جنوبی کوریا کی خاتونِ اول کم کیون کو رشوت لینے کے جرم سزا ہو گئی
جنوبی کوریا کی سابق صدر کی بیگم کم کیون کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ پہلے بھی 5 سال کی قید کی سزا پر فائز ہوئی تھی اور اب ان کی سزا بدلی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایک عدالت نے دیا جس میں کم کیون کو رشوت لینے کے الزامات پر سالوں کا قید سنایا گیا ہے، جب کہ دوسری عدالت نے انہیں بری کر دیا ہے جس میں انہیں political fundezs کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈز کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کرنے کا الزام تھا۔
سول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے انہیں بری کر دیا۔
جنوبی کوریا میں سابق صدر یون سک یول کو مارشل لا کے جرم سے سزا کاٹ رہے ہیں اور اس میں کم کیون نے اپنے شوہر کی سزا کی تلافی کی۔
جس کے بعد انہوں نے اپنی وعدے میں ایک بار پھر ایک بیانات میں کہا کہ میں عدالت کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتی ہوں، میرے خلاف تمام الزامات کی تردید کر چکی ہوں۔
جس سے پہلے جنوبی کوریا کے سابق وزیر اعظم ہان ڈک سو کو 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اب اس کی جانب سے پریشانیاں لگ رہی ہیں۔
جنوبی کوریا میں یہ پہلا موقع ہے جس پر خاتونِ اول کو بھی قید کی سزا ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا کی سابق صدر کی بیگم کم کیون کو رشوت لینے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ وہ پہلے بھی 5 سال کی قید کی سزا پر فائز ہوئی تھی اور اب ان کی سزا بدلی گئی ہے۔
یہ فیصلہ ایک عدالت نے دیا جس میں کم کیون کو رشوت لینے کے الزامات پر سالوں کا قید سنایا گیا ہے، جب کہ دوسری عدالت نے انہیں بری کر دیا ہے جس میں انہیں political fundezs کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈز کو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے استعمال کرنے کا الزام تھا۔
سول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے انہیں بری کر دیا۔
جنوبی کوریا میں سابق صدر یون سک یول کو مارشل لا کے جرم سے سزا کاٹ رہے ہیں اور اس میں کم کیون نے اپنے شوہر کی سزا کی تلافی کی۔
جس کے بعد انہوں نے اپنی وعدے میں ایک بار پھر ایک بیانات میں کہا کہ میں عدالت کے فیصلے کو عاجزی کے ساتھ قبول کرتی ہوں، میرے خلاف تمام الزامات کی تردید کر چکی ہوں۔
جس سے پہلے جنوبی کوریا کے سابق وزیر اعظم ہان ڈک سو کو 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور اب اس کی جانب سے پریشانیاں لگ رہی ہیں۔
جنوبی کوریا میں یہ پہلا موقع ہے جس پر خاتونِ اول کو بھی قید کی سزا ہو گئی ہے۔