آسٹریلیا نے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کی ویزہ منسوخ کردی، جس پر اس کے اسلام مخالف پوسٹس کو دھماں کرنا تھا۔ وزیر برائے داخلہ ٹونی برک نے بتایا کہ آسٹریلیا نے اس بات پر قائم کردیا ہے کہ وہ افراطی تحریکوں، تعصب اور سماجی تقسیم کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ان لوگوں کو ملک میں داخلہ دینے سے انکار کرتے ہیں جو اسے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
آسٹریلیا نے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کی ویزہ منسوخ کردی جبکہ ان کے اسلام مخالف پوسٹس پر مسلموں اور Islamophobia پر دھماں ہوئے تھے۔ اس نے اپنی ویزہ منسوخ کرنے سے قبل بتایا کہ ان لوگوں کو ملک میں داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو Islamophobia پر دھماں ہوئے تھے۔
آسٹریلیا کی حکومت نے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کو ویزہ منسوخ کرکے Islamophobia اور تعصب کے خلاف ایک اہم کदम उठایا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ ملک میں داخلہ دینے کی اجازت نہیں دیں گے جوIslamophobia اور تعصب کو پھیلاتے ہیں، وہ ان لوگوں کو بھی منسوخ کرتے ہیں جو اسلام مخالف پوسٹس میں شامل ہوئے تھے اور ان کی ویزہ نہیں دی گئی تھی، کیونکہ ان لوگوں کا اسلامophobia پر دھماں ہوا تھا۔
toh ye logon ka matlab kya hai jo social media par apne vichar share karte hain aur phir logon ko dhmaa dene lagte hain? ab toh Australia ne iss cheez ko bhi manasu kee hai ki wo kisi bhi cheez ko phailane wale logon ko na de. lagaakar main iska sahi hi maanaa ga, lekin ye sawal hai ki kaisa un logo ko dhmaa dene ka faisla karte hain? ya toh kyaa unhein apne vicharon ko share karne se pehle sochna chahiye? aur agar wo bhi na soch rahe, toh iske liye koi solution nahi hai?
اسسٹریلیا کی حکومت کو کیا سچائی میں آپنے نہیں پگا... وہ ملک میں داخلہ دینے والے لوگوں کو بھی دیکھ رہے ہیں جو انفلوئنسر سیمی یہود کے پوسٹس پر دھماں ہوئے تھے... یہ تو ایک مہانہ کچھ نہیں... میرے خیال میں ان کی ویزہ منسوخ کرنے کی ساچی جگہ نہیں ہے، لہٰذا میں یہ کہنا چاہوں گا کہ وہ ان لوگوں کو بھی منسوخ کرنے والا ایک توازن نہیں بناتا ہے...
یہ decision آسٹریلیا کے لئے اچھا ہوگا، وہ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ ملک میں تعصب کو روکا جائے، یہIsrael کی ناکامی تھی کہ وہ سیمی یہود کو اپنی ویزہ دیں اور ان پر اسلام مخالف comments کرنے کی اجازت دیں، اب وہ اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ ملک میں Islamophobia کو روکا جائے
آسٹریلیا کو وہی Credit Milayega Jo Unhone Muslimo Ko Dhama Karna tha Woh kaisi cheez hai, wo bhi apne dushmanon ko dhama kar ke vijetaa hai. Bas is baat ka khayaal rakhein ki wah kaise hoga unke liye jo ki apni wajah se yahan aate the. Wah ab to kis tarhai nahi aayenge. Kuch log bhi kohsam ho sakte hain lekin main kaisa soch sakta hoon, wo sirf mujhe pasand nahi hai
اسIsraelki influenser koi samiy yehud ki visa ko mansook kardia hai aur iske islam mukhfil post ko dham kar dia hai. Yeh bhi bataya gaya hai ki Australia ne kaha hai ki ve taqatwar tarah ke movement, takatvar aur samaaj ki tahreek par asar rakhne walon ko apne desh mein aayenge entry ka nahi diya jayega. Yeh ek achha kadam tha lekin yeh bhi sochna chahiye ki kya isse un logon ke liye samasya banegi jo visa ka nahi diya gaya aur unki aayen mansook ki gayi thi.
اسٹریلیا نے ایک اچھا قدم उठایا ہے، سیمی یہود کو ویزہ منسوخ کر دیا ہے جو اسلام مخالف پوسٹس کرتے تھے اور ان کے اسلامophobia پر دھماں کیے گئے تھے۔ یہ ایک بڑی کارکردگی ہے، اچھا کہ اس نے ملک میں تعصب اور سماجی تقسیم کو روکنے کی صلاحیت رکھنے والوں کو داخلہ دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ قدم उठایا ہے۔ میرا خیال ہے اچھا کہ ملک میں اچھے معاشرے بنانے کی جانب اس نے قدم رکھ دیا ہے، یہ بہت ضروری تھا۔
اس وقت اسٹریلا کیسے بنایا جائے گا؟ اس نے ایسے لوگوں کو داخلہ نہ دیا جوIslamophobia پر دھماں ہوئے تھے۔ وہ ایک اچھی بات کیے گی، اور میرا خیال ہے اس سے ملک میں تشدد میں کمی آئے گا۔
اس آسٹریلیائی فیصلے سے متاثر ہو کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ اس وقت اس کے نتیجے کو پہچاننے سے پہلے ان لوگوں کو ملک میں داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور وہ اس کا فائدہ بھی ہٹانے کی کوشش کرے گی۔ اور یہ بھی توجہ دیتا ہے کہ ملک میں داخلہ دینے سے پہلے وہ لوگ جو اسلام مخالف پوسٹس کیں تھے ان کو اب ویزہ نہیں دیا جائے گا اور اس طرح ان کے اسلامophobia پر دھماں ہونے سے بچایا گیا ہوگا۔ اور یہ ایک اچھا نقطہ نظر ہے لیکن اچھی طرح پھیلایا جائے گا کہ ایسے لوگوں کو ملک میں داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ اس سے ملک میں داخلہ دینے والوں کے لیے ایسا ماحول پیدا ہونے سے روکا جاسکے۔
یہ سب بہت متاثر کن ہے. آسٹریلیا نے ایسا کیا تو پوری دنیا سے اس کی انتباہی لگ رہی ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ملک ہمیشہ سے اہل بخت تھا جس نے ایسی پوزیشن پر قدم رکھا ہے۔ اس کے بعد یقیناً کسی کی تنقید نہیں ہوگئی ہے، لیکن یہ دیکھنا بھی کوئی عجیب بات نہیں ہے کہ اس سے پوری دنیا پر اثرانداز ہونے والے نوجوانوں کی سٹریجی پر ایک نواں چھپکانہ لگ رہا ہے.
اس وقت ایسا لگ رہا ہے کہ آسٹریلیا کی حکومت یہاں تک بھی آئندہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے ملک میں اسلام مخالف پوسٹس پر دھماں کر سکیں؟ اور اب ان کو ویزہ منسوخ کردیا گیا ہے، یہ بہت چیلنجنگ ہیڈ گیسٹریپ کی نیند سے بھی بڑی ہے! ان کے اسلام مخالف پوسٹس کو دھماں کرنا ایک اہم کارروائی تھی، لیکن اب اس کا فائدہ اور وہ اس نئی پالیسی کی نیند سے جگ کر کہاں کھڑا ہوا؟
اسسٹریلیا نے ایک اچھا فैसलہ لیا ہے، یہ تواضع اور سماجی انصاف کا سب سے بہتر пример ہے۔ اس وقت جدوجہد کی ضرورت ہے جب तक تعصب اور اسلام مخالف پوسٹس کے شکار ہوتے رہتے ہیں تو یہ ایک بڑا قدم ہے اور اس سے ملک میں ایک بھلے سائنے کا ماحول پیدا ہونا چاہئے۔ لیکن اس کی بات یہ ہے کہ اس نے بھی ایسے لوگوں کو شامل کرنا ہوگیا جو اسلام مخالف پوسٹس کرتے رہتے ہیں، ان کے لیے بھی ایک جگہ دی جانی چاہئیے۔
اسٹریلیا نے ایسا کیا ہے تو وہ بھی یہ واضع کر رہے ہیں کہ وہ Islamophobia اور تعصب سے کوئی بھی بات کرنے میں انکار نہیں کریں گے، ان لوگوں کو بھی داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو اسے پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک بڑا کदम ہے اور اگر وہ ملک میں شامل ہوں تو ان لوگوں کو اسے چھپانے کی کوئی اجازت نہیں دی جائے گی، یہ ایک بہترین بات ہے اور وہ ملک آئندہ میں ایسا رہنے کا یقین دیلتا ہے.
اسٹریلیا کی حکومت نے اپنی جانب سے کیا کھل کر ایسا کھلا۔ وہ ان لوگوں کو بھی چھپانے کی اجازت نہیں دیں گے جو اسلام مخالف پوسٹس میں شامل ہوئے تھے، یہی ساتھ ان لوگوں کو داخلہ دینے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو Islamophobia پر دھماں ہوئے تھے.
اسٹریلیا کے اس عمل سے پوری دنیا میں ایسی بڑی پیمانے پر مایوس ہوئی ہے جس کی وہ نہیں سنا چاہتے تھے، وہ کہتے ہیں یہ ایک بڑا عمل ہے اور وہ بھی ایسی بات کرنے لگے ہیں جو اس طرح کی صورت میں نہیں آتی تھی۔
اسٹریلیا کی حکومت کو بھی کامیابی ہوئی اور وہ اپنی جانب سے ایسا کر رہے ہیں جو دنیا میں پھیلائے جاتے تھے وہ اب نہیں ہو رہے ہیں، اور یہ ایک بڑا قدم ہے جس پر وہ آگے بڑھتے ہیں.
اس اسرائیلی نے یہود کے پاس ملک میں داخلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے، لیکن وہ اس بات سے اب بھی متعذور ہیں کہ وہ لوگ جو اسلام مخالف پوسٹس دیتے ہیں ان پر دھماں کر دیئے جاتے ہیں، یہ تو ایک بڑا خوفناک واقعہ ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ لوگ جو Islamophobia پر دھماں کر رہے ہیں ان کی نالیں ایسے سے بھر جائیں گی جیسے انہوں نے ہی کیا ہوتا تھا!
اسسٹریلیا کو بھی اتنا ہی اچھا پالے! وہ جیسے جیسے دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کوشش کر رہے ہیں اسسٹریلیا بھی نہیں چھپائی گئی!
اس کی وہ ناکام پ्रयاس کی کوشش کرتے سیمی یہود کی ویزہ منسوخ کر لینے کی بات تو پوری سے چل رہی ہے۔ اور ان دھماں کو بھگتایا نہ گئا تو اسسٹریلیا نے اس پر جواب دیا ہے. اس کا یہ decission سچ میں بھی اچھا ہوگا.
اس کی وہ صلاحیت اور قوت ملک کو اچھا ہونے کے لئے استعمال کر رہی ہے اور اس کی ناکام پ्रयاس کو بھی روکنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے. یہ ان دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے والی باتوں پر اچھی طرح سمجھتا ہے کیونکہ ان لوگوں کو بھی وہ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی ویزہ ملنے دی جاتی ہے جو سیمی یہود نے اس کا استعمال کرنا چاہتے تھے۔
اس وقت جب تک اسٹریلا نیا یسارائی انفلوئنسر سیمی یہود کی ویزہ منسوخ کردی تو مینہ تو چکا چکا ہو گیا، آپ کے نہیں کہے،اس کھیاب ہی پورے ملک میں ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ بھاگ کر چلا گا، یہ ایک اچھا کदम ہے لیکن پھر مینے سوچا کہ کیا اس پر کون سے نتیجے ہوئے ہوں گے؟
اس بات پر غور کرتے ہوئے کہ آسٹریلیا نے اسرائیلی انفلوئنسر سیمی یہود کی ویزہ منسوخ کردی تو کیا اس نے ملک کی ایسی صلاحیتوں کو تسلیم کر لی ہیں جو دیگر ممالک میں موجود ہیں جس سے کسی بھی Islamophobia پر دھماں ہونے والی شخص کو ملک میں داخلہ دینے کی اجازت نہ دی جائے؟ کیا یہ ایک ایسا اقدام ہے جو آسٹریلیا کی پہچان کو بھی تبدیل کر دے گا اور دیگر ممالک پر بھی Pressure ڈالتا ہوگا کہ وہ بھی اپنے ملک میں اس طرح کی Things کو روکنے والے افراد کو داخلہ دینے سے انکار کر دیں؟ @icon of a thinking face
یہ خبر کافی خوفناک ہے، جبکہ آسٹریلیا کی حکومت نے ایسا قدم उठایا ہے جو لوگوں کو اسے پہچاننے اور ان پر اپنی رائے کا اظہار کرنے کا موقع دیا ہے۔ اس کی وہ جگہیں تھوڑا سا تعصب بھی شامل تھا، پھر بھی یہ ایک اہم کदम تھا جو انفرادی تعصبی تحریکوں کو روکنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔