سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کہاں ہیں؟ ایرانی میڈیا کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

مگرمچھ

Well-known member
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی حملوں کے خدشے میں تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دی گئی ہے، یہ دعویٰ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔ اس مقام پر ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں سرنگوں کی چارچڈ ہے تاکہ حملوں کی صورت میں ان کی جان کی حفاظت کئی گز یقینی بنائی جا سکے۔

آیت اللہ خامنہ ای کے تیسرے بیٹے مسعود خامنہ ای نے ان کے دفتر کے روزمرہ امور کی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں اور اب وہ رہبر اعظم اور حکومت کے اجراعیہ شعبوں کے درمیان بنیادی رابطے کا کام انجام دے رہے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپریم لیڈر کسی بنکر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایران کو کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہے جبکہ کچھ لوگ جھوٹی افواہیں پھیل رہے ہیں، ان کی جان بچانے کے لیے سیکیورٹی اہلکار موجود ہوں گے۔

اُدھرIslamic انقلابی guardz corps کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، ان کی فوج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور ہتھیار ہاتھ میں ہے۔
 
ایران میں ایک نئا منظر پیش ہوا ہے جس میں امریکی حملوں کے خدشہ میں آیت اللہ خامنہ ای کو تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دی گئی ہے। یہ دعویٰ ایران انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے اور اب اس مقام پر ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں سرنگوں کی چارچڈ ہے تاکہ حملوں کی صورت میں ان کی جان کی حفاظت کئی گز یقینی بنائی جا سکے۔ لہٰذا ابھی تک اس پر کسی کی جوابदہی نہیں کی جاسکتی۔ اس سے پتا چلے گا کہ ایران کو ایسے حملوں سے بچانے کی کس کوئی صلاحیت ہے؟
 
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو امریکی حملوں کے خدشے میں تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دی گئی ہے؟ یہ بھی ایسے ہی رپورٹز کیوں آرائیو ہوئی ہیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے؟

میری نظروں میں سیکیورٹی ایک اہم بات ہے لیکن اس صورتحال کو حل کرنے کے لیے ہماری ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ اگر یہ رپورٹس صاف نہیں ہوتی تو ہماری پناہ گاہوں کے اندر سیکیورٹی کو بھی اس کی جان بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک دوسری جانب، اگر امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں تو یہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ اس وقت کی لڑائیوں میں کوئی بات نہیں پہلو کی جاسکتا۔ سلیب کے لیے سب کچھ سیکیورٹی پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
 
اس بات پر کسی بھی طرح کی شک و شبہ نہیں کہ ایران کی ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ تہران میں رکھی گئی ہے، اور یہ جانب سے بھی تو صاف ہے کہ وہاں ایک مضبوط کمپلیکس ہے جس میں سرنگوں کی چارچڈ ہے۔

لیکن اب یہ سوال آتا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کو کیا motivo تھا کہ وہ ان میں پناہ لینا چاہتے تھے؟ اور وہ کیسے سنبھال رہے ہیں؟

اسपर یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایرانی حکام نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے، جو ایک اچھا سینٹمنٹ ہے۔ پھر کیا وہ دوسری جانب سے بھی یہ رپورٹ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

اسے نا ہونے کے لیے زیادہ اچھا انہوں نے اس بارے میں بھرپور تردید کی ہے۔ لگتا ہے وہ صرف اپنی صحت کو ایک ایسا مقام پر رکھنا چاہتے ہیں جہاں سے انہیں کوئی خطرہ نہ پہنچ سکے۔

دوسری جانب سے بھی یہ بات قابل ذکر ہے کہ Islamic انقلابی guardz corps کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے کہا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، اور وہ فوج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔
 
یہ رپورٹ تو ایک نئی گولڈ اسٹن کے جیسا ہوگا، چوری پھیری کی طرح۔ کون سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت اللہ خامنہ ای کو تہران میں ایک خصوصی زیر زمین پناہ گاہ منتقل کر دی گئی ہے، اور میرے پاس کچھ ذرتیہ رپورٹ نہیں ہے جو یہ بات کو صحت دے سکے۔

ایسا کیسے ہوگا؟ اس مقام پر ایک مضبوط کمپلیکس ہے، تو یہ بھی جانتے ہو کہ ایک ریشے کی ناک میں لپٹ کر کے کیا ہوا ہے؟ میری بات یہ ہے کہ لوگ اس کو امریکی حملوں سے بچانے کا دावہ کرتے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔
 
ایران پر امریکی حملوں کی واضح خواہش نہیں ہے، اب تو یہاں ان کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خصوصی زیر زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دیا جائے گا اس سے نتیجہ کیا جو چاہتے ہو؟ Iran International کی رپورٹ بھی تو کہیں سے اتر رہی ہے، یہ بات ابھی تو ظہور میں آئی ہے کہ ایران کو امریکی حملوں کی خواہش ہے یا نہیں؟

ایسا کیا ہونے دے گا کہ Iran International اپنی رپورٹ میں Iran کے سپریم لیڈر کو ایک بنکر میں پناہ لینے کا دعویٰ کرتے ہیں، پھر وہ رپورٹ کی تردید کرنے والی ایرانی حکام کی بات تو چھوڑ دیجے گا؟

ایسے سے یہ بھی بات نہیں کہ Iran کو امریکی جنگی بحری جہازوں کی جانب بڑھنے پر خواہش ہے یا نہیں؟ اور ہم نے یہ بات کتنا پہلی بار سنی ہے کہ Iran Revolutionary Guardz Corps کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے ایسا کہا ہے کہ ان کی فوج پہلے سے زیادہ تیار ہے؟

انہوں نے کہا ہے، جیسا کہ Iran کو امریکی حملوں کی خواہش ہے وہی ہو گا، اور اس میں ابھی بھی ایسے لوگ ہیں جوIran کے ساتھ جھوٹی افواہیں پھیل رہے ہیں، ان کی جان بچانے کے لیے سیکیورٹی اہلکار موجود ہوں گے؟

🤔
 
ایران کے سپریم لیڈر کو ایک خصوصی زیر زمین پناہ گاہ دی گئی ہے تو وہ یہ بات سچ ہے نہیں کہ ان کی جان بچانے کے لیے کوئی حد تک خطرہ ہو سکتا ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ امریکی حملوں پر تہران کے لوگوں کی روایات میں بدلाव آ رہا ہے، اب یہ بات سچ ہے کہ وہاں کی حکومت نے ایک مضبوط کمپلیکس بنایا ہے تاکہ کوئی بھی حملہ ہونے پر ان کی جان کو بچایا جا سکے، لیکن یہ بات سچ ہے کہ اس سے وہاں کے لوگوں میں ایک خطرناک جذبہ پیدا ہوا جس کے نتیجے میں ان کی جان بچانے کے لیے آزاد دنیا کی حکومت کو بھی اس مقام پر آنا پڑ سکتا ہے
 
ایسا نہیں ہو سکتا کہ آیت اللہ خامنہ ای انٹرنیشنل کو یہ رپورٹ کیسے ملی? کیونکہ وہ پتھر سے محفوظ ہیں اور کسی نئے حوالے پر پھینک کرنے میں بھی ان کی کوئی صلاحیت نہیں ہے…امریکی حملوں کا یہ خوف ایران کے لیے ایک محرک بن رہا ہے، اب وہ اپنی فوج کی تیاری میں مزید اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں…
 
ایسا کیا لگتا ہے کہ اب بھی وہ افواہیں پھیل رہی ہیں جو ہر سال اپنی اِجتیمائیں دیتے ہیں؟ نا صرف ان رپورٹس کی تردید کی جائے بکہ ایران کے سپریم لیڈر کو ایک خصوصی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا جائے، یہ کام ہر طرف سے سرگری نہیں ہوتا؟ اور اس پر ایک مضبوط کمپلیکس لگایا گیا؟ یہ وہی ہمیشہ کی طرح کھیل ہے، افواہوں کو پھیلنا اور لوگوں کی ذہنیں دبानا...
 
میں یہی سوچتا ہوں کہ ایران کی حکومت ایک بار پھر امریکی حملوں پر چٹپیٹھ کر رہی ہے ، اب وہ اپنے سپریم لیڈر کو تہران سے بھگتایا جا رہا ہے . یہ جو حالات دیکھو ہیں تو وہ خوفزدہ ہو کر کیسے نہ ہو؟

مگر اب بھی وہ اس پر چیلنج کر رہے ہیں کہ یہ ان کی جان کو لے جائے گا . کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی پوری صورتحال پر یہ بے پین میں نہیں ہے ، لیکن اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بھی قید میں چھوڑنا جانتے ہیں .
 
امریکی حملوں کی خبروں پر ایران کا یہ جواب لگتا ہے کہ وہ اب بھی فاسد نظام سے نمٹ رہا ہے اور اس لیے ان میں ملوث ہونے سے انکار کر رہا ہے... 😏

ایران کی حکومت کے پاس بھی جہالت بڑی ہے، وہ یہ سوچتے ہوئے کہ فوج کے پاس ہر چیز ہے اور ان میں اسے بھی سیکھنا ہو گا... مگر وہ جانتے ہیں کہ امریکی حملوں کی خبر کو کبھی نہ رکھنے والے لوگ اس میں ہلچل پھیلائے گا اور پھر وہ فاسد نظام کے ساتھ اس پر بھی جوش مچا دے گا... 🤔
 
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ میں منتقل کر دی گئی ہے، تو یہ بھی ہمیں ایک سیکورٹی کمپلیکس کی بات سunein chahiye. مگر ایسے میں کیا یہ ضروری ہے کہ ان کا خفیہ مقام یہاں تک پہنچ جائے؟ میرا خیال ہے کہ اس پر مروڑنا پھلوں اور ہمیں ان کی سیکورٹی پر توجہ دینی چاہئے.
 
ایسا بھی ہوگیا ہے یہ تو۔ اب سپریم لڈر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دی ہے، اور ہم کیا فائندہ؟ وہ ان کی جان کی حفاظت کئی گز یقینی بنانے کے لئے ایک مضبوط کمپلیکس میں چلے آ رہے ہیں، اور میرے لئے یہ بھی ایک بڑا حocco و فائندہ ہے کہ ان کی جان کی حفاظت کیسے کی جائے؟
 
بہت سی شایادتیں دیکھ رہا ہوں، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکی حملوں کے خدشے میں تہران میں ایک خصوصی زیرِ زمین پناہ گاہ منتقل کر دی گئی ہے، یہ بھی کیے جانے والے ہے کہ وہ دوسری جانب ایرانی حکام نے سرکاری طور پر ان رپورٹس کی تردید کی ہے۔

اب تک کچھ لوگ کہتے رہے ہیں کہ ایران کو کسی بھی غیر ملکی طاقت سے خوفزدہ نہیں، مگر اب وہ جانب کیں جو جانب کرتے ہیں۔ اور اس موضوع پر Islamic انقلابی guardz corps کے کمانڈر جنرل محمد پاکپور نے بھی کہا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ کی جانب بڑھ رہے ہیں، یہ ہر طرف سے ایک بدلی ہوئی صورت حال دیکھ رہا ہوں
 
یہ بہت دباؤ ہے امریکا کے ساتھ ایران کے درمیان... آیت اللہ خامنہ ای کو پناہ گاہ میں لانا تو یہ سب ایک جھٹلے کارروائی ہے، میرے خیال میں اس پر زیادہ دباؤ نہیں ہونا چاہیے... کچھ لوگ بے اعتماد ہو رہے ہیں کہ آئے دिन Iran میں ایک وہی صورت حال پیدا ہو جس سے پورے دنیا کو ہٹایا جا سکتا ہے... ایران کی فوج اس کے لئے تیار ہے اور وہ ہمیشہ جان بچانے کے لیے تیار رہی ہو گی۔
 
ایسا لگتا ہے کہ امریکی حملوں کی صورت میں ایران کو ایک خصوصی پناہ گاہ ملگی ہے، یہ بات تو دیکھنا مشکل ہو گیا ہے کہ کیے جا رہے کیا چال چل کر انہیں پناہ گاہ میں منتقل کیا جاتا ہے یا انہیں یہاں سے اتارنا بھی ہو گیا ہے۔

مگر ایسا نہیں ہوگا کہ ایران کو ایک بنکر میں پناہ لیے کیونکہ یہ امریکی حملوں کی صورت میں بھیIran کو اپنی سلامتی کے لئے پورا استعمال کرے گا۔ وہ پناہ گاہ بنکر میں منتقل ہونے کے بجائے، اپنی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کو امریکی حملوں پر تیار کرتا رہے گا اور دوسرے ملکوں میں انہیں لاتے رہے گا۔
 
واپس
Top