سال 2026 کے لیے صدقۂ فطر اور فدیۂ صوم کا نصاب جاری کر دیا گیا

ساحل دوست

Well-known member
سال 2026 کے لیے صدقہ فطر اور فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا گیا، جو کہ 30 روزوں کی مدت میں ادا کیا جانا ہے۔ اس نصاب کے مطابق Sadqah Fitr 300 روپے فی کس کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ Sadqah Fitr اور Fidiah Sum کا حساب جس کے ساتھ جو لگتا ہے وہ 1100 روپے اور 1600 روپے کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

کشمش کے حساب سےSadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنا 3 ہزار 800 روپے، منقیٰ کے حساب سے یہ رقم 5 ہزار 400 روپے، آٹے کے حساب سے Sadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنا 200 روپے کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔

فدیہ صوم کے نصاب کے مطابق 30 روزوں کے فدیے کی رقم گندم کے حساب سے 9 ہزار روپے کے طور پر مقرر کی گئی ہے جبکہ Khejoor اور Kashmish کے حساب سے 33 ہزار و48 ہزار روپے کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق منقیٰ اور آٹے کے حساب سےSadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنا ایک لاکھ 62 ہزار اور چار ہزار روپے کے طور پر مقرر کی گئی ہے۔

asadقہ فطر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد، عورت، بچے اور بڑے پر فرض ہے، جس سے نہایت صاف یہ بات واضح ہوتی ہے کہSadqah Fitr ادا کرنا ضروری ہے۔

مگر جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی صورت میں، جس سے کفارہ مسلسل چالیس روزوں تک رکھنا یا 60 مستحق افراد کو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑتا ہے۔
 
یہ تو بے شمار صاف اور سچے فैसलے! سادقہ فطر کی رقم میں کمی نہیں چلی گئی، پھر کیسے لوگ تھوڑا سا غلنے لگت ہی روزہ توڑ دیں? اس کو جان بوجھ کر کفارہ کیسے بنایا جائے گا؟ یہ پچتھے لوگوں کی ذمہ داری ہے، نہیں تو انھیں اسی فैसलے سے بھاگنا چاہئیں گے؟ 😂
 
یہ بات بہت حقیقی ہے کہsadqah fitr ادا کرنے کی صورت میں ڈرامائی معاملات ہو سکتے ہیں، ان حالات میں کفارہ ادا کرتے وقت زیادہ جھٹپتھ نہیں ہونا چاہیے ، لاکین یہ بھی سچ ہے کہsadqah fitrادا کرنے کے لیے ایک منصوبہ بنایا جائے تاکہ نہیں توڑنا پڑے اور نہیں سچائی ہو۔
 
یہ تو یہ واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ اورکے ذریعے زیادہ سے زیادہ کھانا کھلانا ایک بڑا معاملہ نہیں ہے لیکن کفارہ ادا کرنا تو ہے؟ اس لیے کیوں لگاتار روزہ توڑتے رہتے ہیں اور بعد میں واضح طور پر کفارہ ادا کرنے کو مجبور کرتے ہیں؟ ایسے سے نہیں ہونا چاہئیے جس سے اور کھانا کھلایا جا سکے اور وہ معاملہ دوسرے لوگوں پر منتقل کر دیا جا سکے
 
اس سال واپس آئی Sadqah Fitr اور Fidiah Sum کی کھاتے، میں سمجھta hoon ki yeh sab kuch thoda zaroori nahi hai, jese kitna kharcha karna padega? bas 300 rope kise dene ko padte hain, aur phir 1100-1600 rope? is tarah ka kharcha bahut accha nahi hai!
 
یہ کیسے سڑے گا؟ نہیں تو چلو یہ فدیہ صوم اور صدقہ فطر دیا جائے تو وہ لوگ جو بھوک سے بھٹک رہتے ہیں ان کی پوری رات بھوگ لی جا سکے گی؟
 
سaudqa Fitr اور Fidiah Sum کی بات کرنے کے بعد مجھے ایک سوال آ رہا ہے کہ ہمیں یہ کیسے چلائیں؟ سال 2026 میں نئی قیمتوں کے ساتھ ان دونوں معاملات کی صورت حال بہت ہی نا منظم ہے۔

اس لیے مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ اس سال بھی ہمیں ضروری ہے کہ جس چیز کا معاملہ ہوا ہو وہ ناقابل انکار ہو، لہذا ہم ایسا کرنا چاہئیں جو کسی بھی حالات میں جب یہ معاملہ ہوا ہو اس سے وہ بھی ناقابل انکار نہ رہے۔

اس لیے مجھے یقین تھا کہ ہمیں ایسا ہی کرنا چاہئیں جس سے نہ صرف ہمارے معاشرے میں محنت کو بھی اچھی طرح سمجھی جائے گا، بلکہ ہمیں اپنی زندگی میں نیک کردار کے تصور کی وضاحت بھی مل سکتی ہے۔
 
मیتھیو جیکس کی فلم نے مجھے یہ بات بھی یاد دی ہے کہ بھگتن کے لیے ایک بار پھر ایسی سڑک پر چلنا ضروری ہے... 🚗
asadقہ فطر کو ادا کرنا ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ اپنی بھوتیاں اور آپ کے لئے ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جو اس وقت محنت کرتے ہیں...
دکھائی دیکھی سچائی کا ایسا نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر آپ ایسی گاڑی میں ادا کرنے کی کوشش کریں جو صرف آپ کے لیے ہو تو یہ چلنے کی بھی اچھی بات نہیں...
اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس سالSadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنا ایک اچھی پہل ہوگی۔
 
اس سالSadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنے کی بات سن کر میرے دل نے بھگتنا شروع ہو گئی ہے، تو کیا یہ صرف ایک ذمہ داری ہی ہے یا اس کو عزم بنایا جانا چاہیے؟ میری نانی کی کہانی سن کر میرا Mann ٹھوکر گیا، وہ بھی ایسا ہی کرتے تھے، انہوں نے کہا تھا "جب توڑنا پڑتا ہے تو کھانا توڑنا بھی نہیں پڑتا، بلکہ ایسا کرنا پڑتا ہے کہ پورا روخن ہو جائے"
 
ایسا لگتا ہے کہ یہ نصاب کتنا زیادہ ہے، 1100 روپے اور 1600 روپے تو کھانا اور کھلے ڈین پر پانی خریدنا بھی بڑا کام نہیں ہے۔
🤯
 
میری رایے میں یہ سوال ہے کہ 30 روزوں کے لیے صدقہ فطر اور فدیہ صوم ادا کرنا ایسا آسان نہیں ہوتا کیونکہ اب ہمیں چار ہزار روپے جب سے بھی ادا کرنا پڑتا ہے، یہ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

میری رایے میں اگر اس کو تین ہزار روپے تک کم کیا جائے تو یہ لوگوں کے لیے ایک چھوٹی اور آسان کارروائی بن سکتا ہے۔
 
یہ صرف ایک معاملہ تھا جب لوگ محض Sadqah Fitr اور Fidiah Sum ادا کرنے پر زور دیتے تھے، لیکن اب یہ چولہے کھلنے والے ہیں جو اس وقت کو اپنی بے کار سرزنشوں سے بچتے ہیں! یہ فدیہ صوم کا نصاب جاری کر دیا گیا اور اب وہ لوگ جو چولہے کھلنے والے تھے، اب اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
 
یہ بات واضح ہے کہ اس سال فٹر اور صوم کے لئے صدقہ ادا کرنا ضروری ہے، لیکن یہ سوال ہے کہ ایسے لوگوں کی پیداوار سے ان کے ذریعے ادا کرنی۔ آٹے اور منقیا کے حساب سے یہ رقم بہت کم، کیونکہ اس طرح کے معاملات میں ایسے لوگ شامل ہوتے ہیں جن کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
 
یہ بھی نویں صدی میں کیا گیا تھا، جو کہ صحت مند اور محفوظ تھا۔ اب یہ صرف ایک روٹین بن گیا ہے۔ 30 روزوں کی مدت میں ایسی چییز ادا کرنا جس سے آپ اپنی زندگی کے کسی بھی حصے میں مشکل سے نکل سکیں؟
 
واپس
Top