کس کے ساتھ رہناچاہتے ہیں؟گرین لینڈ نےفیصلہ سنادیا

پروفیسر

Well-known member
گرین لینڈ کی پارلیمنٹ نے مشترکہ بیان جاری کیا، اس میں بتایا گیا کہ وہ امریکی یا ڈینش بننا چاہتے ہیں نہیں، ان کا مستقبل خود گرین لینڈ کی عوام کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ بیچنے یا غیر ارادی طور پر شامل ہونے کے مشن سے ایسا نہیں تھامنگا چاہتے۔

گرین لینڈ کے وزیر اعظم مُٹے ایگیدی نے بھی ان کے خیالات کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اپنے طور پر کلالیت رہنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ گرین لینڈ کو بیچنا یا کسی طاقت کے زیر تسلط نہیں آسکتا۔

ایک پارلیمانی رکن نے سخت الفاظ میں अमریکی موقف پر رد عمل ظاہر کیا اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی کہ گرین لینڈ فروخت نہیں ہوگا۔

گرین لینڈ کے لوگ اور سیاسی نمائندہ ٹرمپ کے رویّے کو مضحکہ خیز اور دھمکی آمیز قرار دیا ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ نے گرین لینڈ کی حیثیت کو بزور طاقت سے تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
 
امریکی اور ڈینش کی بات کرتے وقت انھوں نے پورا ٹرمپ کا روایہ دیکھا ہیں، تو یہ بھی پورا ہوا کہ وہ گرین لینڈ کو باقی رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی موجودگی کو آسان بنانے کے لیے کسی بات پر زور نہیں دیتے
 
یہ بات حقیقی تھی کہ گرین لینڈ کے لوگ اپنی ملکیت پر بہت اچھی طرح جانتے ہیں، اب وہ ان کو ایسی صورت میں نہیں چھوڑنا چاہتے جو ان کی مرضی سے متصادم ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں یہ واضح تھا کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کو صرف وہی میں چھوڑنا چاہتے ہیں جو اُن کی عوام نے ان کے لیے صاف رکھا ہوں گا۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ لوگوں کو اپنی مرضی سے باہر کسی اور کی مرضی پر چلنا نہیں چاہیے، اُنہوں نے ایسا کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہو گا۔
 
میٹھی بات کرو چکیو، یہ تو واضح ہے کہ گرین لینڈ آپنی خودی پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ آپ کو دیکھائی دیو بھارتی یا امریکی نہیں بننے کی کوشش، لیکن آپ کے مستقبل اُداس لوگوں پر منحصر ہونا چاہیے۔ یہ واضح ہے کہ آپ اپنی خودی کو دھندلے نہیں بناتے، لیکن ایسا کرنے کی سہولت بھی نہیں دی جائے گی۔ ٹرمپ کے رویے کی آخری بات یہ ہے کہ وہ اپنی آزادی کو نہیں چاھتے، لیکن آپ کو دیکھائی دیو وہ آپ کس طرح لودھڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
 
اس نئی حقیقت سے میں بالکل خوشا ہوں کہ گرین لینڈ کی عوام اپنا مستقبل خود کی رائے کے مطابق چھوڑنے والی ہیں 🙌 ان لوگوں کو بڑا تحفظ ہوتا ہے اور انہیں ملک کے مستقبل کی گارڈ کو نہیں بننا پڑسکتا، کھونے یا غیر ارادی طور پر شامل ہونے کا یہ مشن ایسا نہیں چلا سکتا جس میں ملک کی آزادی اور استقلال کی بات ہو۔

اس بات پر واضع ہونا چاہیے کہ گرین لینڈ کی حیثیت کو بزور طاقت سے تبدیل کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ اسے ایسے حالات میں پھنسایا ہے جس سے ملک کی آزادی اور استقلال کی کوئی مدد نہیں ہوتی۔

اس بات پر واضع ہونا چاہیے کہ امریکی طاقت میں گرین لینڈ کو شامل کرنے کی کوشش کرنے والوں کو ایک سے بھی بڑے معاملے کی نظر میں دیکھنا چاہئیے، جو کہ انہیں ملک کے مستقبل اور آزادی کے حوالے سے ایسا نہیں بناتا ہے۔
 
یہ تو ایسا ہی دیکھ رہا ہوں کہ انٹرنیٹ پر سب کچھ دھمکی اور چلاکپان کے ساتھ ہوتا رہتا ہے، اور اب گرین لینڈ کی بات کرو رہے ہیں تو پورا مشق صرف ایک دھمکی میں ختم ہو جاتا ہے… 🤦‍♂️

اس سے پہلے کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں بات کرنے لگے تو یہ بھی کہنا چاہئیں کہ ان کو غور و فکر کیا گیا ہو اور وہ جس سے بات کر رہے ہیں اس کی قدر کو سمجھتے ہیں… اور اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ امریکی بننا چاہتے ہیں؟ اچانک تو لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی جائیداد کی قدر کو بھول کر ہر کوئی اس کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں… 😔
 
اس نئی پالیسی سے متعلق بات چیت، منافقانہ ہی نہیں دکھائی دے رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمیشہ سے خود کو امریکی اور ڈینش بناتے چلے آئے ہیں، حالانکہ انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کو عوام کی رائے پر منحصر کرنا چاہتے ہیں، لेकن یہ تھوڑی سا جھٹلہ ہوتا ہے کہ وہ آج تک ہمیشہ ایسا کرنا چاہتے تھے؟ @

اس پر ایک ایسی نکتہ نظر تھی جو میں نے دیکھا ہے کہ گرین لینڈ کی حکومت نے ہمیشہ سے یہی کہہ رہی ہے، اور اب بھی وہ امریکی اور ڈینش بننے والوں کو اپنی رائے دی جا رہی ہے، اس سے کیا فرق ہے؟ @

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ ایک بار جب ان کی بات سنلیں تو وہ ایسی ہی بات کرتے رہتے ہیں، لेकن ابھی تک وہ اپنی بات کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے۔ @
 
ایسے لگتا ہے کہ گرین لینڈ کی پارلیمنٹ کا ایسا بیان نہیں کیا جس پر کسی کے دل کو گھماسے کا احساس ہو، انھوں نے ایسی باتوں کی بتائیں جو بلاشبہ دھن کھل رہی ہیں، سچایکہ وہ اپنے مستقبل کو انھیں صرف خود کی عوام کے فیصلے پر منحصر بنانے والا چاہتے ہیں۔ نہیں تو وہ امریکی یا ڈینش بننا چاہتے اور اپنے ایسی طرزے سے جیتنا چاہتے جو ان کی معیشت کو دھمکای۔ مٹے ایگدی کا کہنا بھی ہے کہ وہ اپنی خود کی کلالیت رہتے ہیں، مگر یہ بات تو سچ ہے کہ وہ ایسے نہیں ہو سکتے جو انھیں محنت کا دندک اٹھانے والے بناتے ہیں، جیسا کہ ٹرمپ نے کیا ہے، اور یہ بات تو بھی ہے کہ وہ فوری طور پر خود کو ایک طاقت کی طرف متوجہ کرنے میں بھی مایوس رہتے ہیں۔
 
گرین لینڈ پر یہ دھمکیاں تو کیا ہیں? وہ لوگ جو اپنی ملکیت کا حق دाव رہتے ہیں، وہ کبھی سونے کی چاندی اور کلالیت کا شوق بھول جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو بھی دھمکیاں دیتے ہیں جنہوں نے ان کی ملکیت پر زور دیا ہو۔ مٹے ایگیدی کی بات کچھ موثر ہوگی لیکن پوری پارلیمانی فریز نہیں اس طرح چلو گیا؟

امریکی اور دینش لوگوں کو کبھی سونے کی چاندی اور کلالیت کا شوق بھولنا ہوگا اورگرین لینڈ کے لوگ اپنی ملکیت پر زور دیں تو وہ یہ دھمکیاں نہیں دیتے۔

عوام کے فیصلے پر مستقبل منحصر ہونا بھی ایک بالکل اچھی بات ہے لیکن اس میں یہ بات شامل کرنی چاہیے کہ عوام نے ان کی ملکیت پر زور دیا ہو یا نہیڰا؟

یہ سارے دھمکیاں واپس رہنے کے لیے کیسے ہوگیں?
 
اللہ یے کیسے ہوتا ہے؟ ایسا سمجھیں کہ انہیں امریکی یا ڈینش بننے کا نہیں چاہیئے مٹے ایگیدی کی بات سے باور نہیں آ رہا تھا وہ بھی ان کی طرح ہیں نہیں کہ جسے اس پر فخر کیا جائے؟

یقیناً یہ بات یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ گرین لینڈ کو کبھی بھی کوئی طاقت کے زیر control نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس پر فخر کرنے والوں کے جیسے ہیں وہ اپنی باتوں کی بھی پوری کرتے ہیں یا نہیں؟

یہ کہنا مشکل ہے لیکن ٹرمپ جیسے لوگ جب کسی بات پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو ان کی باتوں سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اپنی آخری زندگی کا کام سمجھ رہے ہیں۔
 
mera khayal hai ke iss baat par koi sabq nahin kiya jayega, jo ki graen land ko kisi dusre desh mein faile krne ka faisla hai to wo apne logon ke beech se hoga. Maine socha hai ki yeh ek mushkil samasya hai, kyunki humein pata bhi nahin hai ki hum iss tarah ki baat kar sakte hain ya nahi. Maine socha hai ki humein isey sair karna chahiye aur graen land ke logon ko apne desh ka future decide karna chahiye.
 
یہ تو ایک اور فاسد منظر ہے، یہ پتھر پکڑنے والا لوگ اب ملازمت پر چل رہے ہیں۔ وہ اپنی آزادی کو یوں ہی قائم کرنا چاہتے ہیں جو کہ اس قدر نائٹ میرینج نہیں کرتا؟ وہ بھی جانتے ہیں کہ ان کا مستقبل ایسا ہوگا جو آپ انھوں نے قائم کیا ہے، یہ بہت سچ ہے۔
 
جب تک میں اس گلشن میں گھومتا رہا ہوں تب اس پر خیال ہوتا ہے کہ یہ سچ ہو گیا ہے کہ امریکی اور ڈینش لوگ اپنے مستقبل کو خود نہیں بنایnge، بلکہ اس پر گرین لینڈ کی عوام کا فیصلہ چاھیے۔ یہ بھی خوش آonda ہوا کہ وہ بیچنے یا غیر ارادی طور پر شامل ہونے کے مشن سے انکار کرنا چاھتے ہیں، کیونکہ یہ لوگ اپنی خودمختاری پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔ 🤞
 
اس بات پر غور کرتے ہیں کہ یہ سچ کہنے والوں کو آسپاس کرنا چاہیے کہ گرین لینڈ کی وعدے کو ایسے طاقتوں میں ہاتھ نہیں کیا جائے جو اسے اپنے مفاد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مُٹے ایگیدی کی باتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گرین لینڈ کو اس مقام پر رہنے کا حق دیا گیا ہے جو وہ چاہتے ہیں، بھالے وہ کس چیز سے متاثر ہوں یا نہ ہوں۔ اس پر کچھ رکاوٹوں کو دور کرنا پڑتا ہے جو ان کے مستقبل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت سے روکتے ہیں۔
 
یہ غلطی ہے کہ لوگ یہاں تک کہ اس پلیٹ فارم پر بھی یہ آدھی پوہن رہتے ہیں کہ گرین لینڈ کو کیونے والے فائدے ہوں گے؟ ایسا نہیں، یہ جوڑی ہے وہ ایک سسٹم کی ہے، جہاں عوام کو کوئی بھی فیصلہ دینے سے پہلے اپنے ریاست کے ووٹرز سے مشورہ لینا پڑتا ہے۔

اس میں کچھ بات یہ ہے، اگر ہم نے اسے ایسا ہی رکھ دیا جیسا ہے اور اس کو اپنے ملک کی آگاہی سے دیکھا جائے تو یہ مشکل کھیل نہیں ہوتا کہ لوگ اس پر یقین رکھنا چاہتے ہیں، لیکن یہ بات پچھلے دنوں سے ہی واضع ہے کہ جو ملک ہے جس میں عوام کا فائدہ کوئی بھی نہیں چاہتا، وہ واضح طور پر اپنے ملک کی دوسری صلاحیتوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔
 
واپس
Top