ٹرمپ منصوبےکے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کے ناموں کا اعلان کردیا گیا

آن لائن یار

Well-known member
وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا نام اعلان کردیا جبکہ وہ عالمی استحکام فورس کے کمانڈر جنرل جیسپر جیفرز کو بھی یہ منصوبے میں شامل کیا ہے۔

ان کے ساتھ وزیرخارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کا نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر بھی بورڈ آف پیس میں شامل ہوئے ہیں۔

غزہ میں یہ منصوبہ عالمیsecurity فورس کی جانب سے قائم کیا گیا تھا۔ اس بورڈ آف پیس کا مقصد فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں اصلاحات کرنے کے ساتھ ساتھ seguridad، انسانی امداد اور تعمیر نو کے منصوبوں میں ہم آہنگی کو یقینی بنانا ہے۔

اریے لائٹ اسٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر ہوئے ہیں جبکہ نکولے ملادینوف کو یہ منصوبے میں ایگزیکٹو رکن بنایا گیا ہے جو غزہ کے لیے نمائندہ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔

برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر اور مارک روون، اجے بنگا اور رابرٹ گیبریل بھی یہ منصوبے میں شامل ہوئے ہیں۔
 
عالیٰ ایس فورس کی جانب سے قائم ہونے والا یہ منصوبہ تھوڑا سا دلچسپ ہے کہنے کو ملا، خاص طور پر جدوجہد کشمکے فلسطین کے لیے جبکہ اس میں شامل ہونے والے لوگوں کی فہرست بھی ہاں نہیں ہے۔

ٹرمپ نے ٹاقوت کے جیسے شخصوں کو اس منصوبے میں شامل کرایا ہے جن کے ذہن کھلے ہیں اور وہ غزہ کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں، حالانکہ یہ منصوبہ کسی بھی صورت میں ہمیں دیکھنا کا بھی نہیں ہے۔

ایسے سے ایسی فہرستوں میں سے ایک ہمارے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، خاص طور پر جب وہ شخص ہوتا ہے جو فلسطین کی ترقی کے بارے میں لوگوں کو سمجھاتا ہے اور وہ لوگ جنہیں یہ منصوبہ پٹا دیتا ہے انہیں بھی اس کی عارضہ میں لانا ہوتا ہے۔
 
بڑی گھنٹی چل پائی تو؟ وائٹ ہاؤس نے ایسے لوگ کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کر دیا ہے جو کہ عالمی استحکام فورس کے کمانڈر جنرل تھے! جیسپر جیفرز جیسے لوگ اس منصوبے میں شامل ہونے سے پہلے بھی انٹرنیشنل کوئنسیشن ڈے کا عہدہ سنہرایا تھا… اور اب وہ یہ منصوبے میں شامل ہو گئے ہیں!
اور اس لیے ہو گیا ہے کہ ہمارے دेश میں بھی ایسے ہی منصوبے چل رہے ہیں جو پورے عالمگیریت کے حوالے سے غیر مشتقل ہیں، جبکہ غزہ میں یہ منصوبے بھی ایسے منصوبوں کی طرح ہیں۔
 
اللہ تعالیٰ کی مدد سے غزہ میں شاملا ہونے والے ماحول کو بھی اس منصوبے کے ساتھ ملایا جائے 🤝

اس منصوبے میں ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے کہ ایسا منصوبہ بنایا جائے جو غزہ کی آبادی کو آگے بڑھانے میں مدد دے اور ان لوگوں کو استحکام فراہم کیا جائے جس پر یہ منصوبہ کامیاب ہو سکتا ہے 🌈

اس کی ضرورت بھی ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی اور نظم و حکومت میں ایسی تبدیلیاں آئیں جو غزہ کی آبادی کو خوشحال بنائیں اور انہیں ایسے منصوبوں میں ہم آہنگی فراہم کیا جائے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں 🙏
 
یہ سب کچھ توڈے ہی تھامگا 🤯 فوری طور پر غزہ میں سارے لوگوں کو یہ جان کر خوشی ہوئی کہ عالمیSecurity فورس کے ساتھ مل کر کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی کہ وائٹ ہاؤس نے اپنے ہی منصوبے کے تحت اس بات کو تصدیق کیا ہے کہ غزہ میں ایک عالمی سطح پر آہلت اور معاونت موجود ہو گی، یہ سب کچھ بہت اچھا ہے
 
یہ منصوبہ کتنا محتاج تھا اور وہ کس طرح قائم ہوا؟ ٹرمپ کے اس منصوبے سے اب تک کچھ نتیجے نہیں نکل سکیے، لاکین یہ جانتے ہو ایک بار پہلے ان لوگوں کی وجہ سے غزہ میں کتنے دیر تک اچانک وار کر سکتے تھے؟

دیکھو کس طرح دنیا کے سب سے زیادہ طاقتور شخصیات کو ایک ایسی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ کتنے نتیجہ خیز ثابت ہو گا?
 
واپس
Top