کسی بھی نئے حملے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا:ایرانی فوج

اس بات کا کوئی سچنا نہیں کہ ایران کی فوج اپنی پوری قوت اور ذخائر اپنے داخل ہونے والوں کے خلاف استعمال کرے گی، یہ بھی توحید کی قوت ہے کہ وہ ان حالات میں بھی کامیاب ہوجائیں گے جب ان کی ضرورت ہوگئی ہو اور اس پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا، اور اس طرح نئے حملوں سے بچایا جا سکتا ہے، مگر اس بات کی کوئی سچنا نہیں کہ دنیا میں ایک بھی دوسرے پر زور نہیں ڈالتا ہو، یہ تو محض پہلڑی تاکید کی بات ہے۔
 
ایران کی فوج نے واضح کردیا ہے کہ اگر کوئی حملہ ہوتا تو ایران کو بھی تुरنت اور جواب دیا جائے گا? यہ بات بھی پتہ چلگئی ہے کہ ملک کی سلامتی برقرار رکھنے کی پہلی ترجیح ہے اور کسی بھی حملے پر تुरنت دیا جائے گا? اس لिए اگر کوئی ایسے شخص یا قیادت میں سے ہوتے ہوئے پچتاوا کرتا ہے تو انہیں اپنی جگہ پر پھنکارنے دی جائے گی۔
 
بہت سارے لوگ بتاتے ہیں کہ ایران کی فوج بھی اپنے ملک کی حفاظت کرنا چاہتی ہے اور انہوں نے یہ بات اس طرح واضح کردی ہے کہ جہاں ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچتا ہے وہاں فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ایران کی فوجی قیادت نے یہ بات بھی بتائی ہے کہ ملک کو کسی جارحیت کا مؤثر جواب دینا اپنے پہلے ترجیح ہے اور اس پر ملک کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے گا۔

امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے اور یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اس خطے میں ایران کی فوج اس پر غور کر رہی ہے۔

یہ سب سے زیادہ اہم بات ہے اور ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے یہ سب کچھ ضروری ہوگا۔ 🚨
 
اس خبر سے میری Thinking आگئی 🤔 اور میں سوچ رہا ہوں کہ اس کی پीछے میں بھی کم از کم ایک فکری کارروائی کی ضرورت ہو گی، یہ یقیناً خیر خواہ نتیجے سے ملے گا۔

ایران کی فوج نے ایسی بات کہی ہے جو اس کے دفاع کے لیے ضروری ہے، لہذا میں یہ expectation کر رہا ہوں کہ ملک کی سلامتی کے لیے منصوبوں کو بھی بھرپور ترجيح دی گئی ہوگی اور اسے تیزی سے مکمل کیا جا رہا ہوگا۔

یہ بات بھی اچھی واضح کردی جائے گی کیہ ملک کو کسی جارحیت پر فوری جواب دیا جا سکتا ہے، میں یہ expectation کر رہا ہوں کہ اس میں کسی بھی ناکام یا ناقصی وادیوں کو نظر انداز نہ کیا جائے گا اور ملک کی سلامتی کی حفاظت کے لیے پوری توجہ دی گئی ہوگی۔
 
اس وقت ایران کے فوجی اقدامات کی نظر میں آتا ہے تو وہ بالکل متعثراترہ ہیں، یہ بات بھی توہان نہیں ہے کہ وہ اپنی فوجی قیادت سے کیا کہ رہا ہے، لگتا ہے ان کی پہلی ترجیح ملک کے دفاع میں ہی ہو گی اور انھوں نے اس بات پر خاص زور دیا ہے کہ یہ فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
 
واپس
Top