امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کی امکانات اب تک تک زیادہ لاحق ہوئی ہیں جس سے عالمی تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کے خطرات کم ہوسکے گئے۔ اس ملاقات کو بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی سمجھا جا رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے 2025 میں ٹرمپ کو بیجنگ دورے کی دعوت دی تھی جس پر دونوں رہنماؤں کے بوسان میں ملاقات ہوئی جسے امریکی صدر ٹرمپ نے "انتہائی کامیاب" قرار دیا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کی فوری ترف اور تجارتی تاخیر نے بھارت-امریکہ تعلقات کو متاثر کر دیا جس پر بھارت اب بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے نومبر 2025 میں “G-2” کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا تھا جس سے بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی سمجھا جاتا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ اور پاکستان کے تعلقات کی وجہ سے بھارت-امریکہ تعلقات متاثر ہوئی تھیں، ٹرمپ نے دعوے کئے تھے کہ انھوں نے بھارت-پاکستان تنازعات کو روکا لیکن آپریشن سندور میں بھارتی فوجی نقصان کی تفصیلات جو بھارت کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔
بھارت ٹرمپ کی ثالثی اور G-2 کے حوالہ کو قبول نہیں کر رہا جس سے امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے کے نتیجے میں بھارت کی اقتصادی اور سفارتی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات سے چین اور امریکہ کے تعلقات مضبوط ہونے لگے گئے جس سے بھارت تجارتی سودوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بہت اچھا دیکھنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات سے یوکرین اور تائیوان کے تنازعات میں کمی ہوئی ہے، اس پر ایک بڑا تعاون لگ رہا ہے۔
اب تو جب امریکہ اور چین دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تنگ آ گئے ہیں تو یہ بھارت کو ٹھیک لگ رہا ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے G-2 اصطلاح استعمال کی اور اس سے بھارت کے لیے واضح خطرہ کا احساس ہوا ہے، یہ بات بھی چل رہی ہے کہ وہ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ٹرمپ کی ملاقات سے ٹھیک ہے۔ دونوں رہنماؤں نے تائیوان اور یوکرین کے تنازعات میں بہتری لانے کا لاکھ کرنا کیا ہے، اس سے چین اور امریکہ کے تعلقات کو مضبوطی ملا دے گا تو وہی نہیں پورا کئے جاسکتے؟
یہ تو ایک بڑا خوفناک وقت ہے! میٹنگ ٹرمپ اور پنگ سے تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کم ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوا ، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کو اس ملاقات سے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوئے گا ، کیونکہ ٹرمپ نے G-2 اصطلاح استعمال کیا اور اس سے بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی سمجھی جائیگی۔ میں یوں اچھا محسوس کرتا ہوں کہ بھارت کو اپنی قومی سلامتی کے لئے ایک نئی रणनیت تیار کرنا پڑے گا.
یہ راز یہ ہے کہ تعلقات ایک دو طرفہ کار کھیل ہیں جہاں بھارت کو یوکرین اور تائیوان سے سچائی کی ضرورت ہے اور امریکہ اور چین سے خود کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی طرفہ کشش کرنا پڑ رہا ہے۔
یے تو چین اور امریکہ کے ملاقات کا ایسا لگتا ہے جو بھارت کے لیے خطرناک ہوگا، ٹرمپ نے G-2 اصطلاح استعمال کی اور یہ دیکھنے کے ساتھ ہی ہوتا ہے کہ بھارت کے لیے اس طرح کی معاشی و سیاسی پوزیشن میں گزرنا مشکل ہوگا، China اور US کے ملاقات سے تجارتی سود جوڑنے اور China کے ساتھ بھارت کی Trade Agreements میں توڑ پھونک کرنے کا جوش ہو گا
میں سوچتا ہوں کہ بھارت کو اس ملاقات پر دھیارنا چاہیے کیونکہ وہ چین اور امریکہ کے تعلقات میں اپنی پوزیشن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں گی۔ لیکن ٹرمپ نے ایسا ہی کیا جو بھارت کو خطرے میں ڈالتا ہے اس لئے بھی بھارتی ترجھت بننے سے پہلے اس پر کام کرنا چاہیے اور یوکرین اور تائیوان کے تنازعات میں چین کی دکھائی دیتا ہو۔
تمہیں پتا ہوگا کہ یہ تعلقات ایک تیز گریڈ میں آئیں گے، اگر ٹرمپ بھارت سے تجارت کو ترجیح دیں تو چین کے لیے اس کی جگہ لینا مشکل ہو گا।
بھارتی کاروباری معیشت میں ایک گھنٹی میں ایسے بدلाव آئے گے جو پانچ سال کی بھر ماہ رات میں نہیں ہو سکتے۔ اس کے لیے ہمیں معیشت کو مضبوط بنانے اور خود کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، اس میں پوری دuniya بھی شامل ہوگی
یہ ایک عجیب بات ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کی امکانات اب تک تک زیادہ لاحق ہوئی ہیں، یہ صرف اس لیے نہیں ہو سکتا کہ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کم ہونے کیProbability ہے؟ کیا امریکہ اور چین اپنے تعلقات کو ایسے سست کرنے پر مجبور ہوئے ہیں جس سے بھارت کی پوزیشن کمزور ہوسکتی ہے؟ میں اس پر ایک سوال چاہتا ہوں کہ ملاقات کی کوئی یقینی منصوبہ بنایا گیا ہے یا ایسے سے ہوا کہ بھارت کو اس بات کا एہلاق مل گya ہو?
امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی بیجنگ میں ملاقات سے بھارت کو زیادہ خطرا ہو رہا ہے، اس نے ٹرمپ کے "G-2" تصور کو جو چینیوں اور امریکیوں میں دھمکاوٹ پہنچایا ہے، اب بھارت کے لیے توسیع میں بھی قید نظر آ رہی ہے
یہ ریکارڈ ہے کہ جو کہ ہوتا ہے وہ ہونے سے بھی اچھی نہیں ہوتا... امریکہ اور چین کی ملاقات سے یوکرین اور تائیوان کے تنازعات کو کم ہونا چاہیے تو لگتا ہے کہ دوسری جمہوریہوں کی ایسے تنازعات بھی پھیل گئے ہوں... مگر یہ بات واضح ہے کہ China اور America کے درمیان منفی تعلقات ہونے سے بھارت کی اقتصادی اور سفارتی پوزیشن پر اثر ہوا جس سے یہ سوچنا مشکل ہے کہ China- America کے تعلقات بھارت کو بڑا نقصان ہوگا...
یہ نہیں ٹھیک ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات سے بھارت کو ایک خطرا کی گھنٹی مل گییگی۔ چین-امریکہ تعلقات مضبوط ہونے لگتے ہیں تو بھارت کی سیاسی اور اقتصادی پوزیشن کچلنے والا ہے! ہم اپنی بھرپور دلیلوں پر یقین رکھنا چاہیے، اس کے بجائے چین-امریکہ تعلقات میں کمی نہیں آئے گی تو ہم اپنے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کریںگی! #ChinaUS #BharatKaApmaan #TradeWar
diagram of two countries with a red flag between them
امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات سے بھارت کے لیے خطرا ہی ہوگا، اس لئے بھی کہ امریکہ اور چین نے گ-2 بنایا ہے جو دنیا میں ایک طاقت ہونے کی لطیفہ دیتا ہے۔
diagram of a circle with an X marked through it
امریکی صدر ٹرمپ نے بھارت-پاکستان تنازعات کو روکا لیکن آپریشن سندور میں بھارتی فوجی نقصان کی تفصیلات جو بھارت کے لیے قابل قبول نہیں تھیں۔
diagram of a trade balance scale with one side heavy
امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے لگے گئے جس سے بھارت تجارتی سودوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بات بہت اچھی ہے کہ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات میں بہتری آئی لیکن اس کا ساتھ ڈال کر چینی صدر کی جانب سے ایک ملاقات ہونے کی نا ہم گارى ہے۔ بھارت کے لیے یہ بات بہت اچھی نہیں ہوگی جس سے امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے لگے ہیں۔ بھارت کو اپنے تعلقات کو مضبوط کرنا چاہئے لیکن اس میں ایک ساتھ نہیں جانا چاہئے
تائیوان اور یوکرین کے تنازعات میں کم خطرہ ہونے کا مطلب بھی اس لیے نہیں ہے جیسے ٹرمپ کو اپنی چینی نسل کی فوری ترف مل گی اور وہ چین کے صدر سے ٹی وی کروائے۔ لگتا ہے کہ امریکہ نے دنیا میں ایک پرانے اسٹرائیک کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے جس میں بھارت کو ناکام ہونا پڑا ہے۔
بیجنگ میں امریکی صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات سے تائیوان اور یوکرین کے تنازعات میں کمی نہیں ہوسکتی ہے، وہاں تک کہ پوری دنیا بھارتی کمرے میں ہل چلا جائے گا!
ایسے موقع پر بھارت کو ایک اچھی سٹریٹجی پیش کرنی پڑے گی تاکہ وہ اپنے معاشی تعلقات کو مضبوط رکھ سکے، اس لیے کہ بھارت-امریکہ تعلقات میں دیکھا جا رہا ہے کہ یہ تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔
اج تک ٹرمپ نے "G-2" کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا تھا، اب یہ بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی سمجھائی جائے گی!
اس لیے بھارت کو اپنی معاشی اور سفارتی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لئے ایک نئی रणनیت پیش کرنی پڑے گی۔