روسی شہری کی نام تبدیل کا عجیب حाल، کیا یہ مذاق ہے؟
روس میں ایک شہر تیمین میں رہنے والے ایسے شخص کا نام تبدیل کرنا ایک غیر معمولی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا نام تبدیل کرنا ایک عادتی بات ہو چکی ہے جس میں وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا نہیں کر سکتا۔
اس شہری کی یہ پالیسی اس لیے استعمال ہوئی ہے تاکہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں سے فرار نہ ہو جائے اور وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا کر سکے۔
جس وقت وہ اپنا نام تبدیل کرتا ہے تو اس پر کوئی خاص نتیجہ نہیں پڑتا، ایسی سے وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا کرنا چاہتا ہے اور اس پر کوئی خاص عید نہیں ہوتا۔
لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے افراد جینے سے لے کر رکھنے میں اس کی پالیسی کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی نامزدگیوں یا شغلیوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادائیگی سے بچنے کے لیے یہ پالیسی استعمال کر رہی ہے اور وہ کئی سال سے اس پالیسی کو اپنانے والا ہے۔
روس میں ایک شہر تیمین میں رہنے والے ایسے شخص کا نام تبدیل کرنا ایک غیر معمولی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا نام تبدیل کرنا ایک عادتی بات ہو چکی ہے جس میں وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا نہیں کر سکتا۔
اس شہری کی یہ پالیسی اس لیے استعمال ہوئی ہے تاکہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریوں سے فرار نہ ہو جائے اور وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا کر سکے۔
جس وقت وہ اپنا نام تبدیل کرتا ہے تو اس پر کوئی خاص نتیجہ نہیں پڑتا، ایسی سے وہ اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادا کرنا چاہتا ہے اور اس پر کوئی خاص عید نہیں ہوتا۔
لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایسے افراد جینے سے لے کر رکھنے میں اس کی پالیسی کو متاثر کیا جا سکتا ہے اور وہ اپنی نامزدگیوں یا شغلیوں کو بدلنا چاہتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے بچوں کی کفالت کے لیے رقم ادائیگی سے بچنے کے لیے یہ پالیسی استعمال کر رہی ہے اور وہ کئی سال سے اس پالیسی کو اپنانے والا ہے۔