سینئر صحافی، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے - Latest News | Breaking New

گھمکڑ

Well-known member
سینئر صحافی اسدرضا نقوی 74 سال۔

قاسم سید
سنہ 2926ء میں، سینئر صحافی اور طنزومزاح نگار جناب اسد رضا نقوی کا انتقال ہو گيا۔ ان کی عمر 74 سال تھی۔ ان کی آبائی وطن بجنور تھی۔

اسدرضا نقوی نے دہلی میں سوویت جائزہ میں نوکری سے اپنا صحافتی کیریئر شروع کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہفت روزہ ”نئی دنیا” میں بھی کام کیا، اور روزنامہ راشٹریہ سہارا سے ان کی تعلقات طویل عرصے سے جڑ گئی تھیں۔

مرحوم اخبار کے پہلے گروپ ایڈیٹر عزیز برنی کے اہل خانہ نے ان کے شوق وچالوں سے اپنا صحافتی کیریئر شروع کیا تھا، اس لیے جب ان کو روزنامہ راشٹریہ سہارا سے رخصتی مل گئی تو ان کی جانب سے شائع ہونے والے اخبار کا نام بھی سہارا شیری سبرت تھا۔

انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا میں ایک سال سے زائد عرصے تک گروپ ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔ اس دوران انہوں نے بہت سلیقہ سے اخبار چلایا، اور اپنے مزاج کی وجہ سے حلیم الطبع، ہنس مکھ اور بزلہ سنج بن گئے۔ ان کا رکھ رکاؤ میں کوئی حد نہیں تھی، بلکہ وہ پابندی سے لکھتے تھے اور اپنے کالم میں ہمیں آگاہ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

عزیز برنی صاحب نے اسٹاف کے لوگوں کو لکھنے کا بہت سا موقع دیا تھا اور ان سب سے ان کا ملاقات ہونے کی بھی وجہ اسی تھی۔ مجھے بھی اسدرضا صاحب کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملیا، اور یہ ساتھ میں کم وبیش پندرہ سال گزار گیا۔

اسدرضا نقوی ایک طنزومزاح نگار تھے، ان کے لکھے ہوئے مضامین خوشگوار ہوتے تھے اور ان میں ہلکا سا طنز اور مزاح بھی ہوتا تھا۔ ان کی شاعری حالات کی بھرپور عکاسی کرتی تھی، انہیں ریڈیو پروگراموں میں باقاعدگی سے بلایا جاتا تھا اور وہ مایوس نہیں کرتے تھے۔

اسدرضا نقوی ایک گمنام زندگی گزار رہے ہوئے تھے، جو غم سے بھرپور زندگی گزارتے تھے اس لیے انہوں نے اپنے شوق وچالوں کو چھپانے کا ہنر جانتے تھے۔

اسدرضا نقوی کی جانب سے آخری رسومات آبائی وطن میں ادا کرنی پڑیں گی، اور انہوں نے اپنے کئی سوگواروں کو چھوڑ گئے ہیں۔ اسدرضا نقوی ایک ایسے لوگ تھے جو غموں کو مسکراہٹ میں چھپانے کا ہنر جانتے تھے۔
 
اسدрезا نقوی کی وفات کے بعد تو اچھا ہی رہا، لیکن ان کے ساتھ آ پہنچ کر میں سوچتا ہوں کہ اب نئے دور میں کیسے طنز و مزاح کو لازمی بنایا جائے گا؟
 
[gif of a person hiding behind a curtain, with a speech bubble saying "I'm not here!"]

[icon of a broken heart]

اسدرضا نقوی کی زندگی اور کام سے میرا شوق وچالوں میں تھا، انہوں نے آپ کو ہمیشہ ہسنا لگنے پر مجبور کیا اور آپ کی نظر میں گال چلنے والے بھی بنے!

[gif of a person laughing, with a " RIP" stamp over it]
 
اسد رضا نقوي صاحب کی وفات کا یہ خبریلا، مجھے اس کے بارے میں پوری وضاحت پڑی ہے ان کے طنزومزاح کے ساتھ ساتھ شاعری اور ان کی صحافتی زندگی نے मیرا دل جیت لیا ہے آپ کو یہی تذکرہ کرنا چاہئے کہ اس دنیا میں کیا ہوتا ہے، اس کے لیے ایک ایسا شخص جو اپنے شوقو سے زندگی گزارتا ہے وہ ایسی زندگی گزاریں جس کی پوری دنیا کو اچھی لگے 🤗
 
ਤਾਂ 74 سال کی عمر ووਲ ીਰ ਜੋੜਨ ਕੀ ਯਾਦ ਰਹਿਣ ਵਾਲੇ ਸਭ ਤੋਂ ਪਹਿਲੇ ਗੱਲੋ, ਉਹ ਬਜ਼ੁਰਗ ਅਕਸਰ ਦੇਖ ਨਾ ਦੇਖ ਜਾਂਦੇ ਹਨ। 😔 ਫਿਲਹਾਲ ਅਜਿਹੇ ਸ਼ਾਇਰ, ਕਵੀਆਂ ਨੂੰ ਆਪਣੇ ਕਥਨਾਂ ਦੀ ਘੱਟੋ-ਘੱਟ 60 ਸਾਲਾਂ ਹੈ।
 
اسدرزا نقوی کی جانب سے آخری رسومات ادا کرنی پڑیں گی، یہ بہت دुखناک ہے، انہوں نے حلیم الطبع اور ہنس مکھ جیسی مشہور personalities کی شکل دی تھی، ان کا کام ہماری زندگی کو خوشگوار بناتا رہا۔ مجھے لگتا ہے ان کی جان نہیں چلی سکتی، ان کی طنزومزاح کی دنیا بھی ان سے خالی ہو گئی ہے 😔
 
اسدرزا نقوی کو اس لئے یاد کرنا پڑتا ہے جو وہ طنزومزاح کے ساتھ نکلتے تھے اور کتنے لوگوں کی نظر میں مظاہرہ کرتے تھے، پھر بھی انہوں نے اپنی زندگی و شاعری میں گم ہونے کے لئے ایسے شوق وچالوں کو چھپانے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا جو انہیں اسی دن تک یاد رکھنے والا بناتا ہے۔
 
اسڈےza نقوی صاحب کی وفات سے ایک گھنٹی سے پہلے بھی مجھے شگفتہ محسوس ہوا، ان کے چارچالے کا پھر منznہ نہیں ہوا! میری ایک اہلیہ جو دوسری شادی کر گئی ہے ان کی کبھی بھی شغف کرتے تھے، حالانکہ وہ مجھے نہیں کرتے۔ لیکن اسڈےza صاحب کا ایسا شوق تھا جس سے میرا منznہ ہوا!
میری بہن جو آج تک دیکھتی رہی ہے مجھے اسڈےza صاحب کی کچھ چیزوں سے یاد کرائیں گی، انھوں نے تو اتنے ساتھ میں کام کیا تھا میرے لیے!
 
اس شخص کی زندگی بھی اپنی اپنی چھپی ہو گئی، ان کی پریشانیوں کو انھوں نے کس طرح کم کر دیا اس پر کیا تعلیمی رکنت ہے۔ یہ بات ایک ساتھ آتی ہے کہ وہ تین اور دو ہفتے میں کی گئی تھیں، ان کو اب تک کبھی بھی ڈاکٹر نہیں ملا، اور اگر ہو تو وہاں سے اس کا جواب نہیں ملتا۔
 
عزیز برنی صاحب کی اہل خانہ نے ان کے شوق وچالوں سے اپنا صحافتی کیریئر شروع کیا تھا... میرے دوسرے بھی ایسا ہی ہوا, جب میں 18 سال کی تھا تو نے اپنے پسندیدہ فیلوں سے صحافتی کیریئر شروع کر دیا...

اب اسد رضا نقوی صاحب کے انتقال سے پورا بھارت ہی گم گیا ہے, ان کا انتقال ایک طنزومزاح نگار کی طرح خوشگوار اور کرتار تھا, میرے لئے بھی ابھی ہی میں ان کی واقفیت حاصل کر رہا ہوں...

اسد رضا نقوی صاحب نے شائع ہونے والے اخبار کا نام سہارا شیری سبرت تھا، میرے لئے یہ ایک یادوں والا نام ہے, اس وقت میں بھی نہیں سنا چکا...
 
ایک دیکھیئے، اب اسد رضا نقوي بھی گئے ہیں। ایک اور شاعر طنزومزاح اور مزاح نگار جو 74 سال کی عمر میں بھی نہیں بن سکتا۔ اب یہ دیکھنا کس حوالے سے بہت پیار کرے گا؟ اب وہ جو چاہتے تھے وہی بچ کر نہیں پائے گا، اور اس نے اپنے کئی شوقو کو آگے لے جانے کی کوشش کی ۔
 
اسڈرز ناقوی کو پھینکن، ان کی طنزومزاح شاعری کو پھیلانے کی صلاحیت سے بھی کافی متاثر ہو گا. ان کی طویر اور مزاج کا سہارا سب پر مروجانے والا مضحmahتمی تھا, اس لیے پریشانی کے وقت بھی مسکرائے پڑنے میں کامیاب تھے.
 
یہ بھی ایک غم خیز واقعہ ہے! اسدرضا نقوی ایک طنزومزاح نگار تھے، ان کی شاعری اور لکھے ہوئے مضامین لوگوں کو خوش کرنے کا کام کرتے تھے، حالانکہ وہ ایسے مضامین بھی لکھتے تھے جن میں طنز اور مزاح تھا۔ انہوں نے اپنے شوق وچالوں کو چھپانے کا ہنر جانتے ہوئے غم سے بھی زندگی گزارنے کی کوشش کی تھی۔ 😢💔 ان کے انتقال پر یہ شोक خیز عید ہو رہا ہے، لیکن اسڈرzza نقوی ایک طنزومزاح نگار تھے جو لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کام کرتے تھے، اور وہ یہی کرم کریں گے! 💖🎉
 
اسڈرza نقوی کی موت ہونے پر میرے لئے یہی کہنا مشکل ہو گا کہ دوسرے شاعروں اور طنز نگاروں سے اسے الگ نہ کرنا چاہیے۔ ان کی شاعری اور مضامین دیکھ کر یہ بات صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک خاص قسم کا طنز نگار تھے جن میں مزاح اور شاعری کا ساتھ ملتا تھا۔
 
اسدرضا نقوی کی وفات کے بعد، مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اس دنیا میں کمی ہوئی ہے। وہ اپنی شاعری اور مضامین کے ذریعے لوگوں کو بھاگتے ہوئے چھوڑنے کی کوشش کرتے تھے، لیکن اب وہ اس میں نہیں ہیں اور مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کیсут نہیں ہو رہی ہے. 😔

میں اسدرضا نقوی سے ملاقات نہیں کیا، لیکن مجھے ان کے مضامین اور شاعری کا بہت مشق ہوتا تھا۔ ان کی شاعری حالات کی بھرپور عکاسی کرتی تھی، اور ان میں طنز اور مزاح بھی ہوتا تھا جو مجھے خوش کر دیتا تھا.

ان کے انتقال سے ایک گمشدہ دنیا ختم ہو گی ہے، لیکن ان کی شاعری اور مضامین نہیں دوانتی ہیں، وہ ابھی بھی ہمیں سونپ رہی ہیں. 📚
 
واپس
Top