بادل چھونے والا
Well-known member
لیبیا کے سابق بادشاہ معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کو 4 فوجیوں نے گولی میں مار کر قتل کر دیا ہے، جس پر ان کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی ہے کہ وہ killer ہیں۔ لیبیا کی حکومت نے اس بات پر صراحت کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ وہ killers تھے اور انہوں نے 4 فوجیوں کو قتل کر دیا جس سے ایک دوسرے نے اپنی جان چھुपائی۔
سیف الاسلام جو قذافی کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان کے ساتھ کھڑے تھے ان پر پھانسی لگا کر قتل کیا گیا ہے اور اس وقت ان کی جانچ رہی ہے کہ وہ جس معمر قذافی سے تعلق رکھتے تھے وہ killer تھے یا نہیں۔
ایک چھ سال کی پوری قید کے بعد انہیں 2017 میں رہائی ملی اور اس دوران انہوں نے صدارتی انتخاب کیلئے ترمیم بھی کی تھی جس پر لیبیا کے الیکشن کمیشن نے ان کو صدارتی امیدوار سے باہر لگایا تھا اور ان کا نام شہری اور غیر شہری دونوں فریقات میں شامل کیا گیا تھا۔
لیبیا کی حکومت نے اس بات پر اصطلاحت کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ انہیں قتل کر دیا گیا اور یہ عمل 4 فوجیوں کے ذریعے ہوا جس کے بعد انہوں نے فرار ہو گئے۔
سیف الاسلام جو قذافی کے سیاسی مشیر عبداللہ عثمان کے ساتھ کھڑے تھے ان پر پھانسی لگا کر قتل کیا گیا ہے اور اس وقت ان کی جانچ رہی ہے کہ وہ جس معمر قذافی سے تعلق رکھتے تھے وہ killer تھے یا نہیں۔
ایک چھ سال کی پوری قید کے بعد انہیں 2017 میں رہائی ملی اور اس دوران انہوں نے صدارتی انتخاب کیلئے ترمیم بھی کی تھی جس پر لیبیا کے الیکشن کمیشن نے ان کو صدارتی امیدوار سے باہر لگایا تھا اور ان کا نام شہری اور غیر شہری دونوں فریقات میں شامل کیا گیا تھا۔
لیبیا کی حکومت نے اس بات پر اصطلاحت کے ساتھ تصدیق کی ہے کہ انہیں قتل کر دیا گیا اور یہ عمل 4 فوجیوں کے ذریعے ہوا جس کے بعد انہوں نے فرار ہو گئے۔