جس سائنسدانوں نے زمین جیسا ایک منجمد سیارہ دریافت کر لیا ہے وہ ابھی ہی اس بات کا حقدار ہیں کہ یہ واقعات کچھ عرصہ تک باقی رہ سکیں۔ زمین جیسا ایک منجمد سیارہ جو تقریباً 150 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور اسے زمین سے قدرتی طور پر ملتا جلتا ہے، یہ بات ابھی سے ہمیں دھیمی گٹھ کی گئی تھی کہ یہ سیارہ دنیا میں ایک قابل رہائش مقام کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سائنسدانوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات یقینی کر لی ہے کہ اس سیارے کا حجم زمین سے بہت زیادہ اور اس کی WEIGHT تقریباً ایک اعشاریہ دو گنا زیادہ ہے، اس لیے اسے ایک عارضی نام دیا جاتا ہے۔
جس نہر میں یہ سیارہ لگتا ہے وہ اپنی زمین سے کافی مشابہ ہے، ایک بات یہ ہے کہ اس نہر کو پورے سال کے لیے مکمل کرنے میں تقریباً 355 دن لیتا ہے جو زمین کے سال سے مشابہ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سیارے کے مدار کو دیکھتے ہوئے تو پچاس فیصد سے زیادہ امکان ہوتا ہے کہ یہ اپنے ستارے کے ایسے حصے میں موجود ہو جہاں اس پر پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے اور اس لیے یہ سیارہ ممکنہ طور پر زمین کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان کے کہنے کے مطابق یہ سیارہ ایک ایسے اسٹار کے گرد گردش کر رہی ہے جو سورج کے مقابلے میں چھوٹا اور ٹھنڈا ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت آگستی سے توانائی استعمال کرتے ہیں جس کے باعث ان کی عمر کائنات کی موجودہ عمر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس سیارے کی دریافت کو امریکی خلائی ادارے کے ایک سابق خلائی مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سےPossible ہوئا۔ اس میں ستاروں کی روشنی میں معمولی کمی کا مشاہدہ کیا گیا جس کو ایک سیارے کا گزرنے کا مظاہرہ سمجھا جاسکتا ہے۔
ابھی تک اس سیارے کو صرف ایک بار دیکھی جا سکتی ہے، اسی لیے مزید مشاہدات کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جدید دوربینوں کے ذریعے اس پر مزید تحقیق ممکن ہوسکے گی۔
سائنسدانوں کا مشاہدہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات یقینی کر لی ہے کہ اس سیارے کا حجم زمین سے بہت زیادہ اور اس کی WEIGHT تقریباً ایک اعشاریہ دو گنا زیادہ ہے، اس لیے اسے ایک عارضی نام دیا جاتا ہے۔
جس نہر میں یہ سیارہ لگتا ہے وہ اپنی زمین سے کافی مشابہ ہے، ایک بات یہ ہے کہ اس نہر کو پورے سال کے لیے مکمل کرنے میں تقریباً 355 دن لیتا ہے جو زمین کے سال سے مشابہ ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سیارے کے مدار کو دیکھتے ہوئے تو پچاس فیصد سے زیادہ امکان ہوتا ہے کہ یہ اپنے ستارے کے ایسے حصے میں موجود ہو جہاں اس پر پانی مائع حالت میں رہ سکتا ہے اور اس لیے یہ سیارہ ممکنہ طور پر زمین کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان کے کہنے کے مطابق یہ سیارہ ایک ایسے اسٹار کے گرد گردش کر رہی ہے جو سورج کے مقابلے میں چھوٹا اور ٹھنڈا ہے اور اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بہت آگستی سے توانائی استعمال کرتے ہیں جس کے باعث ان کی عمر کائنات کی موجودہ عمر سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
اس سیارے کی دریافت کو امریکی خلائی ادارے کے ایک سابق خلائی مشن سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سےPossible ہوئا۔ اس میں ستاروں کی روشنی میں معمولی کمی کا مشاہدہ کیا گیا جس کو ایک سیارے کا گزرنے کا مظاہرہ سمجھا جاسکتا ہے۔
ابھی تک اس سیارے کو صرف ایک بار دیکھی جا سکتی ہے، اسی لیے مزید مشاہدات کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح ہو سکی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں جدید دوربینوں کے ذریعے اس پر مزید تحقیق ممکن ہوسکے گی۔