روسی صدر کا سعودی ولی عہد سے ٹیلیفونک رابطہ

چیونٹی

Well-known member
روسی صدر نے سعودی ولی عہد سے ٹیلیفون کا رابطہ، عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
روس کی طرف سے سعودی عرب میں ایک اہم کارروائی ہوئی جس میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون کا رابطہ بھی تھا، جس میں دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

روسی صدارتی دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، انھوں نے یہ بھی بات کی کہ سائنسی، سیاسی، تجارتی، معاشی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو مزیدBadha دیا جائے گا۔

اور دونوں رہنماؤں نے تیل کی عالمی منڈی میں استحکام کے لیے اوپیک پلس فریم ورک کے تحت مشترکا تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
 
😊 اس واقعہ سے خوفزدہ ہونے کی بجائے، مجھے یہ بات بہت متاثر کرتا ہے کہ روس اور سعودی عرب نے ایسی کارروائی کو شروع کیا ہے جو عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کی طرف لیں گے۔

پچھلے عرصے سے لوگ سوچ رہے تھے کہ یہ دو ممالک ہمیشہ ایک دوسرے سے دروازہ بھیڑتے رہتے ہیں، لیکن اب یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ انھوں نے اپنے تعاملات کو ایک نیا دور میں بڑھایا ہے جہاں سبق اور معاشرت کی بات ہوتی ہے۔

لیکن مجھے ان کھلے ذہنی تبادلہ خیال سے خوشی ہو رہی ہے، یہ ایک نئا دور ہے جس میں دنیا کو اچھی طرح سے پہچاننا ہوگا۔
 
Russia ki baat sahi hai, woh Saudi Arabia ke sath kai cheezon par haqooqat rakhti hai. Lekin yah sab kuch kya hoga? Saudi Arabia ka koi tarika nahi hai kis tarha unki economy ko mazboot karne ke liye. Aur Russia ki tarah bhi woh apni economy ko mazboot karne ki koshish kar rahi hai, lekin woh kafi mushkilain se lada rahi hai.

Aur yah baat bhi sahi hai ki dono deshon ne bilkul hi bilkul ek dusre se samajhne aur samarthan karne ki koshish ki hai. Lekin yeh kuch aise logon ko suna chahiye jo khud apni country ke liye sirf sirf kuchhi nahi maangte.
 
یہ سڑک ہر سال ہی چلتی آ رہی ہے، سعودی اور روس کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان سے ایسا بات چیت کیا جاتا ہے جو تیز رفتار نہیں ہوتا ہے، اس میں وقت لگتا ہے اور دوسرے لوگوں کو بھی آپشن کو ملنا پڑتا ہے کہ وہ جواب دے یا نہ دے، میرا خیال ہے کہ یہ بات چیت کی نتیجے میں اس وقت تک ناکام رہی جب تک اس میں اچھی اور غلط دونوں کے درمیان کو سمجھنا نہ ہوا، اب یہ بات تھی کہ تیل کی منڈی میں استحکام کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
 
یہ بات سب سے پہلے یہ کہ سعودی ولی عہد نے اب Russians کے ساتھ ٹیلیفون کا رابطہ شروع کر دیا ہے، لیکن اس سے کیوں نہیں؟ اس میں صرف ایک بات یہ ہے کہ Saudi کے پاس زیادہ تر تیل کا ذخیرہ ہے اور Russians اس کو زیادہ بھنٹ بھانت کرنا چاہتے ہیں، تاہم سعودی نے ایسا کرنے کے لیے اپنی کارروائی کئی سالوں سے شروع کردی ہے۔
 
اس روس کی ایسے کارروائیوں سے ہمیشہ حیران رہتے ہیں جو ان کے لئے یورپ اور سعودی عرب میں بھی کر رہی ہیں... یہ بات کچھ عجیب لگتی ہے کہ روس کی جانب سے اس صورتحال کا انعقاد کیسے ہوا؟ تو نہیں سوچ سکتا کہ وہ اسی مقاصد سے یہ کارروائی کر رہے ہوں؟
 
اس وقت تک کچھ نہیں ہوا جو اس خطے میں کسی بھی صورتحال کا حل دے سکے گا تو اس لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ دنیا بھر میں رہنماؤں کی ایسی منسلکیت ہو، جو انھیں مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کی اجازت دے سکے
 
ان روس کی کارروائی سے نکلتا ہے کہ وہ سعودی ولی عہد کے ساتھ بھی اچھا تعلقات رکھتے ہیں 🤝 اور انھوں نے اپنے معاشرے میں بھی ایسا ہی اچھا منظر پیش کیا ہے۔ وہ سعودی ولی عہد سے ٹیلیفون کا رابطہ بنانے کی بات میں توجہ دیتے ہیں، جو کہ ایک اچھا عمل ہے۔

اس معاملے میں انہوں نے عالمی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ہے، جس سے وہ اپنے ملک کے لیے بھی اچھا کام کر رہتے ہیں۔ یہ بات بھی اچھی ہے کہ انھوں نے سائنسی، سیاسی، تجارتی، معاشی اور انسانی شعبوں میں تعاون کو مزید Badha دیا جائے گا۔
 
واپس
Top