روس چین کا ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ

طبیعیات دان

Well-known member
روس اور چین دونوں نے ایران اور وینزویلا پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جوDefense Alliance کے تحت بنایا گیا ہے. ان دو طاقت کے بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے یہ واضح کیا کہ روسی وزیر دفاع آندرے بیلوسوف اور چینی ہم منصب کے درجے پر فخر ہیں جس کی بنیاد ان دونوں رہنماؤں کے وائرلس کنفرنس کو لگا کر رکھی گئی ہے، یہ ویڈیو لنک میں ان دونوں کی گہرائی سے بات چیت ہوئی اور ان کا تعلق عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال پر تھا، بیلوسوف نے اعلان کیا کہ ان دونوں ممالک کو مشترکہ جواب دینے کے لیے اقدامات کرنا چاہیے، عالمی ماحول میں تیز تبدیلیوں کی وجہ سے یہ ضروری ہے۔

ان دونوں رہنماؤں کے مطابق مشترکہ جواب دینے اور عالمی سلامتی کو بھرپور بنانا اس لیے ناگزیر تھا کہ وہ مستقل فوجی تعاون اور تجربات کی تبادلہ کرنا شروع کریں، یہ ان دونوں رہنماؤں کو خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کریں اورRisk کو مؤثر طریقے پر جواب دین۔

اس میں ان دونوں رہنماؤں نے یہ بھی طے کیا کہ وہ اس دفاعی اتحاد کا مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرن گے، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ان دونوں نے سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنایا اور وینزویلا اور ایران پر ایک مشترکہ حکمت عملی لگا کر اس کی بنیاد رکھی ہے۔
 
سوشل میڈیا پر یہ خبر تو ہو گی چاہے وہ جائز ہو یا نہیں، لیکن اس بات کو لگتا ہے کہ روس اور چین کے درمیان ایک دفاعی اتحاد بننے کی یہ پہلی فیصلہ تھا کہ جس سے ان دونوں طاقتوں نے اپنی فوجی حکمت عملیوں میں ایک بدلتے عالم کے لیے ہم آہنگی کو حاصل کرنا شروع کیا ہے۔

اس کی وجہ سے وینزویلا اور ایران پر مشترکہ حکمت عملی لگا کر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو دوسرے شاموں میں بھی ایسی ہم آہنگی کا باعث بن سکتی ہے، جس سے ان طاقتوں کو عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال پر اپنا اثر و رسوخ محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
 
روس اور چین دونوں کا یہ فیصلہ ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے جس میں عالمی سلامتی پر تیز تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں، یہ بدلتی صورتحال نہ صرف ایران اور وینزویلا کے لیے لیکن پوری دنیا کے لیے بھی ایک خطرہ ہے.Russia اور China کی ایسی طاقت وثبوت سے اس صورتحال میں ایک نیا رخ دینے کی کیاجاسٹی ہے، اس کے نتیجے میں یہ دفاعی اتحاد بنایا گیا ہے جو اس خطرے کو تھوڑا سا کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے.

اسDefense Alliance کی بنیاد Russia اور China کے درمیان ایک وائرلس کنفرنس پر رکھی گئی ہے، یہ Konferance ان دونوں کی توجہ سے چھہرا ہے اور اس نے ان دونوں کو ایک مشترکہ جواب دینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا ہے. Risk کا یہ تعامل اس صورتحال میں ایک نیا رخ دینے کی کیاجاسٹی سے زیادہ ہے،Risk کو تھوڑا سا کم کرنے کے لیے Defense Alliance بنایا گیا ہے اور اس نے Russia اور China کو ایک مشترکہ جواب دینے پر مجبور کردیا ہے.

اس کے علاوہ وینزویلا اور ایران پر ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے کی بھی یہ کوشش کہی گئی ہے، اس سے ان دونوں ممالک کو Security میں مزید مضبوطی ملنے کی sperائی ہوگئی ہے.اس Defense Alliance کی بھرپور اچھائی اس بات پر نہیں ہے کہRussia اور China ایک دوسرے سے مل کر کام کرتے ہوئے Risk کا ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.
 
روس اور چین نے وینزویلا اور ایران کے ساتھ دوسرا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہ بات اتنا نہیں چلو کہ ان دونوں ملکوں کو اُس کی فوری مدد کا انتہائی ضرورتی پہچانا گیا ہے یا نہیں؟ اس دفاعی اتحاد میں اس بات کو بھی یقینی بنانے کے لیے کہ وینزویلا اور ایران ان دو طاقتوں کی مدد سے کام کر رہے ہیں یا نہیں، یہ بات بھی دیکھنی پڑے گی اور اس کا جواب صرف وقت دے گی।
 
اس سے قبل جب کورونا فیلڈ میں تھا، لوگ سب کو پتہ تھا کہ دنیا بھر میں کچھ بدلنے والی ہو گا اور اس سے نجات کس طرح مل سکتی ہے? اب وہی بات ہے جیسے پہلے، لیکن اس میں ایک فرق ہے کہ اب دنیا بھر میں تیز تبدیلیاں دیکھنی پڑ رہی ہیں اور وہ بدلتے حالات کو جواب دینے کے لیے اس طرح کے ایسے سہmelے کی ضرورت ہے جو ہم ابھی تک نہیں دیکھے ہیں. یہ دفاعی اتحاد ایک ایسا بہتر راز ہے جس سے دنیا کو فوری طور پر بھرپور سلامتی مل سکتی ہے اور اس طرح دنیا کو ایک نئے دور میں لے کر چلو گے!
 
روس اور چین نے ایسا کیا ہو سکتا ہے، لیکن یہ بات کھل کر بیان کی جائے کہ وہ دو طاقت کیسے مل کر کام کریں گے؟ ایک ساتھ میں فوجی اور اقتصادی مدد دے سکتے ہیں، لیکن یہ بھی ایک خطرہ ہوگا کہ وہ اسی طرح کی مدد دیتے ہوئے کسی تیزاب کی صورت میں فٹر ہوجائیں? ان دونوں ممالک کو اپنی قوتوں اور弱ات کو سمجھنا ہوگا، نہ تو وہ ایسا کیا جائے گا کہ کچھ دوسرے ممالک اس پر مشتمل ہوجائیں یا اس طرح کی مدد سے ان کی قوتوں میں مزید کمی ہوگی؟
 
روس اور چین دونوں کا یہ فیصلہ میرے لئے بہت اہم ہے، ان دونوں طاقتوں کے درمیان تعلقات تازہ ہیں اور ان دونوں کے درمیان تعاون ایک نئا دور کا آغاز ہو گا۔ یہ-defense alliance کا نتیجہ ہے جس سے دوسرے ممالک کو مشغول ہونے کے لیے پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس میں ایسی پچھلے تجربات شامل ہیں جس سے دنیا کی سلامتی پر اثرانداز ہونے والےRisk کو ختم کیا جا سکتا ہے।
 
Wow 🤯 روس اور چین کے ایک ڈیفنس الائنس کے تحت وینزویلا اور ایران پر مشترکہ حکمت عملی کو لگا کر رکھنے کی یہ خبر Interesting 🤔 مگر کیا ان دونوں طاقتوں نے اس میں ایسی حد تک مشغول ہونے کی ضرورت سمجھی ہے جس سے وہ عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سستا نہ ہو گئے
 
چیلنج ہے؟ یاروں، روس اور چین نے مل کر وینزویلا اور ایران پر کیا فیصلہ کیا ہے؟ پہلے سے تو دو طاقتوں نے مشترکہ حکمت عملی کی بات کی تھی، اب تو یہ بات بھی چلی گئی ہے کہ ان دونوں نے فوجی تعاون شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر انٹرنیٹ پر یہ نیوز سامنے آ گیا ہے اور پھر سب نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ راز بڑی حد تک خطرناک ہوگا۔ یاروں، کیا ہم ان دو طاقتوں کو پھیلانے میں مدد کریں گے؟
 
سوشل میڈیا پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ روس اور چین دونوں نے Iran aur Venezuela پر ek saamanya yojana tay ki hai. Ye dono shaktiyon ne bata diya hai ki unke beech ek wireles konferens ho gayi thi jo dono rahnamao ke liye ek saadha mazaq hua tha 🤝

Ab ye donon rahnumaoo ne yeh bataya hai ki unke beech ek saamanya jawab dena zaroori hai aur sabse pahle Iran aur Venezuela ko is tarhai dikhana chahiye. Ye dono rahnamao ke lije jo jawab dene kee koshish karte hain, wo ek dusre ke saath mil kar hi kiya ja sakta hai.

Mujhe lagta hai ki ye donon rahnumaoo ke beech ek saadha gatividhi ho gayi hai jo sabke liye faydemand hogi. Duniya bhar mein sabko apne desh ki salamat karna chahiye aur duniya ko ek nayi tarhai dikhana chahiye 🌎
 
روس اور چین نے ایران اور وینزویلا پر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے! یہ بات بڑی اچھی ہے، لہذہ تعاون، منشا دیکھنا تاکہ دنیا کی سلامتی کا خیز بننے سے روئے، لیکن ساتھیو ساتھی اگر یہ دونوں طاقت کے لئے ایک دوسرے پر انحصار نہیں رہے تو یہ چل پائیں گی!
 
روس اور چین کے بیچ بھی یہی بات ہوتی جس جو وینزویلا اور ایران کے بیچ کی جارہی ہے... دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے تعلقات بنانے کی ضرورت ہوئی، لہٰذا اب یہی رہنا چاہئیے کہ وہ تعلقات مزید مضبوط ہوجائیں... وینزویلا اور ایران کو بھی ان دونوں ملکوں کی مدد سے مزید ترقی کی طرف لے جا سکیںگی، یہ معاشی طور پر اور سیاسی طور پر ان دونوں کی مدد ہی کر سکتا ہے...
 
Russia aur china ke beech Defence Alliance ka naam diya gaya hai... toh aaj kal har koi khud ko defense alliance ke sadasya mana raha hai 🤣. Aapke liye jo bhi hai, vah ab bhi hai, lekin ab vahi khud ko Russia aur china ki saath milne wala dikhana shuru kar diya hai 😒. Vaise to ek dusre ke saath kaam karna zaruri hai, par yeh bilkul bhi na sirf!
 
اس معاہدے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں ترتیبیں بڑھ رہی ہیں، اب وہ جو کچھ ہوا کر رہا ہے وہ ہر رات تبدیل ہو رہا ہے، یہ معاہدہ صرف دو طاقتوں کے درمیان سے نکلتا ہے جو دنیا کی سلامتی کو دیکھ رہی ہیں اور اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے لگ گئے ہیں، یہ سب ایک بڑا تحفظ کا معاملہ ہے، لیکن اس پر نظر انداز نہیں کیا جا سکta।
 
روس اور چین دونوں کے ان نئے عالمی سلامتی کے منظر نامے سے تو پچتا ہوں گا، لیکن اس بات پر وہی یقین رکھنے چاہیں گے جب تک ان دو طاقتوں کو ایسے مل کر کام کرنا جاری رکھا جائے گا تو وہ کتنی بھی خطرے سے نمٹ نہ سکیں گے، یہ تعلقات نہ صرف اس بات پر قائم ہوں گے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کی مدد سے اپنے خطرے کو جواب دینا چاہیے، balki وہ یہ بھی سیکھ لیتے ہیں کہ ان دونوں میں سے کون سی باتیں کس کی پوری کرتے ہیں
 
روس اور چین کے وائرلس کنفرنس میں ان کے فخر کی بات آج بھی نہیں تھی بلکہ یہ عالمی سلامتی کا ایک گہرا مسئلہ ہے، دنیا کی تبدیلیوں کو پہچانتے ہوئے وہ ان دو طاقتوں نے مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی کوشش کی ہے تاکہ عالمی سلامتی کی صورتحال کو دیکھ کر یہ جان سکیں کہ اس پر کس طرح انہیں جواب دینا چاہیے اور کیسےRisk کو مؤثر طریقے سے جواب دیں۔ وینزویلا اور ایران پر ایک مشترکہ حکمت عملی لگا کر اس کی بنیاد رکھی ہے تو آئے دن اس کی چارچا پوری دنیا میں شروع ہونے والی ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ان دو طاقتوں نے اپنی سٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنایا ہے اور دنیا کی سلامتی پر یقین رکھتے ہوئے اسے بھی کامیاب بنانے کی کوشش کرنے والے ہیں 🤔
 
میری Opinion Hai, Russia aur china dono ne Iran aur Venezuela par ek common policy anka laga rahi hai jo Defence Alliance ke niye banayi gayi hai.

Russia ke Defense minister Andrei Belousov aur China ke hama man sabq ki derji pr takfiri hai kyunki unki wali wireless conference mein kai baat chitee hue hai. Lekin main sochta hoon, ye sab kuch ek dushwar naitik cheez hai, Russia aur china dono Iran aur Venezuela ke liye defense kar rahe hain, lakin issey Iran aur Venezuela ki aazadi aur azadi ko kya milta hai?

Mere Khayal se yah ek dushmani ki cheez hai, lekin main bhi sochta hoon kyunki Russia aur china dono ke beech ek common policy laga rahi hai jo Defence Alliance ke niye banayi gayi hai, issey koi bhi country defense kar sakta hai.

Lekin yah bahut zaruri nahi ki Russia aur china dono Iran aur Venezuela ko defense karte jaayen. Mere Khayal se yah ek dushmani ki cheez hai, jisse Iran aur Venezuela ka azadi aur aazadi bhi nasha ho sakta hai.

Mujhe lagta hai kyunki Russia aur china dono ke beech ek common policy laga rahi hai jo Defence Alliance ke niye banayi gayi hai, issey koi bhi country defense kar sakta hai, lekin main sochta hoon ki yah ek dushmani ki cheez hai.

Lekin Mere Khayal se ye sab kuch ek dushwar naitik cheez hai, Russia aur china dono Iran aur Venezuela ke liye defense kar rahe hain, lakin issey Iran aur Venezuela ka azadi aur aazadi ko kya milta hai?

Mujhe lagta hai kyunki yah ek new policy hai jo Defence Alliance ke niye banayi gayi hai, lekin main sochta hoon ki yah ek dushmani ki cheez hai.
 
روس اور چین کے ساتھ مل کر ایک دفاعی اتحاد بنانے کا یہ فیصلہ ہمیشہ سے موجود تھا، اس کا نتیجہ اب واضح ہو گیا ہے۔ اورینٹ کے بعد ، دنیا کو ایک نیا دور دیکھنے کو ہو گا۔

دونوں ممالک کی جانب سے مشترکہ حکمت عملی لگانے کا یہ فیصلہ بلاشبہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اچھی طرح موثر ہو گا، اس کے نتیجے میں دنیا کی سلامتی میں ایک نیا رخ ملے گا۔
 
روس اور چین نے ایسا کیا اچھا؟ ان دونوں کو یہ سزا مل گئی کہ وہ کبھی ہو نہیں سکے ان دو طاقتوں کی خواہشات پر توجہ دینے کی اور یہ حقیقی ایکشن کرنے کا موقع ہے. وائرلس کنفرنس میں ان دونوں رہنماؤں کی بات چیت سے پتہ چalta ہے کہ وہ عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کا کام کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں. اور یہی بات وینزویلا اور ایران پر مشترکہ حکمت عملی لگا کر رکھنے میں بھی حقیقی ہے.

اس کے علاوہ جس پوری صورتحال کو نظر انداز نہ کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ عالمی ماحول میں تیز تبدیلیاں ہوئی ہیں اور یہ ضروری ہے کہ اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ایسا ہی کچھ کیا جائے.

اس طرح یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ وہ مشترکہ جواب دینے اور عالمی سلامتی کو مضبوط بنانے کی پہلی ضرورت کیسے پوری کی جا سکتی ہے.
 
واپس
Top