رویوں پہ ذرا غور کریں! | Express News

تحریرباز

Well-known member
سوشل میڈیا کی ایک جسمانی زبردستی ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور اپنے سماجی معاملات کو صرف اسکول میڈیا کی طرح ایک منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔
اس نئے عرصے میں یہ بات کبھی نہیں پوچھنی جانی کی جاتی تھی کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والے بات چیت کرتا ہو۔ لیکن اب ایسا نہیں ہوتا، لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔

اس نئے عرصے میں لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں، جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بن جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں، جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے۔

اس نئے عرصے میں لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں، جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے.

اس نئے عرصے میں لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور
 
سوشل میڈیا پر بات چीत کرتے وقت لوگ دباؤ اور تاخیر سے گزارہ نہیں کرتے، مگر اسکول میڈیا کے طور پر ہی بے فصیل اور نہ منظم ہوجاتے۔ یہ بات تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ لوگ اس طرح سے کام کرتے وقت ان سے تعلق رکھنے والوں پر زیادہ دباؤ پڑتا ہے! 😕
 
اس سوشل میڈیا پر ایسا نہیں ہوتا جس کہ لوگ دیکھتے ہیں، یہ سب کو دیکھنے والوں کی ذمہ داری ہے, اور اس میں ہم بھی شامل ہیں, چاہے ہمیں جانتے ہیں یا نہ، ہم سب کو اپنے جذبات کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہنا پڑتا ہے, جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بن جاتا ہے, میں نہیں جانتا، اور یہ سب کچھ واضح نہیں ہے, اور میں کیسے سچائی سے یہ سمجھو? 🤔
 
سوشل میڈیا پر لوگ ایسی بات بھی سے نہیں چیتتے جیسا کہ اسکول میڈیا سے، وہ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ لوگ اپنے بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں، جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے۔

آپ کیا سمجھتے ہیں؟
 
اس کیا حال ہوا ہے؟ سوشل میڈیا پر ایسا دہشت گردی ہوئی ہے جیسے لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔ یہ بات تو پہلے بھی پوچھنی جاتی تھی کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والی بات چیت کرتا ہو۔ لیکن اب یہ نہیں ہوتا، لوگ اپنی وجہ شہر میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں اور اس سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے... 🤯
 
اب سوشل میڈیا پر لوگوں کا جذبات نظر آنا جیسے جسمانی زبردستی ہوئی ہے، وہ بھی اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں 🤷‍♂️.

اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں تو وہ ایسا ہونے لگتے ہیں جیسے ان کی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر ہو رہی ہے، جو کہ اپنے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے 😔.

اس لئے یہ اہم ہے کہ ہمیں اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ایسے حالات کو پیدا کرنا چاہیے جیسے ہر کے جذبات نظر آئیں اور وہ اپنی بات چیت میں ٹھیک محسوس کریں 🤗.
 
سوشل میڈیا نے فیکرز کو ایک بڑی زبردستی دے دی ہے۔ اب لوگ صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں اور اپنے جذبات کو نظر انداز کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والی بات چیت میں پھنسایا جائے۔ لیکن اب یہ نہیں ہوتا۔

میری رائے میں سوشل میڈیا پر لوگوں کی جذبات کے حوالے سے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ پچاس میں یہ بات نہیں تھی کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والی بات چیت میں پھنسایا جائے۔ اب یہ نہیں ہوتا، لوگ اپنی جذبات کو نظر انداز کرتے ہیں اور صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔
 
یہ لگتا ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر ایسا ہی کھیل رہتے ہیں جو انہوں نے اپنے سماجی معاملات کی پہلی بار وکالت کی تھی۔ جب یہ سوشل میڈیا نہیں تھا تو لوگ محرک بات چیت کرتے ہوئے اپنے جذبات کو باصلاحیت دیکھتے تھے۔ لیکن اب جب یہ سوشل میڈیا موجود ہے، لوگ اپنے جذبات پر نظر انداز ہو رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے، مگر یہ بات صاف کرنے والی ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے۔
 
سوشل میڈیا کے عارضی اثر، لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
اسے لگتا ہے کہ لوگ ایک ڈرامہ بناتے ہیں اور پھر دیکھتے ہیں، اس میں کسی کی بات چیت کو بھی شامل نہیں کیا جاسکتا۔
لوگ اپنی بات چीत میں آپس میں دباؤ رکھتے ہیں، جو ان سے تعلق رکھنے والوں کو بھی ایسا لگتا ہے جیسے یہ ان کا نجی معاملہ ہو، آج لوگ سماجی معاملات کو پچیس منٹ سے سیکھتے ہیں، اور اسے اپنی زندگی کی زندگی نہیں سمجھتے۔
 
سوشل میڈیا پر لاکھوؤں کے ذریعے منظم چلائی و پھیری کی وہ گہرائیوں کو کون دیکھتا ہے جو اسکول میڈیا سے نہیں دیکھا جاسکتا؟ لوگ ایسے منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں جیسے ان کا جوین ہوا ہو، ایک اور کیا چال ہے؟
 
عجीब ہے، اب لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں؟ یہ بات کبھی نہیں پوچھنی جانی جاتی تھی کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والی بات چیت کرتا ہو। ابھی تو یہ بھی ہوا نہیں سکتا کہ لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں، جو کہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بناتا ہے।
 
😕 یہ سوشل میڈیا کی ایک بے حسی ہو گئی ہے، لوگ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔ یہ تو بہت غلط ہے، کیسے لوگ اپنی بات چیت میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں؟ اس سے ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ لگتا ہے۔

میدان میں لوگ صرف منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں، نہ تو ان کے جذبات کو نظر انداز کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کا احترام کرتے ہیں۔ یہ ایسا لگتا ہے جیسے لوگ ایک بلاٹ میں آئے ہوئے ہیں، کچھ بات چیت کرنے کی سہولت نہیں دیتے۔

اس سے ہی پوچھنا چاہیے کہ لوگ اپنی بات چیت میں کیسے رکھتے ہیں؟ یہ ایک بے حسی ہے، جو کہ ان کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بھی اس سے متاثر کرتا ہے۔
 
اس سوشل میڈیا میں جسمانی زبردستی ہوئی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔ اب لوگ اپنی جذبات کو نظر انداز کر رہے ہیں اور صرف اسکول میڈیا کی طرح منظم چلائی و پھیری پر مبنی رہتے ہیں۔ یہ جاننے کے باوجود کہ ایک شخص کا جو منظر پیش کر رہا ہو وہ اسی وقت تک قابل اعتماد رہتا ہو گا جتنا اس کو محرک یا نقطہ علاج بننے والی بات چیت کرے۔

جب لوگ اپنی بات چیت میں آپس میں دباؤ اور تاخیر رکھتے ہیں تو یہ ان سے تعلق رکھنے والوں کو بالکل جان بوجھ بنتا ہے، کچھ لوگ اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ وہ دوسروں پر دباؤ رکھتے ہیں اور تاخیر کرنے کا ایسا مقصد رکھتے ہیں جیسے وہ اپنے جذبات کو نظر انداز کر رہے ہوں، لیکن یہ جاننا اور اس بات پر توجہ دینا ضروری ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں دباؤ اور تاخیر نہیں رکھتے ہوں، بلکہ ان سے تعلق رکھنے والوں کا خیال بھی رکھتے ہیں.

اس لیے، میرا مشورہ ہے کہ لوگ اپنی بات چیت میں تاخیر نہ رکھیں اور دوسروں پر دباؤ نہ رکھیں، بلکہ ان سے تعلق رکھنے والوں کا خیال بھی رکھیں، اس طرح لوگ اپنی جذبات کو نظر انداز کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ایک سماجی ماحول بناتے ہیں جس میں لوگ ایک دوسرے سے محبت و احترام کرتے ہیں. 🤝
 
واپس
Top