کسی سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں لانا یا نکالنا حکومت کی صوابدید ہے، آئینی عدالت | Express News

لومڑی

Well-known member
انقلاب نے ملک کے لیے اپنی صوابدیدوں کی سرگرمی شروع کر دی ہے اور پہلی بار اس بات پر فैसलہ آنے والی سیکٹر ٹیکس میں شامل یا نکال دنا کا فیصلہ ملک کے لیے ایک نئی جان بھری ہے۔

آئینی عدالت نے وفاقی اور صوبائی governments کے وچھلے کاروبار کے لیے ایکسائز ٹیکس کو الگ کرنے کی اجازت دی ہے اور اس سے ملک کو ایک نئی جان ملی ہو گی۔

بلوچستان اسمبلی کا صوبائی محکمہ معدنیات پر ایکسائز ٹیکس میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے ملک کے کاروبار کو ایک نئی فرصا ملی ہو گی۔

اس مصلحت پر فیصلہ دیتے ہوئے آئینی عدالت نے ایکسائز ٹیکس کو الگ کرنے کی اجازت دی، جس سے ملک کے لیے انصاف حاصل ہو گا۔

اس معاملے میں وکیل اعجاز احمد نے کہا ہے کہ جو لوگ ٹیکس سے لڑتے ہیں، ان کے لیے اب ایک نئی امید مिल گئی ہے اور وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

عسکریت پسند عنصریات کا دباؤ: ملک میں وٹو کا دباؤ انصاریات پر ہوا ہے، جس نے ملک کو ایک سادہ اور عظیم معاشی پالیسی کی طرف مائل کیا ہے۔

اس معاملے میں وکیل راشد انور نے کہا ہے کہ ایکسائز ٹیکس کو الگ کرنے سے ملک کو ایک نئی فرصا ملی ہو گئی ہے اور وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

سگریٹ کی ڈیبی پر 98 روپے ٹیکس: ملک میں ایکسائز ٹیکس کو لگانے کا دباؤ پھیل گیا ہے اور لوگوں نے اسے کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس معاملے میں وکیل اعجاز احمد نے کہا ہے کہ سگریٹ کی 130 روپے کی ڈیبی پر 98 روپے ٹیکس لگایا جاتا ہے، جس سے لوگوں کو ایک نئی گھڑی مل گئی ہو گی۔
 
انقلاب کی جانب سے کیا گیا فیصلہ اچھا لگ رہا ہے، لेकिन یہ بات بھی تھodi problematic hai ki اس میں ایسے لوگ شامل نہیں ہو سکتے جیسے بلوچستان اسمبلی کے کھاتے خاتمے کا حال ہوا تو اس پر پابندی لگائی گئی تھی، اب یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں بھی ایک لچک ہوگی؟
 
میں اپنی بیوی کی کھانپن کے لیے سٹی میں نہیں رہتا، میرا پتہ صرف اپنے گارڈین کو ہے اور وہ مجھے پوری Tarikh بتاتا ہے کہ میرے بیٹے کی کلاسز کب ہوں گی، میں کھانپن کے لیے پٹیوں میں رکھتا ہوا نہیں رہ سکتا، میرے پاس ایک فون بھی نہیں ہوتا، میرے بیچ کے لوگ مجھے پوچھتے ہیں اور میں انھیں بتاتا ہoon کہ مجھے گھر سے کیسے نکلنا پڑتا ہے، میرا نانا وہی کھانپن کا طریقہ بتاتا ہوں جو اپنی بیوی کرتی تھی، میرے بیٹے کی تعلیم بھی ہمیشہ پرہیز کے ساتھ ہوتی ہے، اور اس لیے مجھے ٹیکس میں کوئی دباؤ نہیں کرتا ہے۔
 
یہ بات کہہ کر بھی نہیں چلو کہ انصاریات کی آگ پھیل رہی ہے اور وٹو کا دباؤ ملک میں سب کو ایک ساتھ لائے ہوئے ہیں... مگر اب تو ایکسائز ٹیکس میں شامل یا نکال دینے کے فیصلے سے ملک کے لیے ایک نئا دور شروع ہو گیا ہے! 🚀

لوگ پچیس روپے کے ٹیکس پر بھی چل رہے تھے اور اب اس کو کم کرنے کی امید ہے... یہ واضح طور پر دکھاتا ہے کہ ملک میں ایک نئی صوابدیدوں کی سرگرمی شروع ہوئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ ملک اپنی جان بھر گا! 🤞

بلوچستان اسمبلی نے اب تک یہ کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں سرگرم عمل ہون्गے... اور اب وہ ایکسائز ٹیکس میں شامل کرنے کی اجازت دی گئی ہے! یہ بات بھی کہے بھولنا نہیں چلو کہ انصاریات کی آگ پھیل رہی ہے...
 
عجیب عجیب دوسری طرف سے آ رہی ہے! یہ وٹو اور ایکسائز ٹیکس کا فیصلہ جیتنے والوں کو ایک نئی امید دی گئی ہے! اب لوگ اپنی کاروباریں دوبارہ شروع کر سکتے ہیں اور ملک کی معیشت میں بھی واز آئی ہو گی! 🤩
 
یہ بات صاف توہین کے بجائے انصاریات پر وٹو کی واضح پیغام ہے اور اس سے ملک کو ایک نئی جان ملی ہو گی۔ اگر پہلے بھی ملک میں معاشی ترقی کا سہارہ ملتا رہا ہوتا تو یہ فیصلہ ضرور لگایا جاتا، لیکن اب یہ ایک نئی آواز ہے جو ملک کو ایک نئی راہ میں لے رہی ہے۔

بھوتال سیکٹر ٹیکس کی بات کرتے ہوئے، وہ لوگ جو اس معاملے میں سچائی چھپائی ہوتی ہے ان کا ایک نئا گزرنہ لاحق ہو گا اور ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ملک کو اس میں سچائی دکھائی نہ دی جائے۔

اس معاملے میں کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی لیڈر کی جانب سے جس بات کی کہی گئی وہ سب کو اس معاملے میں ہی ایک نئی امید ملی ہو گی اور یہ سب کو مل کر ایک نئی دھارنا ملا۔
 
یہ سمجھنا چاہئے کہ آپ کے پاس کچھ بھی ہوتا ہے، اور اگر نہ تو آپ کی زندگی بہت سارے معاملات میں کچھ بھی نہیں ہوتی۔
 
ایکسائز ٹیکس کا معاملہ ہمیں Politics of Economic Policies 📊 میں لے جاتا ہے، کیونکہ یہ ملک کی معاشی ترقی کی بات ہے اور ملک کی وٹو کی بات ہے۔ بلوچستان اسمبلی کا فیصلہ سے ملازمتوں کو سہارا ملتا ہے لیکن یہ بھی سوچنی پڑتی ہے کہ اس معاملے میں کیونکے Politics of Interest 🤝 کے اقدامات لیے گئے ۔

سگریٹ کی ڈیبی پر 98 روپے ٹیکس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ملک کی معاشی پالیسیوں میں Politics of Taxation 📊 کی طرف بھی جسمانی تبدیلی آئی ہے اور اس کو کیسے استعمال کیا جائے گا، یہ سوچنا پڑتا ہے۔
 
اس معاملے میں آئینی عدالت کی جانب سے دی گئی سیکٹر ٹیکس میں شامل یا نکال دنا کا فیصلہ بہت اچھا ہے... ہمیشہ سے لوگوں کو ایک نئی جان بھری رکھنے کی ضرورت ہے... اس معاملے میں وکیل اعجاز احمد نے کہا ہے کہ جو لوگ ٹیکس سے لڑتے ہیں، ان کے لیے اب ایک نئی امید ملا ہو گی...

 
اس معاملے سے ہمیں یہ سکھنا چاہیے کہ جب آپ اپنی جانب سے ایک نئی پالیسی تیار کرتے ہیں تو دوسروں کی بات پر فैसलہ دینے سے بہتر ہوتا ہے۔ اس وقت سیکٹر ٹیکس میں شامل یا نکالنا اور اس پر فیصلہ دینے کا معاملہ ایک نئی جان لینے کا مواقع بن گیا ہے۔
 
بھلے کہ ایکسائز ٧ ٹیکس میں شامل یا نکال دنا ہمارے لئے ایک نئی جان بھری ہے، یہ سوال ہے کہ اس کا استعمال کیا گیا؟ وہ لوگ جو اپنے کاروبار کی بھرپور مرام کو پورا کرنا چاہتے تھے انہیں اب یہ ایک نئی فرصا مل گئی ہو گی، لیکن وہ لوگ جو اپنے ذریعے سے دھائے میزار کرنا چاہتے تھے ان کے لئے یہ ایک نئی میرزا سے بھی نہیں ہو گا।
 
میری سوچ ہے کہ آپنے کاروبار کی سرگرمی پر 98 روپے ٹیکس لگا کر وٹو اور انصاریات سے پہلے اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا تھا کہ ملک کے لیے بہتر پالیسی مائل ہوئی ہے۔ اب تو آپ کی ایسے پالیسی سے ملک کو نئی جان مل گئی ہے جس پر وٹو کا دباؤ انصاریات پر ہوا ہے۔ میری بات یہ ہے کہ اب کھل کر بات کرنا چاہئے کہ ملک کی معاشی پالیسیس میں کسی نہیں جاننا دوسرے لوگوں کو بھارosa لگتا ہے
 
ایکسائز ٹیکس کی بات آ رہی ہے تو میرا خیال ہے کہ یہ بہت اچھی نئی گلی ہو گئی ہے جو ملک کو ایک نئی جان دے گی۔ اب لوگوں کے پاس ایسی فرصا مل گئی ہو گی جس سے وہ اپنے کاروبار کو دوبارہ شروع کر سکائیں گے۔

لیکن یہ بات بھی توحید اور ایکجاہت کا حوالہ ہے، اس لیے ملک کی تمام حکومتوں نے ایکسائز ٹیکس میں شامل ہونے کی اجازت دی ہوگی تو یہ بھی ایک اچھا معاملہ ہو گا۔

اس کے ساتھ ہی ملک کو ایک نئی جان ملی ہو گئی ہے جس سے لوگ اپنے کاروبار کی طرف توجہ دے سکیں گے اور ملک کے معاشیات میں بھی ایک نئی تبدیلی آئے گی۔

🙏
 
یہ تو ہر جگہ سے ایکسائز ٹیکس کی گنجائش نہیں آئے گی، آپ سب کو پتہ چل گیا ہو گا کہ یہ ٹیکس لوگوں پر بھاری دباو پڑے گا اور وہ اپنے کاروبار کا مطلوبہ معیار نہیں حاصل کر سکیں گے
 
واپس
Top