رواں برس کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم چوتھے روز بھی ملک بھر میں جاری

موتیا عاشق

Well-known member
پالیو کے خلاف ملک بھر میں جاری چوتھے روز کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے ملک بھر کی 3 کرود 89 لاکھ سے زیادہ بچوں کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے تین روز میں بچوں کو پالیو کے قطرے پلائے جانے کی کامیابی کا معترف ہوا ہے۔

آج تک ملک بھر میں ابتدائی تین روزوں میں 3 کرود 89 لاکھ سے زیادہ بچوں نے پالیو کی ویکسینیشن مکمل کرلی ہے۔ اس طرح پاکستان اور افغانستان میں چوتھے روز جاری پالیو کے خلاف ملک بھر میں جاری پہلے قومی انسدادِ پولیو مہم سے ملک بھر میں 4 لاکھ سے زیادہ پاکستانی اور افغان بچوں کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی حکومت کی جانب سے تین روزوں میں بچوں کو پالیو کے قطرے پلائنے کی اہمیت ظاہر ہوئی ہے۔

پنجاب میں 2 کرود 10 لاکھ سے زیادہ بچے، سندھ میں 86 لاکھ 14 ہزار سے زیادہ، خیبر پختونخوا میں 62 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ اور بلوچستان میں تقریباً 18 لاکھ 1 ہزار کے درمیان بچے اس مہم کے تحت پالیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

اسلام آباد میں 4 لاکھ 21 ہزار سے زیادہ، گلگت بلتستان میں 2 لاکھ 46 ہزار سے زیادہ اور آزاد جموں و کشمیر میں 6 لاکھ 47 ہزار کے درمیان بچے یہ مہم کے ذریعے پالیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو نہ صرف بچوں کو معذور کر سکتی ہے بلکہ زندگی بھر کے لیے یہ معذور بناتا رہتا ہے۔ اس لئے سائنسی ایجنسی نے آگہ کن فہم کیے بغیر کسی بچے کو بھی اپنی فہرست میں شامل کرنا نہیں چاہیے اور اس مہم کے ذریعے پالیو کے قطرے پلانے کی ضرورت ہے۔
 
اس پولیو کے خلاف مہم سے ملک بھر کی صحت مند دل کو خوشی ہوئی ہے اور اس میں بچوں کی بھی بڑی شراکت تھی۔ اب وہ صرف پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے تو یہاں تک دیکھنا بے چینی ہے، پوری دنیا میں یہ مہم کچھ نہیں کہیں سے پوچھ رہی ہو گی؟
 
یہ واضح ہے کہ ملک بھر میں پالیو کے خلاف ایسی مہم کی اہمیت نہیں تھی کہ لوگوں کو اس سے بچنے کا ایک طریقہ مل جاتا ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ پالیو کے قطرے پلانے کی مہم نے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ایسا ملنا ہوگا جس پر اس کے خلاف بھی موقف لیتے وقت دیکھنا پڑے گا۔ اگر پالیو کی ویکسینیشن میں پورا ملک شامل ہوا تو یقیناً پالیو کے خلاف موقف نہ صرف واضح ہوگا بلکہ اس کا رد عمل بھی اچھا رہے گا 🙏
 
😊 میں تو یہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ ہم نے اس کچھ بھی حاصل کر لیا ہے جو پالیو کے خلاف اور اس سے لڑنے کے لیے، لیکن یہ بات ضروری ہے کہ ہم ایسے مہمات میں بھی حصہ لینا چاہیے جس سے پلیگ کے خلاف مزید اہمیت پیدا ہو۔ پلیگ کی ویکسینیشن کے ذریعے نہ صرف بچوں کو معذور نہیں کرنا چاہئيے بلکہ زندگی بھر میں اس سے محفوظ رہنے کی ضرورت ہے اور پلیگ کے خلاف ایسی مہمات کو بھی دیکھنا چاہئيں جو لیسز اور فلوئر نہیں، بلکہ اس کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔
 
بچوں کو پالیو کے قطرے پلانے کی یہ مہم، اس بات کو بھی یقینی بنانے والی ہے کہ وہ بعد ازاں بڑے ہونے پر پالیو کی بیماری سے لڑنے کی صلاحیت حاصل کریں۔ لیکن یہ بھی سوچنا ضروری ہے کہ مئی میں اپنی شادی کی خواتین کو اور جولائی میں اپنے بیٹوں کو پالیو کا قطرہ لگانا ایک چیلنج ہے؟
 
پولیو ایک بڑی ناکامہ ہے جس کا خاتمہ ہونے کی طرف اس مہم سے پھر کوئی رخنا نہیں ہے 🌟

اس مہم کے ذریعے جو کچھ بھی ہوا، یہ صرف ایک اعلان ہے کہ اب تک کی چوتھی روز کی پلیو ویکسینیشن میں 89 لاکھ سے زیادہ لاکھوں نے حصہ لیا ہے، لیکن اس کا معینہ وقت آ گئی۔

کیونکہ یہ مہم سادہ اور چپکچاہٹ سے منسلک نہیں کی جا سکتی ہے، اسی لیے اس میں ایک اعلان لگا کر دھوکہ دینا بھی نہیں پریشان کیا جاسکتا ہے۔

یہ مہم صرف ایک پلیٹ فارم ہے جس پر مختلف صوبوں اور علاقوں کی جانب سے اپنی جانب سے کام کرنا تھا، لیکن اب تک کچھ نئی چیئٹ میں دھکے ہوئے ہیں۔
 
تھोडا سارے پالیو لینے والوں کو بھی کچھ مہمات میں شامل کرنا پڑتا ہے :D. مگر یہ دیکھنا عجیب ہے کہ ملک بھر میں اب سے پالیو کا لینا کوئی problem nahi ہے، ایسا لگتا ہے نئے صحت مند نوجوانوں کی طرف یہ مہم زیادہ ترغیب دے رہی ہے :p.
 
🤔 پھر کیا 89 لاکھ سے زیادہ بچے اپنی پالیو کی ویکسینیشن مکمل کرلیں گے؟ ایسا ہی نہیں، ان میں سے 95 فیصد تک بچوں کو لگبھگ ہفتہ کے اندر وکھرنا پڑتا ہے 🙅‍♂️ اور وہ پوری زندگی اس معذوریت سے گزرتے رہتے ہیں... ایسا تو چاہیے کہ ان 89 لاکھوں میں بھی کچھ اور فریڈم نہیں ہے! 💡
 
اس مہموں سے بچوں کو پالیو کا قطرہ پلانے کی بات کھر نہیں ہوگی۔ وہیں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ پالیو کی ویکسنیشن کرنے جا چکے ہیں، لیکن پوری ملک میں یہ مہم ہوئی۔ اگر 10 سال کی عمر کے بچوں کو پالیو کا قطرہ پلانے کی بات نہیں، تو کیئر اور مرض تیزاب ایسے بھی پھیل جائیں گے جن سے ہمیں ٹرے پر انصاف کا دھنڈوی پوچھتے دیکھنا پڑے گا
 
پھر یہ سوچو کہ پالیو کے خلاف ملک بھر میں چوتھے روز جاری پہلے قومی انسدادِ پولیو مہم سے 89 لاکھ سے زیادہ بچوں نے ویکسینیشن مکمل کرلی ہے اور اب تو ان کا شمار فہرست میں ہونے والا ہے تو ابھی پالیو کی ویکسینیشن کے لیے مفت سے لینے والوں کو کبھی بھی ناکافی رکھنا مشکل نہیں اور یہ یقینی بننے کے لیے ہم پولیو ایک فلاسفی نہیں بنتے ہیں ، ساتھ ہی اس مہم کی تین روز میں بچوں کو پالیو کے قطرے پلانے کی اہمیت سے مل کر اب وہی نہیں کہتے کہ یہ مہم صرف ایک ہی روز جاری ہے بلکہ اس کا فائدہ لینے کے لیے ابھی تین روز بھی ضروری ہیں اور پالیو کی ویکسینیشن کو لینے والے معذور بچوں میں سے کسی کو بھی یہ وکٹرن نہ ہونے کی صورت میں کیا ہोगا ، ابھی وہی اہمیت ہے کہ پالیو ایک لاعلاج بیماری نہیں بنے اور وہ معذور بچے اس کی وکٹرن سے باہر رہتے ہیں ، یہ سب سے انہوں نے پالیو کے خلاف ملک بھر میں جاری قومی انسدادِ پولیو مہم سے حاصل کی ہے اور اب یہ سب نہیں کہتے کہ اس مہم کو جاری رکھنا مشکل ہے بلکہ اس کا منع پوری دنیا میں مشکل ہو گیا ہے اور ابھی یہ سب سے انہوں نے حاصل کی ہے کہ پالیو ایک لاعلاج بیماری کے بجائے ایک ہم آہنگی میں تبدیل ہو گیا ہے اور ابھی یہ سب سے انہوں نے حاصل کرلیا ہے کہ پالیو ایک لاعلاج بیماری سے بدل کر ایک ہم آہنگی کی بیماری بن گئی ہے اور ابھی یہ سب سے انہوں نے حاصل کیا ہے کہ پالیو کو رونا مشکل نہیں بلکہ اس کا منع کرنا مشکل ہے اور ابھی انہوں نے یہ بھی حاصل کیا ہے کہ پالیو ایک لاعلاج بیماری سے بدل کر ایک ہم آہنگی کی بیماری میں تبدیل ہو گئی ہے اور ابھی انہوں نے یہ بھی حاصل کیا ہے کہ پالیو کو رونا مشکل نہیں بلکہ اس کا منع کرنا مشکل ہے اہمیت سے مل کر ابھی انہوں نے یہ بھی حاصل کیا ہے کہ پالیو ایک لاعلاج بیماری میں تبدیل نہیں ہوا بلکہ اس کی وکٹرن سے باہر رہنا اہم ہے
 
بچوں کو پالیو کی ویکسینیشن مکمل کرلیا جانا یہ تو بھی بہت اچھا ہے مگر کیا اس میں سوشل میڈیا پر کئے جا رہے فیکشنس کو کھینچنا بھی نہیں تھا؟ چاروں پاسے سے ملک بھر میں 89 لاکھ سے زیادہ بچے ایسے پلانے گئے ہن، لیکن کیا سوشل فیکشنز پر کچھ نا کچھ مہمات بھی چلائی جا سکتی تھین؟
 
واپس
Top