ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لاسکتے ہیں بھارت کا خوف سامنےآگیا

طالب علم

Well-known member
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کشمیر کے مسئلے پر رکاوٹ لگانے کی اس سے بھی پہلی خبر سامنے آئی ہے کہ وہ بھارت کو غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتی ہے۔

ایک برطانوی میڈیا رپورٹ کی پیداوار سے سامنے آنے والا یہ خبردارہے کہ بھارت کو یہ خوف ہو گیا ہے کہ امریکہ کی صدر ٹرمپ نے کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک ایسی سسٹم میں شامل کر دیا ہے جس میں بھی وہ اپنی رہنمائی دے سکتی ہے۔

ایسی رپورٹ کی پیداوار میں انکوائیر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کی دعوت دی تھی اور اس دعوت پر جون کی میزار ہوئی لیکن اب تک اسے جواب نہیں دیا گیا۔

ایسی رپورٹ سے سامنے آنے والا یہ خوف ہے کہ ٹرمپ کا یہ عمل کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک ایسے نظام میں شامل کرے گا جس میں بھی اس کی رہنمائی ہوسکتی ہے۔

اس سے پہلے تھا کہ غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں پاکستان،ترکیے،سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شامل ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس میں 59 ممالک نے دستخط کیے تھے۔

حالیہ رپورٹ سے سامنے آنے والا یہ خوف ہے کہ بھارت کو اس بیورو آف پیس میں شامل ہونا چاہیے نہیں تو اس کا مقصد اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہوسکتا ہے اور اس میں اپنی وکالت کرنے کے لیے وہ بھی ایسے فیصلوں پر دستخط کر سکتی ہے جو انہیں مقبول نہیں ہونگے۔

علاقات میں یہ بدلाव کیا جا سکتا ہے جس سے وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں۔
 
🤔 Kashmeer aur Gazah dono ke masle ko ek system me shamil karne ki is news ka matlab hai ki America ko kaha ki woh bhi yeh system mein apni baani rakhegi. Yeh toh ek achha cheez hai, lekin yeh sach hai ki ismein bhi kuch problems ho sakte hain.

Main sochta hoon ki America ne yeh decision kyun liya? Kya woh Kashmir aur Gazah dono ke masle ko ek system mein shamil karne se kisi tarha ka fayda uthaana chahta hai. Aur yeh bhi sach hai ki America ko yeh decision lene mein mehnat ki gayi thi.

Lekin yeh bhi sach hai ki yeh decision se koi aisa result nahi milega jo America ko achcha lage. Yeh system mein shamil ho kar Gazah mein America ke interests ko kya rakhegi? Iske liye America ko kuch aur information chahiye thi.

Yeh news mujhe ek cheez dikhayi rahi hai ki America ne Kashmir aur Gazah dono ke masle ko ek system mein shamil karne ki soch shuru ki hai, lekin yeh sach nahi hai ki woh isse kitna fayeda utha sakta hai.
 
امریکہ کی صدر ٹرمپ کی کشمیر اور غزہ کے مسئلے پر رکاوٹ لگانے کی یہ خبر نہیں تھی کیونکہ اس سے قبل بھی وہیں چلا گیا تھا۔ لیکن اب تو یہ خبر ایسے ہوئی ہے کہ جیسا کہ یہ رپورٹ کہتی ہے بھارت کو غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتی ہے تو وہاں بھی کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک سسٹم میں شامل کر دیا جاسکتا ہے۔ یہ بہت خطرناک نظر رہا ہے کہ یہ کام کیے گئے تو وہ بھی اس میں اپنی رہنمائی کر سکتی ہیں۔

اس سے پہلے وہ یہی کہا تھا کہ وہ غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن اب تک اسے جواب نہیں دیا گیا ہے اور یہ خبر ایک خطرے کا سائنہ ہے کہ وہیں بھی کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک سسٹم میں شامل کر دیا جاسکتا ہۏ۔

یہ رپورٹ سے سامنے آنے والی یہ خبر کہ بھارت غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل ہو سکتی ہے تو اس کا مقصد اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہوسکتا ہے اور وہ بھی ایسے فیصلوں پر دستخط کر سکتی ہے جو اسے مقبول نہیں ہونگے۔ یہ یقینی نہیں کہ اس سے وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کر سکتی ہیں لیکن اب ایسا نظر رہا ہے۔

اس بات پر توجہ دے کہ اس سے پہلے غزہ میں پاکستان،ترکیے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شامل ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس میں 59 ممالک نے دستخط کیے تھے۔

دنیا میں یہ بھی بات پہلے سے سامنے آئی تھی کہ کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک ایسے نظام میں شامل کر دیا جاسکتا ہے۔ لیکن اب یہ خبر ایسے ہوئی ہے جیسا کہ وہ آپ سے بھی پوچھ رہے ہیں کہ یہ کام کیے گئے تو کیا اس میں بھارت اپنی رہنمائی کر سکتی ہے۔

اس کی وضاحت نہیں ہو سکتی کہ اب تک اسے جواب نہیں دیا گیا ہے اور یہ خبر ایک خطرے کا سائنہ ہے۔

اس بات پر فزینہ توجہ دے کہ یہ رپورٹ سے سامنے آنے والی یہ خبر کہ بھارت غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل ہو سکتی ہے تو اس کی وضاحت کیا جا سکتی ہے اور یہ خوف یقینی ہے کہ اس سے پہلے انہیں ایک سسٹم میں شامل کر دیا جاسکتا تھا کیونکہ وہاں بھی کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک سسٹم میں شامل کر دیا گیا ہے۔
 
بھارتنے کی ایسے کردار نہیں کیا جا سکتا جو وہ غزہ میں بھی اپنا رہنمائی دے سکتی ہے اور ایسی صورت میں اسے پہلے بھی یہ خوف تھا کہ امریکہ اس کی مدد کرے گا نہیں؟ وہ اس کو انہوں سے ہر جگہ جیتنا چاہتی ہے اور اب اس نے یہ خوف بھی کیا ہے کہ امریکہ اس پر کنٹرول حاصل کر سکے گا؟
 
بھارتیوں کی بات تو ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل کرنے پر انہیں کتنے خیال کھل رہے ہیں۔ نا ہونے پر انہیں اچھا بھی لگ رہا ہو گا کہ وہ ایسے فیصلوں میں دستخط کر سکتی ہیں جیسے انہیں مقبول نہیں ہون्गے اور اس سے امریکہ کی طرف تو ایک بدلाव آ گا جو بھارت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔
 
امریکہ کی صدر ٹرمپ کی کشمیر اور غزہ دونوں پر رکاوٹ لگانے کی نئی پوری کا یہ خوف نہیں کہ وہ بھارت کو غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتے ہیں تو اس سے یہ بات بدل جائے گی کہ وہ اپنی رہنمائی دی جا سکتی ہیں، اب یہ خطرا ہے کہ یہ کام ہو سکتا ہے۔
 
امریکہ کی صدر ٹرمپ کے منظر نامے سے کچھ اٹھا لینا مشکل ہے کیونکہ وہ ایسی گلاśیوں پر رہتے ہیں جس سے لوگ اس پر توجہ مبذول کرنے کے لیے باہر آتے ہیں۔

جب بھی وہ کسی ایسے مسئلے پر فokus کرتا ہے جو دنیا کو دھمکاوٹ دیتا ہے تو وہ اس مسئلے کی حل نہیں کہتے، بلکہ وہ اس مسئلے کو ایسے درجے پر لے جاتے ہیں جو دنیا کو متاثر کر دیتا ہے۔

علاقات میں ان کی رہنمائی سے ہمیں کچھ اور نئے تجزیے ملنے لگتے ہیں، جو کہ عام لوگوں کو ایک نئے دھوندوں کی طرف مائل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
 
امریکہ کی جانب سے ایسا کیا جا رہا ہے؟ پہلے کشمیر اور اب غزہ دونوں کو ایک ساتھ لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے ان کا مقصد ایسا نظام بنانا ہے جس میں وہ اپنی رہنمائی دیکھ سکیں لیکن یہ پوچھنا چاہیے کہ کشمیر اور غزہ دونوں میں کیا معاملہ ہے؟
 
ایسے ماحول میں جہاں کسی نے بھی ایسی منافقت کی پیشگوئت نہیں کی، امریکہ کے صدر ٹرمپ نے غزہ میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی، اب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر بھارت اس پر زور دیتا ہے تو کیا کیا ہو گا؟ یہ ایک نقطہ میں رہتا ہے جہاں بھارتی سرکار کو استحکام کی ضرورت ہے، ایسا کہ وہ واضح طور پر اس منافقت سے نہیں ٹوٹت۔

ایسی رپورٹ سے پہلے بھی کچھ لوگ نے یہ کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے ساتھ منافقت نہیں ہوگی اور اب اس رپورٹ سے سامنے آنے والا یہ خوف ہے کہ بھارت کو ایسا کچھ کھینچنا پڑے گا جو وہ اپنی جان کی لڑائیوں میں نہیں ہونے دیت۔
 
امریکہ کی اس نئی لڑائی میں کشمیر اور غزہ دونوں جانب سے بھی کیا جائے گا؟ یہ ریکارڈ ہو گیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد سے کسی نہ کسی طرح کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے۔ بھارت کو اس بیورو آف پیس میں شامل ہونا چاہیے تو یہ واضح ہو جائے گا کہ اس پر امریکہ کی نئی صدر ایک خاص پہچان رکھتی ہے۔

امریکہ کی نئی دھارہ کو لینا چاہتے ہو تو انہیں یہ سوچنا بھی چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات پر رکاوٹ نہیں لگا سکتیں، انہیں اپنے منفرد راستوں میں چلنا بھی پڑتا ہے۔
 
یہ رپورٹ تو ایک بڑا خوف دہ موقع ہے کہ امریکہ نے کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک سسٹم میں شامل کر دیا ہے جس میں بھارت اپنی رہنمائی دے سکتی ہے... اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل کرنے کی دعوت دی تھی اور اب تک وہ اس دعوت پر جواب نہیں دیا ہے... یہ رپورٹ تو ایک بڑا خطرہ ہے کہ بھارت کو ان سسٹم میں شامل ہونا پڑ سکتا ہے جس سے اس کی وکالت کرنے کے لیے وہ ایسے فیصلوں پر دستخط کر سکتی ہیں جو آم بھارت میں مقبول نہیں ہونگے...

بہت سے لوگوں کو یہ رپورٹ کچھ عجیب لگے گی کیوں کہ اس میں امریکہ نے بھارت کو ایسا سسٹم میں شامل کر دیا ہے جس میں وہ اپنی رہنمائی دے سکتی ہیں... لیکن یہ رپورٹ تو ایک بڑا خطرہ ہے کہ اس سے علاقات میں بدلाव پیدا ہوسکتا ہے جس سے بھارت کی تعلقات امریکہ کے ساتھ متاثر ہو سکتی ہیں...
 
Wow 😮 انٹرنیٹ پر یہ رپورٹ بھرت نہیں تھی कہ امریکہ کا صدر کشمیر اور غزہ دونوں کے مسئلے کو ایک سسٹم میں شامل کرے گا اس طرح وہ ہندوستان بھی بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتی ہے جس کی توقع تو تھی! 😳
 
واپس
Top