملے عارضی طور پر معطل کر دے گا۔
یو اے ای کے آغاز کے بعد پہلی سہ فریقی ملاقات ہوئی تھی جسے تعمیری قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاہدے پر اب بھی شک ہے کہ یہ کب سے شروع ہو گا۔
اس معاہدے پر شک ہے، میں تو اچھا لگتا ہے کہ یہ یوکرین کو ایک راز مینے پہنچای گے لیکن اس پر عمل ہونے کی تاریخ نہیں بتائی گئی، اور یہ بھی تو یوکرین کا انتظار کر رہا ہے لیکن یہ معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی
اور تو پھر یہ بات ہے کہ اگر روس کی جانب سے یہ معاہدہ موافقت کی جائے گی تو یہ بھی یوکرین کے لیے ایک اچھا نتیجہ ہو گا۔ لیکن اس پر یقین نہیں لگتا کہ روس کو اپنے وعدوں پر عمل کرنے کی توجہ دی جائے گی۔ اور ٹرمپ کو یہ بھی انتباہ ہو گیا چاہے اس معاہدے کے بارے میں کام کرنا ہو یا نہیں، لہٰذا یہ دیکھنا ہی پہلا ہو گا کہ روس کی جانب سے اس معاہدے پر عمل کیا جائے گا۔
یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ دونوں سرڈار کو ایسے وعدوں پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے جو یوکرین کی سلامتی اور شہری علاقوں کو نشانہ نہ بنانے کے بارے میں ہیں. لیکن اس کا ساتھ کیسے رکھیں گے؟ یوکرین کی सरकار کو ایسے معاہدوں پر عمل کرنے پر مجبور کیا جائے جس کے نتیجے میں روس کی تیل ریفائنریوں پر حملے بھی منسوخ ہوجائیں.
یہ بات غلط نہیں ہے کہ دونوں صدروں نے ایک دوسرے کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں کیا تھا، لیکن یہ بات پوری طور پر حقیقت ہے کہ Putin نے یہ وعدہ قبول کرنا ہوگا، اس سے پہلے بھی تو یہ کہا گیا تھا کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جائے گا! اب پوری دنیا کے سامنے ان دونوں کے بیچ ایک نئی بات ہوگی اور اس پر آپ کیا خیال کرتے ہیں؟
اس معاہدے کی پوری کامیابی نہ ہونے کے بعد کچھ بھی ہوئے تو چلے گا... پہلی بار یوکرین کو وعدہ دیا گیا، اب یہ کب سے ٹیکسٹ نہیں کیا جائے گا...Putin بھی انہیں اس پر رضامندی ظاہر کر رہے ہیں لیکن معاہدے کی تصدیق کرنے میں اتنا مایوس نہیں ہو سکتے... زیلنسکی کو یہ خوشی ہوئی کہ وہ اپنے خطاب میں فریqué ملاقات کی بات کر رہا ہے لیکن پھر کیا اس معاہدے پر عمل ہو گا؟ ایسے میڈیا کے تبصرے تو بہت ہی ناکام رہتے ہیں...
Putin bhi uski request par tha dekhna chahiye . yeh bilkul sense nahi karta ki unhone personal request kiya tha. Kyonki usmein koi guarantee nahi hai. Yeh ek fake news ka jhanda uthata hai.
پتہ چلتا ہے کہ یورپی اتحاد کی اقتصادی صورتحال خراب ہو رہی ہے اور پیداواری تیزاب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور آج بھی یہ سوچنا مشکل ہے کہ یہ صورتحال کب سے روک سکتی ہے؟
ایسے میں پتہ چلا کہ Putin کے پاس کیے جانے والے وعدے پر عمل ہونے میں لگن ہوئی ہے، کوئی بات بھی نہیں ہوتی تو اس پر شک نہیں کرتا ۔ یوکرین کی جانب سے ایسے معاہدوں میں ایک اور بارمباڈر پڑنے سے پچتاو ہوا تو چلو اس پر عمل ہونے کی امید کریں ۔ روس اور یوکرین کے درمیان ایسا معاشرہ بھی بننا چاہئے جہاں دونوں کے درمیان ہم آہنگی رہے ۔
یوکرین کی وہ صورت حال جس نے دنیا بھر میں توجہ مبذول کرلی ہے، اب وہ رات کو بھی شانہ سہنہ کے لئے ہے۔ یوکرین کی عوام کی اور یوکرینی صدر زیلنسکی کے لئے ایک نئی ہمیشہ کی hopes۔ اب جب روس اور امریکا نے مل کر ایک معاہدہ پر دستخط کیے ہیں تو یوکرین کی عوام کا ایک ہی جذبات ہے۔
اس معاہدے سے پہلے بھی اچھائی بھرپور رہی ہے، لیکن اب جب یہ معاہدہ روس اور امریکا کے درمیان ایک نئی hope کی نشانی ہے تو اس پر کسی کی شک نہیں ہونی چاہیے۔
اب جب یوکرین کو یہ خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ روس اور امریکا ایک ساتھ ملا کر یہ معاہدہ پر دستخط کررہے ہیں تو وہ شہری علاقوں کو نقصان پہنچانے سے بچا رہے ہیں، تو اس پر یہ خوشی اور یقین کا محفل ہو رہا ہے۔
پوتن کی بات کرنے والے ٹرمپ نے کیا کہنا چاہیں گے? انہوں نے پوتن کو بھی کیا کہا تھا جو وہ فہم پر لگای گئے اس میں کچھ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے، صرف ایسا ہی رہنا چاہئے جیسا اس نے پہلے بھی کیا ہو گا۔ واضح بات یہ ہے کہ اب تک روس نے اس معاہدے پر عمل نہیں لیا اور اب پھر ٹرمپ کے بیان کی پرامنیت کے بارے میں کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ یوکرین کو یہ خوشی ہو گی یا نہیں۔
اس معاہدے کی واضح نہ ہونے کی وجہ سے کیا لگتا ہے، ان دونوں صدروں کو ایسے میٹنگ کی ضرورت تھی جس پر یہ معاہدہ اس طرح قائم ہوسکے جو ابھی نہیں ہوا۔ Putin بھی اپنے پچھوں کی طرف دیکھ رہے ہیں، کیا وہ اس پر عمل کرے گا؟ یوکرین کی حکومت کا لالچ اور پریشانی بھی ایسی نہیں ہوتی جو اس معاہدے کو شروع کرنے میں پوری طرح مدد دے سکے۔
یہ سارے بات چیت کے بعد نا خلاص ہوئی ہے کیوں کہ واشنگٹن میں ہونے والے یہ معاہدے پر کب تک عمل ہوا کروگا؟ ابھی یوکرین کی جانب سے جو ایک ایسا منصوبہ پیش کیا گیا ہے وہ بہت نا طویل عرصے میں شروع کر دیتا ہے؟ اور پھر یو اے ای کے بعد پہلی سہ فریقی ملاقات کی بات کرونا، اسی طرح روس کے وعدے پر عمل کرنے کی کوئی تاریخ نہیں ہے؟
میں یہ سوچta ہوں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ روس اور امریکہ میں اس معاہدے پر عمل ہو جائے؟ وٹر سیزن میں یہ بات بہت اہم ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ شہری علاقے کو نشانہ نہ بنایا جائے گا۔ لیکن ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اس معاہدے پر عمل کب سے ہو گا؟
روس اور امریکہ کی جانب سے جارہے معاہدے میں ایک نئی hope hai کیونکہ یہ حقیقت بالکل ایسی نہیں ہو سکتی کہ یورپ کے شہروں کو سرد موسم کے دوران توسیع سے بچایا جائے گا، لیکن اس پر Putin کی رکاوٹ کبھی نہ پائی گئی…
ایک بات یقینی طور پر ہے ان دونوں صدروں کی بیان نے شہری علاقوں کو سمجھنے میں ایسے وقت اور مواقع کا انتخاب کیا جیسے وہ کسی بھی دوسرے دن سے زیادہ لگ رہتے ہیں۔ یوکرین کی جانب سے کوئی بات نہیں ہے کہ ان تمام تحفظات اور معاہدوں پر یقین نہیں کیا جاسکتا لیکن اس بھی بات ضروری ہے کہ وہ پوری طاقت سے ان میں امیدیں نہ رکھیں بلکہ ایسی باتوں کی جانب بھی توجہ دی جائے جو دونوں صدروں کے لئے وعدوں پر مبنی ہوں اور ان معاہدوں سے کوئی نازک نقصان نہ پہنچے۔
منے انہیں کیا کرتا ہو اور اس کے بعد کیا کرتا ہو جس سے رشک ہو جاتا ہے، یہ بات بھی جاننا چاہیے کہ اگر یوکرین پر حملے روکنے پر روس اچھا مzn میں ہے یا نہیں، لیکن پھر بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پر ایک نیے لینے والے کا جواب دیا ہے، اب پتہ چلا کہ یوکرین کو کیو سے امانت ملوٹی ہوئی ہے، یہ بات بھی جاننی چاہیے کہ اس معاہدے پر کب سے عمل ہو گا؟