سپین کی سوشلسٹ حکومت کا پانچ لاکھ غیرقانونی امیگرینٹس کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان

حلیم عاشق

Well-known member
سپین کی حکومت نے ایک جھیل بنانے پر پانچ لاکھ غیر قانونی امیگریٹس کو قانونی حیثیت دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے سے وہ لوگ اپنے حauge اور زندگی کو بھی ٹھیک بنانے میں کامیاب ہو سکے گئے جبکہ یہ ایک منظر جس پر سب کی نظر ہے، کہ یہ پہلی بار سے ہوا۔

یورپی ملکوں میں امیگریشن کی پالیسیوں میں اس طرح کی تبدیلی کو دیکھنے میں سب کا بھی لشکر ہے۔ پہلے کچھ دنوں میں ہی یہ خبر آ چکی تھی کہ سپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے امریکن صدر ٹرمپ کی جانب سے متشدد رویہ کے خلاف الگ ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔

ایک طرف جس پر سب کی نظر ہے وہ یہ کہ سپین نے بھارت اور پاکستان کے لوگوں کو اپنے ملک میں شامل کرنا چاہیے۔ دوسری طرف اس طرح کی پالیسیوں کے خلاف اب وہ ہٹتے جا رہے ہیں جو نئے عرصے میں یورپ کو ایسا ہی دکھائی دے گی کہ اس کے لوگ جیسے جیسے دن یہاں بڑھتے رہن گے وہ اپنی تہذیب اور مٹ جانوں کی طرف آ رہے ہیں۔

اس کے بعد کوئی خبر نہیں آ چکی جس سے لوگوں میں یہ واقفیت تھی کہ ان کی سرحدوں کو کیسے سخت کرنا ہے، کہ اس کے لیے کیسے ایک نئا نظام تیار کیا جائے گا۔

اس سے پہلے ہی یورپی رہنماؤں کی جانب سے امیگریشن کے بارے میں سخت بات کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اب اس طرح کی واضح پالیسیوں کو ہٹانے کا منظر دیکھنا بھی سب پر ایک نظر ہے۔

اس سے زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی پاپولزم اور ٹرمپ انتظامیہ کے متشدد رویہ کے درمیان ہمارے خط سے توحید و متحدیہ ہے جس نے اس بات کو دھلایا ہے کہ جب تک یورپی ملک اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اب اس طرح کی پالیسیوں کو ہٹانے کا منظر دیکھنا بھی سب پر ایک نظر ہے۔

اس سے قبل یہ بات چل چکی تھی کہ جب تک آپ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب یہ بات پوری طور پر دور ہو چکی ہے کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا ہے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا ہے۔

اس طرح کی پالیسیوں کے ناقدین اور واضح پیغامات سے بھرپور منظر دیکھنا سب پر ایک نظر ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں کو نہیں تازہ رکھا جاتا اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ ان کی تہذیب اور مٹ جان کو حاصل کر سکتے ہیں، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا۔

اس سے قبل یہ بات چل چکی تھی کہ یہ آپ کی سرحدوں کی قیادت کرنے والا بننا پڑ جائے گا، لیکن اب اس کے lieu ان لوگوں کو اپنی سرحدوں میں شامل کرنا ہے جو اس ملک میں سے ہیں اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ جب تک لوگ ان کے ساتھ بڑھتے رہن گئے تو وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا۔

اس سے قبل جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا تھا اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور

اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ

اس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب
 
اس سے پہلے یہ سب پر ایک نظر ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی سرحدوں کو سخت کر دیا ہے تاکہ وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکیں، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکے گئے ہیں
 
اس طرح کی پالیسیوں میں ایسا لگتا ہے جیسے لوگ سچے "تہذیب مٹ جانے" کا تعلق رکھتے ہیں، لیکن وہ پوری طرح ان پر غلبہ نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں آپ کی سرحدوں کو سخت کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن اب یہ بات صریح طور پر سامنے آ رہی ہے کہ لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنا "تہذیب مٹ جانا" سے نمٹ سکتے ہیں اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، جس سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، لیکن اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور

اس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور

اس طرح کی پالیسیوں میں ایسا لگتا ہے جیسے لوگ سچے "تہذیب مٹ جانے" کا تعلق رکھتے ہیں، لیکن وہ پوری طرح ان پر غلبہ نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں آپ کی سرحدوں کو سخت کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن اب یہ بات صریح طور پر سامنے آ رہی ہے
 
ایسے پالیسیوں میں انسانی حقوق کی کمی ہونے کی بات ہمیں لگتی ہے کہ وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے اور جس ملک میں لوگ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے ہیں وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، لیکن اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے ہیں۔
 
اس سے قبل یہ بات چل چکی تھی کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب
 
یہ بھی توہین خواتین کی بات ہے، یہ لوگ آپ کی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنی تہذیب اور مٹ جانوں کی طرف آ رہے ہیں۔

اس سے پہلے یہ بات چلتی تھی کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے ہیں اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، لیکن اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ

اس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق
 
اس حکومت کی جانب سے ایسا فیصلہ کرنا بہت اچھا ہے کہ پانچ لاکھ غیر قانونی امیگریٹس کو قانونی حیثیت دی جائے۔ اب وہ لوگ جو اپنی سرحدوں سے باہر رہتے ہیں اور ان کا معاشرہ بھی یہاں موجود ہے وہ اس نئی پالیسی کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔

اس سے قبل ابھی تک ایسا کھیل کیا جاتا رہا تھا کہ جب تک لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، لیکن اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔

اس میں ایک اچھی بات یہ ہے کہ جب تک ملک اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتا تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا تھا، لیکن اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔

اس سے پہلے ابھی تک یہ بات چل رہی تھی کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا تھا، لیکن اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔

اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اس سے پہلے یہ بات چل رہی تھی کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا تھا، لیکن اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل کرنا بہتر ہو گا۔
 
اس فیصلے سے یہ بات پتھر ہوئی ہے کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے ہیں۔ اب یہ بات پتھر ہوئی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات پتھر ہوئی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا
 
اس سے پہلے بھی یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا۔

جب یہ بتایا جائے کہ ایسا نہیں ہوا تو یہ اس بات پر نظر ٹپتے ہیں کہ وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا۔

اس سے پہلے یہ بات چل چکی تھی کہ جب تک آپ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب اس کے lieu ان لوگوں کو اپنی سرحدوں میں شامل کرنا ہے جو اس ملک میں سے ہیں اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ جب تک لوگ ان کے ساتھ بڑھتے رہن گئے تو وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا،
 
اس سے پہلے یہ بات چلتی تھی کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا تھا، لیکن اب یہ بات پوری طور پر دور ہو چکی ہے کہ جس ملک میں لوگ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتا ہے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے
 
اس گھریلو کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے ہیں، اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب مٹ جانے" سے نمٹ سکتے تھے اور اب اس طرح کی پالیسیوں میں یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ لوگ ایسے ملکوں میں بڑھتے رہن گئے جیسے وہ اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے، اور اب یہ بات چل رہی ہے کہ اس طرح کی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل نہیں کیا گیا ہوتا، اور اس کے لیے وہ لوگ جو اپنی سرحدوں کو سخت نہیں کرتے تو وہ اپنے "تہذیب
 
واپس
Top