کیف، یوکرین میں روس کے حملوں کے بعد ابھی بھی 1،330 رہائشی عمارتوں کی بجلی سے محرومیں دیکھنا مشکل ہو رہے ہیں جبکہ اس واقعہ نے شہر کی زندگی کو بھی شدید متاثر کر دیا ہے۔
جس پر روس کے حملوں سے شہر میں قدرتی طاقتوں کا نقصان پہنچا، تاہم یہ کام جاری ہے اور تقریباً 2،000 عمارتوں کی بجلی برقرار کر دی گئی ہے، جبکہ باقی 3،200 سے زائد عمارتوں پر کام جاری ہے جو کہ شہر کے زندگی کو زیادہ بھی متاثر رہا ہے۔
یوکرین میں روس کے حملوں نے برفانی سردی کی لہر کو زیادہ شدید بنایا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کو بجلی سے محروم کیا گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کی سرزمین پر اٹھنے والے شہر کی زندگی کو بھی خاصہ سے متاثر قرار دیا ہے اور اس کے ذریعے روس کے حملوں کے مرکزی ہدف نے صاف کیا ہے کہ توانائی کا شعبہ، اہم انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقے اس لہر کو زیادہ شدید بنانے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
کیف شہر کی زندگی میں ان حملوں کے نقصان پر پوری دیکھ بھال کا مشغول ہے اور یہ کام جاری ہے کہ ابھی بھی موجودہ صورتحال سے نکلنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے، تاہم شہر کے لوگ ان حملوں کو اپنی زندگی میں ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جو ابھی بھی شہر کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔
جس پر روس کے حملوں سے شہر میں قدرتی طاقتوں کا نقصان پہنچا، تاہم یہ کام جاری ہے اور تقریباً 2،000 عمارتوں کی بجلی برقرار کر دی گئی ہے، جبکہ باقی 3،200 سے زائد عمارتوں پر کام جاری ہے جو کہ شہر کے زندگی کو زیادہ بھی متاثر رہا ہے۔
یوکرین میں روس کے حملوں نے برفانی سردی کی لہر کو زیادہ شدید بنایا ہے، جس کی وجہ سے ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کو بجلی سے محروم کیا گیا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ان حملوں کی سرزمین پر اٹھنے والے شہر کی زندگی کو بھی خاصہ سے متاثر قرار دیا ہے اور اس کے ذریعے روس کے حملوں کے مرکزی ہدف نے صاف کیا ہے کہ توانائی کا شعبہ، اہم انفراسٹرکچر اور رہائشی علاقے اس لہر کو زیادہ شدید بنانے میں سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
کیف شہر کی زندگی میں ان حملوں کے نقصان پر پوری دیکھ بھال کا مشغول ہے اور یہ کام جاری ہے کہ ابھی بھی موجودہ صورتحال سے نکلنے کی جدوجہد کی جا رہی ہے، تاہم شہر کے لوگ ان حملوں کو اپنی زندگی میں ایسی ہی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں جو ابھی بھی شہر کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔