سپریم کورٹ نے عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کردیا ہے، جس میں القادر ٹرسٹ کیس شامل ہیں۔
دوران سماعت کے دوران عمران خان کی فوری ملاقات کرانے کی استدعا مسترد کردی گئی، اسکے بجائے چیف جسٹس نے کہا کہ دوسرے فریق کو نوٹس جاری کرنے سے پہلے اور ان کا موقف سننے سے پہلے کسی بھی حکم پر لگے اعتراضات کو دور کرتا ہے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں جو مقدمات دیگر عدالتوں میں زیر التوا ہیں، ان کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
تعزیرات اور فوجداری کیس میں بھی کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں، جو آئندہ منگل تک جواب طلب کیا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودہ صحت کی صورتحال پر بھی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے تاکہ ان کی طبی حالت کا جائزہ لیا جا سکے۔
عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو غیر مؤثر ہونے کی بنیاد پر خارج کردیا گیا، یہ تو کوئی بھی نہیں چاہتا کہ عمران خان کو معاف کر دیا جائے گا، لیکن وہ بھی اپنے حقوق کا استعمال کرنا چاہیے، لیکن سسٹم کا یہ رخ تو دیکھنا مشکل ہوگا।
شایاد وہ اپنی جانب سے کسی بھی غلطی کے لیے ذمہ دار ہونے کی تجویز کریں، لیکن اب تک کوئی ایسا معاملہ نہیں دیکھا گیا ہو گا جس میں انہیں غلطی کے لیے ذمہ دار کیا گیا ہو۔
ایسے مچھلی اڑنے والے عمران خان کے لیے یہ نتیجہ بہت تلخ ہے... آپنی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو خارج کرنا ایسا نہیں تھا جیسا کہ اس پر آپ نے پورا کیا...
دوسرے فریق کو نوٹس جاری کرنے سے پہلے اور ان کا موقف سننے سے پہلے کسی بھی حکم پر لگے اعتراضات کو دور کرتا ہے... یہ تو چیف جسٹس کی جانب سے ایک ایسی نہوں تھا جو عمران خان کی خواہش کے مخالف تھا...
اسے سمجھنا مشکل ہے کہ عمران خان کی ملاقات کرانے کی یہ استدعا کیا گیا اور اس پر مسترد کر دی گئی... اب اگر انہیں جواب دینے سے پہلے کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست پر نوٹس جاری کرنا ہے تو یہ کیسے ہوگا...
ایک بھی اچھا حل نہیں ملا... اس سے پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست غیر مؤثر تھی...
عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو سپریم کورٹ نے غیر مؤثر قرار دیا ہے، اور یہ سبھی کچھ ان کے درمیانوں ہو رہا ہے۔
مردے جیسا لگتا ہے کہ عمران خان کو ابھی بھی جواب دینے کی نہیں توڑنی چاہیے، بلکہ انہیں اور ان کی فریقین کو ان تمام مسائل کو حل کرنے پر مجبور کیا جائے۔
ایسا لگتا ہے کہ جواب دینے سے پہلے انہیں اپنی صورتحال کو بھی چیک کرنا چاہیے، اور اگر ضرورت ہو تو ایسے لوگوں کو جو ان کی مدد کرسکتے ہیں وہ اس سے لڑنے کی کوشش کریں۔
لیکن یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنی جانب سے کیا ہے وہ اچھا اور بدلے ہیں، اور اب بھی انہوں نے جواب دینے کی صلاحیت کو دیکھ رکھی ہے۔
اس کے علاوہ عمران خان کی جیل میں موجودہ صحت کو دیکھنے کے لئے بھی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے، اور یہ سبھی ایک اچھا کردار ہے جو جھگڑے کے حل میں مدد کرسکتا ہے۔
عمران خان کی جانب سے دیے گئے وعدوں پر دھ्यان دینے والوں کو اس بات کو بھی پہچانا ہوگا کہ ان میں کیسے تینچ ہوئی ہوگی? فوری ملاقات کی استدعا مسترد کرنے سے پہلے چیف جسٹس نے ایک اور طریقہ اختیار کیا جو لوگ اپنی طرف سے لانے والے معاملات میں محنت کر رہے ہیں انھیں بھی یہ واضح کرنا چاہیے کہ ان کے موقف کی جانب سے بھی تینچ کیسے ہوئی ہوگی? اس وقت جسٹس جوئی نے ایسے معاملات میں کارروائی کو غیر قانونی قرار دینے پر بات چیت کرنا چاہیے نہیں؟
اس نئے نظام میں جس کے تحت عمران خان کو دائر ضمانت کی درخواست کی rejection ہوئی وہ تو بھی پتا نہیں تھا، چیف جسٹس کی طرف سے کیا گیا یہ مشورہ بھی کچھ عجیب لگ رہا ہے کہ اب وہ اپنے حکم پر لگے اعتراضات کو کیسے دور کرتے ہیں؟ یہی نہیں تو چیف جسٹس انھیں فوری ملاقات کی اجازت نہیں دے رہا تاکہ وہ اپنی پوزیشن کھو سکیں، اور اب یہ بھی بات ہے کہ دوسرے مقدمات جو زیرتلا ہیں ان کی موجودہ قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا? یار، چیف جسٹس کی یہ پالیسی تھوڑی عجیب لگ رہی ہے…
اس سے پہلے یہ کہ عمران خان کو چیف جسٹس پر یہ بھی اچھا لگ رہا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں فوری ملاقات کی استعفاء کرنے سے پہلے اور ان کی موقف کو سمجھنے سے پہلے کسی بھی حکم پر لگے اعتراضات کو دور کرتا ہے، اس سے عدالت میں کبھی بھی دیر نہ لگے کیونکہ فیصلے کی جسمانی صلاحیت کمزور ہوتی ہے
عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو خارج کردیا گیا تو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ ڈیرہدار عمران خان کس طرح اپنے معاملات میں خود کو جادو کر لائے ہیں؟ ان کے حوالے سے ایک جانب سے دائر ضمانت کی درخواست، دوسری جانب بھی اس کا خلاف ہونے کی تلاصلی گئی تو یہی نتیجہ نکلا کہ ان کا معاملہ غیر مؤثر ہو گیا۔
کیا یہ جانتے ہو آفہ میں بھی پھر سے اس طرح کے معاملات کا سامنا کر رہے ہیں ؟ عمران خان کی جانب سے دائر ضمانت کی درخواست کو انچکچاس اور غیر مؤثر قرار دینا! چیف جسٹس نے کیا یہ ایک معاملہ میں صرف ایک طرف کی نظر رکھی ہے؟ فوری ملاقات کرنے کی استدعا مسترد کردینا، اسے تو بہت سے لوگ انچکچاس سمجھتے ہیں!
یہ کتنے معاملات انچکچاس ہو رہے ہیں؟ پہلے چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن برائے دیس ڈویلپمنٹ (پی ٹی آئی) کو جیل میں موجودہ صحت کی صورتحال پر رپورٹ طلب کرلی گئی ہے! چیف جسٹس نے انچکچاس ایک روزہ بھی کیا ہے؟
کسی بھی معاملے میں فوری ملاقات کرنے کی بات اس وقت ہونا چاہیے جب وہ معاملہ ان کے پاس نہیں ہو . یہ طریقہ صرف ایک سیاسی گیم پلیز سے زیادہ ہوتی ہے. کیا اس میں صرف فوری ملاقات کرنا کافی تھا?