سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا ہے جس سے پولیس کےOfficial خطوط اور F.I.R درج کرنے میں نوآبادیاتی اور غلامانہ اصطلاحات ختم کر دی گئی ہیں۔ عدالت نے واضح کیا ہے کہ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام کا نوکر نہیں۔ اب پولیس خطوط اور درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او کی جگہ صرف جناب ایس ایچ او لکھا جائے گا۔
اس فیصلے کے تحت شہری کو "اطلاع دہندہ" کہا جائے گا، نہ کہ شکایت کنندہ یا فریادی۔ "کمپلیننٹ" کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایات تک محدود ہوگی۔
اس فیصلے سے پورے ملک میں پولیس اور شہر کی تعلق کا روایت میں تبدیل ہونے کا ایک اہم قدم لگ گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ریاستی رویے میں تبدیلی ضروری ہے تاکہ عوام کو انصاف کے حصول میں مکمل احترام اور سہولت میرس ہو۔
اس فیصلے کی کچھ باتیں بات چیت کے لیے ہیں . یہ رائے ہے کہ عوام کو اپنا حق لڑنے کے لیے خودمختار ہونا ضروری ہے، اور یہ فیصلہ شہریوں کے ساتھ مل کر اپنے حقوق کی لڑائی جاری رکھنا کو آسان بناتا ہے.
پولیس کے ایس پی کو ان لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیئے جو شہریوں کا حقدار ہیں، نہ ایس پی کے حقدار میں . یہ فیصلہ اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ شہری بھی اپنے حقوق کی لڑائی جاری رکھتے ہیں.
اس فیصلے کی بات کرنے والی عدالت میں ایک اچھا مشورہ ہوا ہے!
اس سے کہیں زیادہ اچھی باتیں نہیں ہوسکتیں۔ اب وہ خطوط جو پوری دہائیاں تک "غلام" یا "نوابandi" کے اصطلاحات سے لکھی گئی تھین اب صرف ایس ایچ او کا نام لکھا جائے گا، یہ تو ایک اچھا قدم ہے
اس فیصلے میں واضح رہا ہے کہ عوام کو انصاف کا حصول میں احترام ملتا ہے اور سہولت ملاتی ہے۔ یہی بات جو ہر ایک کی پچھلے سالوں سے دوسروں سے طلب کر رہا تھا!
اس فیصلے نے بالکل بھی انصاف کا رواج قائم نہیں کیا ہے، بلکہ وہ پہلی قدم لگایا ہے جس سے آئندہ کچھ اچھا ہو سکتا ہے۔
اس فیصلے سے بہت ہی خوشگوار نتیجہ باقی رہا ہے! ابھی تک یہ اصطلاحات جیسے "شکایتendent" یا "فریڈی"، جو مہذب نہیں تھے، ختم کر دی گئی ہیں اور شہری کو ایسا متعارف کرانا بہت اچھا ہے۔ اب لوگ اپنے حقوق کے حصول میں اچھے سے اچھے راز پائیں گے!
اس فیصلے کی وہ بات بھی خوشगوار ہے کہ اب شہری کو ایسا سمجھا جائے گا کہ وہ ملک کا خادم نہیں، بلکہ اس کا ایک نوکر! اس سے بھی عوام کے حقوق کی وضاحت ہوئی ہے اور انہیں انصاف کے حصول میں احترام ملتا جائے گا। یہ ایک بڑا قدم ہے!
میں یہ فیصلہ تو پسند آیا، یہ ایک بڑا قدم ہے، پولیس اور شہر کی تعلقات میں تبدیل ہونے کے لئے۔ اب "اطلاع دہندہ" سے "شکایاکار" تک کا فرق ہو گا، یہ تو بھی ایک اہم بات ہے۔ میں یہ expectation کرتا تھا کہ جیسے ہی سے اس فیصلے کو لے کر آئے گا، پولیس کے عہدیداروں کی پوری توجہ اور ذمہ داری لے لی جائے گی۔ اب یہ سب ایک نئی شुरुआत ہے، میں اس پر optimism rakhta hoon, hopefully yeh sab kuch sahi se chalayega
میں سوچتا ہوں کہ یہ فیصلہ ایک بھرپور قدم ہے، اب تک اس پر بات نہیں کی گئی تھی کہ عوام کو کس طرح احترام اور سہولت ملتی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے یہ فیصلہ لگایا ہے ان کی بات میں بھلائی ہے، اس کا مطلب ہے کہ شہری کسی بھی صورتحال سے جوڑنے والے person کو احترام کے ساتھ دیکھنا چاہئے نہ کہ انہیں بدنام کیا جائے۔ اس کا مطلب ہے اور یہ بھی کہ شہری اپنی شکایات فریادیں سے بنائیں تو ایس ایچ او کی طرح نہیں بلکہ کسی اور کو دیکھنا چاہئے، انصاف کے حصول میں احترام ہی ہوتا ہے۔
اس فیصلے سے تو یہ لگتا ہے جیسے ہمارا ملک ایک نئی رہنمائتیں لانے والا ہے . آج پولیس اور شہر کی تعلقات میں تبدیلی آئی ہے، اور اس سے ہمارے ملک کے لوگوں کو زیادہ احترام اور احسان ملا گا. یہ ایک بڑا قدم ہے جس پر ہم آگے بڑھنا چاہیں گے...
اک دوسرا بات ہے، یہ فیصلہ صرف ایسے لوگوں کے لیے نہیں ہے جو معزز اور شانیدار ہوتے ہیں، بلکہ یہ ہر کسی کو شامل کر رہا ہے جنھوں نے بھی اپنے جیسا احسان کیا ہو...
لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ سچمَنہ تبدیلی صرف اس وقت آئے گی جب ہر ایک کو یہ سمجھ میرا اور اپنے جیسا احسان کرنا پڑے گا...
اللہ تعالیٰ ایسے فैसलوں پر غور کرائیں جس سے ہمARA ملک ایک بہتر پہلو پر قدم رہا ہو۔ اب یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ ہمیں ایسے اصطلاحات سے نا گزریں جن سے ہم کو غلامی اور نوآبادیاتی دور میں رکھا جاتا تھا۔ یہ واضع ہوگئی ہے کہ پولیس ایسے نہیں ہے جو عوام کی ذمہ داریوں کے خادم ہیں بلکہ اس سے احترام اور سہولت ملنے والا ہے جب یہ "اطلاع دہندہ" کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس فیصلے سے پھر بھی پوری تاریخ تک ہم نے ایسی باتوں پر توجہ دیتے رہے جن کا کوئی معقول وضاحت نہیں تھی... یہ فیصلہ ہمارے ملک کی پہلی کوشش ہے جس میں ہم اپنے معاشرے میں ایسی تبدیلی لानا چاہتے تھے جو پورے دنیا کو دیکھ لے... اس فیصلے کے تحت ہمیں یہ سچنا ہوگا کہ ہم نہیں ایک نوکر، نوکر کے برعکس ایک شہری ہیں... اور پوری دنیا میں ہم یہی بات کرتے رہے گے "میں وہ شخص ہوں جو اپنے حق کی لڑائی کرتا ہوں"...
یہ واضح ہے کہ ایک قدم بھی اٹھایا گیا ہے، اب شہری کو "اطلاع دہندہ" کہا جائے گا تو وہ آگے بڑھنے کے لئے اپنا راستہ جانتا ہو، نہ کہ صرف شکایت کرنے والا ہی بنے رہتے ہیں۔ یہ فیصلہ شہری تعلیم کو بھی بڑھاتا ہے کیونکہ اب وہ جان سکتے ہیں کہ شہر انصاف کے حصول میں اس کے لئے کیا کر رہا ہے۔
ایسا پچھلے دن کے لیے ایک بھارپور نئی ہے اور یہ فیصلہ ابھی تو لگتا ہے کہ شہری کی بہت سی سے جگہوں پر فیلڈ ورک کرنا شروع کر دیا جا رہا ہے، یہ کمپلینٹ بننے والا کوئی نہ کوئی لوگ اپنی انسाफ کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب سے یہی بات کوئے نہیں۔
میری بھावनات میں یہ بات بھرپور طور پر تعجب دہانہ ہے کہ سپریم کورٹ نے ایس اچو کی حیثیت کو اس طرح سے تسلیم کر دیا ہے، یہ پورا معاملہ بھی ایک تاریخی فیصلہ ہیں، جو ہمیں ایسی ایم نے فیلڈ ورک کرنا شروع کرنے پر اچھی راہ دکھائی ہے۔
ايک بھائی، اب یہاں تک کہ پولیس کی بھی جگہ ہے کہ وہ عوام کو کتنے احترام سے لیتے ہیں؟ اس فیصلے سے پہلے یہ تو دیکھا نہیں کہ عوام کی شکایت پر کس طرح تھکایا جاتا تھا؟ اب کمال چیلنج ہے کہ وہ لوگ انصاف کو حاصل کرنے والوں کو سہولت کیسے دیتے ہیں؟
یہ فیصلہ ایک بڑا قدم ہے جو شہری حقوق کے بارے میں بات کرتا ہے، اور یہ سچ ہے کہ "سے دھاندی" ایک عظیم اصطلاح نہیں ہے۔ پولیس کے Official خطوط اور F.I.R میں کوئی بھیاصطلاح جب تک کہ یہ عوام کی خیریت سے نہیں ہوتی اس پر انحصار کرنی چاہیے، پہلے تو فریادی لکھنا تھا اور اب بھی وہی اچھی ہوگا۔
سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنا بہت اچھا ہے، کیونکہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ ریاستی رویے میں بھی تبدیلی ہونا ضروری ہے، تاکہ شہریوں کو انصاف اور احترام حاصل ہो।
یہ بات تو واضح ہے کہ یہ فیصلہ پوری ملک میں ایسے لوگوں کی جانب سے لئی گئا ہے جو اپنے حقوق کی پرچھاء کرنا چاہتے ہیں۔ اب شہری کو "اطلاع دہندہ" کہا جائے گا، جو بھی کہتا ہے وہ ایسا ہی کہنا پڑے گا۔ یہ سب ایک بات ہے کہ عوام کو انصاف اور احترام کی جانب سے لئیا جا رہا ہے، لیکن ابھی بھی اس بات کو یقینی بنانا مشکل ہو گا کہ یہ فیصلہ جسمانی ہو گا یا صرف فیکٹری میں بس یقینی ہو گیا ہے۔
یہ فیصلہ بڑا اہم ہے، اب پھر پولیس ایس ایچ او کے لیے اپنی منزلیں بنائیں گے؟ اس سے یہ بات واضح ہو گی کہ شہری کی حقیقی سٹیٹس آف لیف نہیں بہت اچھی ہے، شہر میں شہری کا احترام کیوں نہیں؟
اس فیصلے سے بہت متاثر ہوئیں، یہ سمجھنا جہاں تک کہ ریاستی کارروائیوں میں عوام کی سہولت اور احترام کا خیال آتا ہے وہی کثرت سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ یہ ایک بڑا قدم ہے جو عوامی زندگی میں Positive Change LAYega . اور یہ بات بھی دیکھنا ہی مشہور ہوئی کہ سوشل میڈیا پر لوگ اس فیصلے سے بھرپور Thumbs Up De raha hai, lagta hai ye koi bhi person iske haq mein sochta hai, jo kisi social issue par totesa hai .
ابھی یہ بات نہیں چلوتی کہ پوری سرکار ایک ایسا فیصلہ لگاتے ہیں جو عوام کو بہت دیر تک متاثر رکھتا ہے … اس فیصلے سے پولیس کی سرزمین پر یہ بتایا گیا ہے کہ وہ صرف ایس اے او کے نوکر ہیں نہیں، ابھی تک شہریوں کے حق میں کچھ بھی ہوا نہیں … حالانکہ عدالت نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ عوام کو انصاف کا حصول کرنے میں احترام اور سہولت ملنے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے بعد بھی یہ بتایا گیا کہ شہریوں کو صرف "اطلاع دہندہ" کہا جائے گا، نہیں "شکائی کنندہ" یا "فریادی" … یہ سب ایک ہی چیز ہے!
اس فیصلے سے بھی پورا ملک جاگ رہا ہے، سب لوگ اس سے خوش ہوں گے، لاکھ ہزار کی تعداد میں لوگ یہ کہتے ہوں گے ایس ایچ او کو اتنا احترام مل گیا ہے، اب شہری نہیں بلکہ اطلاع دہندہ کی حیثیت حاصل کر لگا ہے، یہ تو ایسی بات کہنے کو ہر کوئی نہیں چاہتا، اب جب بھی کسے سےproblem ہوتا ہے تو وہ انفرادی طور پر اتنا احترام ملتا ہے، میری بات ایسی نہیں ہو سکتی کہ اس سے بھی کچھ اور بدلنے کی ضرورت ہو گی، مگر یہ فیصلہ بالکل چہرے پر نظر آنے والا نہیں ، جس سے عوام کو انصاف حاصل ہوتا ہے وہ فیصلہ اچھا سمجھنا پڑega، مگر ایک بات یقین رکھو کہ جب سے شہری نہیں بلکہ اطلاع دہندہ بننے لگے گئے تو ہر وٹر کی سوچ ایس میں बदल گیا ہو گا، مگر مجھے اس بات سے خوف ہوا ہے کہ اب جب وٹر شہری نہیں بلکہ اطلاع دہندہ بننے لگے گئے تو کیسے کروائے گا، اس میں ایسا کرنا مشکل ہو گا، اور جس سے ان کا احترام مل گیا ہے وہی شخص کچھ بھی نہیں کرتا ہے، پھر یہ سب کہل کر دکھائی دیتا ہے، مگر میرے خیال میں یہ ایسے وقت میں ہوا جب لوگ اس سے خوش ہوں گے اور سب کو وٹر بننے کے دوسرے نام مل جائیں گے، مگر مجھے یہ بھی گalt نہیں دیکھا، کیونکہ یہ سب ہی ساتھ آ کر نکلتے ہیں اور یہ فیصلہ ہر کوئی جانتا ہے