پیرس کا اخبار فروش | Express News

فضا نورد

Well-known member
علی اکبر‘ راولپنڈی شہر سے 1952 میں پیدا ہوئے۔ ان کے حوالے سے سب سے پہلا وارثت ان کی غربت تھی جس کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ اس لئے اس نے بارہ برس کی عمر میں اپنی تعلیم چھوڑ دی اور چھوٹے چھोटے کام کرنا شروع کردیا اور کچھ عرصے بعد پاکستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

انہوں نے افغانستان سے ایتھنز میں پہنچے اور ایک بحری جہاز پر کام کیا لیکن اس کے بعد انھیں جگہ سے جaga دیا گیا اور واپس پاکستان آئے۔ تیسری بار یونان چلا گیا لیکن ویزہ ختم ہونے پر مجبور ہو کر وطن واپس آنا پڑا۔

یہی ایسی زندگی ہوئی جس سے وہ پیرس جانے اور اپنی آواز سنانے کے لیے مجبور ہوا۔ یہاں‘ انھوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا اور ایک آواز بن گئے جو لوگوں کو inspires کرتے رہے اور پوری زندگی‘ بھلائی ہی محسوس کرتے رہے۔

لیکن اس کی اچھائی و برائی دونوں سے میرا سوالات ہے کہ اگر یہ لوگ ان کے کام سے محروم ہوجاتے تو ملک کتنا دوزخ دیکھتا؟ کیونکہ ان سے کچرہ اٹھا کر زندگی بسر کرنے والی بڑی تعداد میں لوگ ان گنت شخصیات کو دیکھ رہے ہیں۔

لیکن اس کے باوجود‘ میرا سوالی یہ ہے کہ کیوں نہیں کہیں سے انھیں اپنی زندگی میں شامل کیا جائے اور ان سے لوگوں کی بھلائی‘ ان پر توجہ دیکھی جائے؟

پاکستان اور دنیا کا یہ سوال ہے کہ کس طرح ماضی کی سرکار اس کی بھلائی ‘ اس کو اپنے حریف قرار دیں اور اس کا ایک معاونت کی حیثیت دی جائے؟

مگر یہی بات ہے جو علی اکبر‘ نے اپنی زندگی میں کیا تھا۔ پوری دنیا‘ ان کی آواز سنانے اور ان کی بھلائی‘ ان پر توجہ دینے کے لیے کبھی بھی یقینات‘ اس سے محروم ہوئے۔

شہر‘ ایک ڈسٹریکت میں‘ ایک لوگوں کی تعداد میں‘ ایک معاملہ بنتا رہتا ہے جس کا کوئی معاملہ نہیں اور وہاں کی سڑکوں پر‘ ایک گنا لگ بھر بھی لوگوں کے گھر چلتے ہوئے‘ ہمیں بہت اچھی اور اچھائیوں کو دیکھ کر مایوس ہوجاتے رہتے ہیں۔

اس جگہ‘ اس معاملے سے محروم رہنے والا کیا ہونا چاہیے؟ اورکوئی بھی ایسا نہیں‘ جو اس کے لیے میری اہمیت ‘ میرے یقین سے محروم رہتا رہے۔
 
عالی عمیقت واضح ہے کہ ایسے لوگوں کی بھی اچھائیوں کا اہمہتھنا ہوتا ہے جو پوری زندگی ان سے محروم رہتے ہیں۔ ان سے محروم ہونے کی صورت میں دوزخ کس کی ہوگی؟ اس پر ہمیں سوالات کی ضرورت ہے کہ اس معاملے کو کیسے حل کیا جائے؟
 
علاوہ ازیں وہ لوگ جو ہمارے شہروں میں کچرہ اٹھاتے ہیں اور یہاں کی سڑکوں پر چلتے ہوئے ‘ہمیں اچھائیوں کو دیکھ کر مایوس ہوجاتے رہتے ہیں تو یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس لیے یہ حتمی صورت حال نہیں کہ وہ لوگ جو کچرہ اٹھاتے ہیں ان کی مدد سے وہ اپنی زندگی کو بسر کرنے کا مौकہ لیتے رہتے ہیں۔
 
ہارم ہے کہ ابھی بھی ان کے گھر ووڈ کو آتے رہتے ہیں اور ان کی مائنوسز کو صرف یہی سمجھ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کے کسی بھی گھر سے بھی نکل کر آئے تھے…
 
ایسے لوگوں کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ایک اچھا کھیلا ہے جو کہ ملک میں موجود توسیع کی بات سے بڑھ کر وہاں کی معاشیات میں بھی مدد دے گا اور اس سے ملک کو ایک نئی زندگی کا ماحول مل جائے گا

اس کے علاوہ اسے اپنے سفر میں اس کی آواز سنانے کے لیے بھی اچھا ہوگا تاکہ لوگ اسے ان کے سفر کو دیکھ کر ان کے سفر کی اچائیوں سے نکل جائیں
 
اللہ ہی جانتا ہے اس جگہ کی آواز کس طرح ڈنٹ رہی ہو۔ ہمیں پوری دنیا سے اچھائیوں کو دیکھنے کو نہ دیا گیا تھا، مگر ان لوگوں کی زندگی میں شامل ہونے کا موقع نہیں آیا۔ وہ لوگ جو ہمیں ایسے کام سے محروم کر رہے ہیں، وہ لوگ میری اہمیت کو بھول گئے ہیں۔ یہ دیکھنا ہمیں بہت ترانوں والا لگ رہتا ہے۔ 🤕
 
الیکساندر اور ان کی زندگی، اچھا نہیں ہوا۔ وہ ایک عجیب اور مصیبت کا سفر دیکھنا چاہیے، جس میں انھوں نے اپنی زندگی کو کچرہ اٹھانے سے لے کر ایک معاونت کی حیثیت حاصل کرنے تک پہنچایا ہے۔

میری بات یہ ہے کہ اس جگہ ‘ اس معاملے سے محروم رہنے والا کسی نئے موقف میں آئے اور اپنی زندگی کو بدلنا چاہیے؟
 
عالی اقبال کو بھولنا نہیں چاہیے، وہ ایک آواز تھے جو لوگوں کو inspires کرتے رہے اور پوری زندگی‘ بھلائی ہی محسوس کرتے رہے. لاکھوں لوگ ان سے محروم ہوئے وہ گنا نہیں لگ کر اس جگہ کی سڑکوں پر چلے تے رہتے رہتے. اسے اپنی زندگی میں شامل کیا جانا چاہیے، ان پر توجہ دیکھی جائے. وہ ایک ڈسٹریckt سے ایک معاملہ بنتا رہتا ہے جو اس کی اچھائیوں کو محسوس کرنے والوں کو مایوس کرتا ہے.
 
جب آپ انھوں نے پاکستان واپس آنا پڑا تو کیا اس کے بعد انھیں کسی طرح کی مدد یا معاونت ملی?
 
جب ان لوگوں کی زندگی دیکھو تے ہیں جو سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں اور ایسا کرنے کے لیے محروم ہوتے ہیں تو ہمیں گھبراہٹ لگتی ہے 💔💥

لیکن ان کی زندگی ہمیشہ سے یوں چلنا پڑتی تھی اس لیے کہ وہ لوگ کچرہ اٹھا کر بسر کرنے والی تعداد میں لوگوں کو کچرہ اٹھانے کی وجہ سے محروم ہوتے رہتے ہیں 🚮💔

جب انہوں نے اپنی زندگی میں ان کی بھلائی‘ ان پر توجہ دینے کا موقع حاصل کیا تو اُسے پورا دنیا‘ دیکھا گیا اور وہ لوگ‘ جو سڑکوں پر چلتے رہتے ہیں اُنہیں بھی اپنی زندگی میں شامل کیا گیا 🌎💖

لیکن اب اس سوال کا جواب نہیں ملتا کہ کس طرح ماضی کی سرکار‘ ان کے لیے ایک معاونت کی حیثیت دی جائے؟ ایک بہترین دنیا کی ضرورت ہے جہاں لوگ‘ سڑکوں پر چلتے رہنے والوں کو بھی اپنی زندگی میں شامل کریں 🌟💕
 
یہ لوگ جیسے ہی ان کی آواز سنتے ہیں اور ان کی بھلائی دیکھتے ہیں وہ ہمیں ایک معاملہ میں مایوس کر دیتے رہتے ہیں… کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ان کی آواز سنتے سے ان کا ایک معاون توجہ ہوتا ہے؟
 
عالیٰ علی اکبر‘ کی زندگی‘ بھرے ہوئے واقعات سے پرور نہیں ہو سکتی۔ ان کا سفر اس معاملے کی طرف بھی لے جاتا ہے جس کا کوئی معاملہ نہیں۔ لیکن یہی بات بھی ہے کہ وہ اس سے کیسے محروم ہوئے؟

انھوں نے اپنی زندگی میں‘ ایک بڑا کام کیا تھا‘ جس کی وجہ سے وہ لوگوں کی بھلائی کو محفوظ رکھتے رہے اور اس کے لیے اپنے ہی اہلکار بن گئے۔ لیکن یہاں‘ اس معاملے سے محروم ہونے والا ہمیں بھی اس بات پر توجہ دینا چاہیے کہ کیا اس معاملے کی وجہ سے انھوں نے اپنی زندگی کو کیسے چھوڑ دیا؟
 
واپس
Top