سکول کے دوستوں کی آواز سن کر 8 سالہ بچہ 55 دن بعد کوما سے باہر نکل آیا

سوچوار

Well-known member
سیلویڈ ٹرانسکرانیوٹل ہینڈورنگ (STT) کی ایک نئی وिधی کے ذریعے بچوں کو دماغی عارضے سے نجات مل سکتی ہے، جو انہیں اپنی آواز سننے کی اجازت دیتی ہے۔ اس ٹکنالوجی کا استعمال کرکے لیو چوشی نے پھر سے ہोश میں آگیا اور وہ جسمانی طور پر بھی بھٹک گیا۔

ان وिधیاں ان 8 سالہ کلب کے دماغ میں موجود نقصان کو کم کرتی ہیں جو اس کے ٹریفک حادثے کے بعد ہوا تھا، جس میں اس کے دماغ اور پھیپھڑوں پر گہرا نقصان پہنچا تھا۔

لیو کی والدہ نے اس حادثے میں اس کی ہلاکت کے بعد اپنے بیٹے کو مختلف ہسپتالوں میں لے کر گئیں اور اس کا علاج چلایا۔ ان کے جانی پہچان کے لیے ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ ان کی آوازوں کو سننے سے دماغ میں متحرک رکھا جاسکتا ہے، لیکن وہ اس حادثے کے بعد اٹھنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔

جانی پہچان کے لیے ایک ڈاکٹر نے ایک صاف صاف وکالت کی کہ ہوش میں آنے کا ایک سہولت سے بھی مشورہ دیا ہے، اور اس لیے اس کے لئے اپنے بیٹے کو گونگ آوا کرنا تھا جو اس کی آواز سن سکے۔

اس وقت تک وہ پورے 55 دن تک درمرتеб ہو رہی تھیں اور وہ ایسا نہیں سایہ دیکھتے تھے کہ وہ فرصت پر بھی باہر آئے گا۔ اس حادثے کی وجہ سے انھوں نے اپنے بیٹے کی آواز سن کر ہوش میں آ گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اب واپس اپنی زندگی کو بھی جائے گا، جبکہ اس حادثے سے وہ ایک اور جانی پہچان کے مشورے پر چل دیا گیا تھا۔

سکول کے دوستوں نے لیو کو واپس اپنے سکول میں پلای کرنا تھا جو اس کے لئے ایک آسان اور محبت مند عمل تھا۔ لیو کی والدہ نے اس حادثے کے بعد اپنے بیٹے کو گونگ آوا کرنے کی اور اس طرح ان کی جانی پہچان کرنا۔
 
یہ بہت مشقوں والا واضح ہے، اور یہاں تک کہ میرا ٹینس لگتا ہے، لیو کو اپنی آواز سننے کی اجازت دی جاسکتی ہے تو اس کے دماغ میں نقصان کم ہوتا ہے، مگر ایسا تو نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک جھگڑا ہے جو اس کے دماغ اور پھیپھڑوں پر گہرا نقصان پہنچاتا ہے، لیکن اب یہ ٹینس نہیں لگ رہا جبکہ اس کا دماغ اور اس کے دماغ میں موجود نقصان کم کرنے کی وिधی استعمال کرکے اب وہ ہوش میں آ گیا ہے، یہ بھی یہاں تک کہ میرا دل لگتا ہے کہ یہ بہت مشقوں والا ہوا تو! 😊
 
یہ دیکھ رہا ہوں کہ بچوں کی دماغی عارضے سے نجات مل سکتی ہے اور وہ اپنی آواز سن سکیں. مگر یہ سوال ہے کہ اس ٹکنالوجی کی پوری بات کون بتلائی گا؟ ہمیں اچھی نویں کے بارے میں پتہ ہو کر چلنا چاہئے۔ 🤔💡

ان وिधیاں کس طرح کام کرسکتی ہیں؟ ان کی پوری بات کیسے بتائی جائے? یہ سب کو معلوم نہیں، مگر اس حادثے سے بچوں کو بہت فائدہ ہوا ہو گا. 🙏

لوی کے والدہ نے اپنے بیٹے کو گونگ آوا کرنا چاہئیں تو اس پر پورا سسٹم چلا گا. مگر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس طرح سے جانی پہچان کیسے کرائی جا سکتی ہے? 🤝

جب تک یہ ٹکنالوجی نہیں کی گئی تو جانی پہچان کا یہ عمل چلاگا. مگر اب اس حادثے سے پہلے اور بعد میں کی جانے والی جانی پہچان اور آواز سننے کے عمل میں ایک فرق ہوگا، جس سے یہ آسان ہوگی. 🚀
 
اس وقت میں بہت سے بچوں کی مادہوسی کی بات ہوتی رہتی ہے لیکن ایک بار پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ بچوں کو ان کے جسم اور دماغ کا احترام کرنا چاہئے، اور اگر کسی نے اپنے بیٹے کی آواز سن کر اسے ہوش میں آگے بڑھنے کی صورت ہو تو یہ ایک بالidaar اقدار ہے۔
 
ਮੈں ہمیں بتاتا ہوں کہ یہ ٹکنالوجی اتنا ہی جدید ہے کہ اس پر آوارے کیا جاسکتے ہیں، لیکن انہیں لوگوں کو سننے کی اجازت نہیں دی جاتی! یہ ایک بہترین صورت حال ہے لیکن یہ بات ایک سوال ہے کہ اس ٹکنالوجی پر کیسے عمل کیا جائے اور اس میں کتنے لوگ مدد مل سکتی ہے؟
 
یہ سائنسدانوں کی ایک بھرپور کوشش ہے جو ہماری دنیا کو ایسا ہی بنانا چاہتے ہیں جہاں بچوں کو وہی تمام چیزز بتائی جاسکیں جن سے پہلے انھیں یہ بات نہیں تھی اور انھیں اپنی زندگی میں ایسا ہوش بھی ملنا چاہیے جس کے بعد وہ اپنے ساتھ بھی راز کر سکے اور اپنی بات سے سمجھ لیں۔
 
واپس
Top