سانحہ بھاٹی گیٹ پر انکوائری رپورٹ مکمل، 3 افسران غفلت کے مرتکب قرار

سائبر ساتھی

Well-known member
لاہور میں ہائی پاور کمیٹی نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر دی ہے، جس میں تین افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور بھی شامل تھے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، شواہد اکٹھے کیے اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کیے۔ اس کے علاوہ متوفی سعدیہ کے اہل خانہ کے بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے تھے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور متعلقہ ایس ایچ او کی غفلت ثابت ہوئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایس پی کی موجودگی میں متوفی خاتون کے شوہر پر ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں تشدد کیا گیا تھا۔

ہائی پاور کمیٹی نے تینوں افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے اپنی سفارشات آئی جی پنجاب کو بھجوا دی ہیں۔ افسران کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ آئی جی پنجاب کریں گے، ان کی وضاحت اور ذمہ داری جانتے ہیں۔

دوسری جانب لاہور داتا دربار کے قریب ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر پولیس نے واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے متوفی خاتون کے والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ بھائی گیٹ میں درج کیا گیا، تین نامزد ملزمان گرفتار بھی کر لے گئے جب کہ مدعی مقدمہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔

واقعے کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آ گئی، 47 افسران کو برخاست کر دیا گیا جب کہ گٹر کور کرنے کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے گرد لوہے کی باؤنڈری Sheffield لگا دی گئی تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

شہریوں نے احسن اقدام قرار دیا ہے کہ واقعے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرتی رہیں، کیونکہ یہ انتظامات پہلے ہی جوئے جاتے تو انسانی جانیں محفوظ رہتے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ واقعے کو قتل کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر سمیت 5 افسران کی گرفتاری اور دو افسران کو نوکری سے برطرف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ کنٹریکٹر سے ایک کروڑ روپے لے کر متاثرہ خاندان کو معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

مدعی مقدمہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا ہے تاہم مقدمے کی کارروائی جاری ہے۔ پولیس اور متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

ادھر ڈی آئی جی لاہور نے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا ہے، جب کہ ڈی ایس پی مامون کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری بھی کیا گیا ہے۔

مدعی مقدمہ اور خاتون کے والد کی فیملی نے پولیس پر سادہ کاغذ پر نشان انگوٹھا اور دستخط لینے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
 
یہ ڈھلے تھیٹر نہیں، بے پناہ غفلت کس حد تک ماحول کو خطرے میں پھونکتی ہے؟ ایس پی سٹی اور ایس ڈی پی او کی موجودگی میں وہ خاتون تھی جو جھیلی گئی، کیا اس کا شوہر نہیں بہت پریشان تھا؟ اور وہ افسانے کی طرح چلا گیا، اسی جگہ انھوں نے پھنس کر سرفrazپورہ میں اس کی موت ہو گئی? یہ بھی تو غلط فہمی نہیں بلکہ ایس پی اور ایس ڈی پی او کو کبھار لاپرواہی دیکھ کر پریشان کیوں نہیں؟
 
یہ بہت غضبتا کن ہے، جو ان لوگوں نے اس مین ہول میں رہنے پر کیا؟ وہ یہ تو سچ تھے کہ آئی جی نے ان میں لاپرواہی کی مہر کی، لیکن وہ اس بات کو بھی پہلی بار دیکھ رہے ہیں کہ آپ کا بیٹا بھی یہی ہو سکتا ہے۔
 
اس واقعے کے پیچیدہ پچھلے میں بھی تھا، مگر اس پر جسمانی پہلو کا زور دیا گیا، نہ تو ایک اور نہ ہی اس کی سمجھ سے.
 
یہ واقعہ انسداد پچڑ اور ہنگامہ ختم کرنے والے معاملات میں ایک بڑا جھٹکہ ہے۔ شہر میں جیسے ہی سائنسدانوں کو یہ بات پچتائی کہ ان کی غفلت نے ایس پی سٹی، SDPO اور SHO کی بھی غفلت کو پہچانا، تو سارے معاملات اس کی وجہ سے ہی ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئے ہیں۔

اس واقعے میں شہریوں کو سب پہچاننے کا موقع ملا تھا، اور اس نے اس بات کو ظاہر کیا کہ یہ معاملات وہی ہیں جو جب تک ٹیکسٹ بک کے ذریعے ڈالے جائیں گے، تو سمجھنے میں آتے ہیں اور جب تک ان پر توجہ نہ دی جائے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔

اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ معاملات جس جگہ ہوا ان کی وضاحت اور ذمہ داری سب کو معلوم ہوگی، تاہم اس بات پر یقین نہیں کیا جا سکتا کہ توجہ دی گئی ہے یا صرف توسیع کی جائے گی۔
 
یہ واقعہ ایسے سے دلتا ہے جیسا کہ یہ پوری طرح پانچپنڈ لاپرائی اور غفلت کی تاریخ میں سب سے بدتر واقعات میں شمار ہو گا۔ شہریوں کو ان لوگوں پر ایسا بھی دھیان نہ دیا جائے جیسا کہ یہ حادثہ ہوتا ہے، اور اس کی پہلے بھی وعدے ہو چکے ہیں۔ شہریوں کو ایسا ہی سائن کیا جاتا ہے کہ یہ حادثات ہوتے تو ان پر پھر سے دباؤ اور تنگنا کر دیا جاتا ہے، مگر اس واقعے میں شہریوں کو ابھی بھی ایسا بھی ملا جارہا ہے کہ ان کی جان کی معراف تھوڑی ہی دیر اور ہو گئی ہو گی۔

اس حادثے سے پتہ چلتا ہے کہ شہریں ایک بڑے مین ہول میں جوں اترے تو ان کی جان سے بھی کوئی ذمہ داری نہیں لی گئی، اور اس حادثے کا سائن ہونے والے 5 افسران میں سے ایک ملازمت پر ناتھیہ کرتا بھی رہا تھا۔
 
🚨 یہ رپورٹ اچھی نہیں ہے، لاہور میں ایک مین ہول میں میرے بھائی کا چوٹ پتھر کر دیا گیا تھا، وہ تین سے اور اس سے پہلے ایک دوسرا بھی جانتا تھا، نہ ریکارڈ کیا گیا تھا نہ ہی کوئی کارروائی کی گئی، اچھا کہ اس پر انٹرنیٹ پر یہ رپورٹ لگ جائے तاکہ لوگ اس بات کو سمجھ سکیں کہ لاہور میں بھی اس طرح کی غفلت ہوتی ہے۔
 
اس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ ہائی پاور کمیٹی نے بھی اچھی طرح انکوائری کی، لیکن ایس پی سٹی کو اس کام میں لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے؟ آئی جی پنجاب پر ان کو اپنی ناکامیت کے لیے ذمہ دار کہنا چاہیے اور ان کے سربراہی میں تین رکنی کمیٹی کی تشکیل پر بھی سوال اٹھانا چاہیے? 🤔
 
اس واقعے نے پورا لاہور غیر خفیہ ہو گیا ہے اور اس کے متعلق تمام ذرائع نے بھی جساد اٹھائے ہیں، اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ واقعہ گھبرا ہوا سے زیادہ ایک انتہائی غلطی ہے جو پولیس اور سرکاری اداروں کی جانب سے اس وقت تک نہیں پہچانی گئی جب تک پوری کھپڑی سمیت تمام شاہدین کو پکڑ لیا گیا ہے، یہ بات بھی واضح کرنی ضروری ہے کہ میرے پاس اور اس واقعات کی جساد میں کسی نہ کسی کی جان سے نہ ہونے پر مے کو انیسٹو نہ کیا گیا اور اب وہ بھی اس معاملے میں شامل ہیں، اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونا ضروری ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک انتہائی غلطی ہوئی اور اس کو جھیلنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، میری Opinion 🤔
 
مرہم بھی ہوا تو مگر یہ پوری بات کیونکہ آئندہ ہی نہیں کہیں ایسا ہونا چاہئے؟ ماں بیٹی کے مین ہول میں یہ واقعہ کتنا دھکہڑا تھا؟ اور اس پر ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او، اور متعلقہ ایس ایچ او کی غفلت کیوں نہ پائی گئی؟ میری یہ سوچ آئی کہ ہم لوگ یہ تو سمجھتے ہیں کہ جب بھی بھاتھیا ایسا کر دیتا ہے، تو پوری حکومت اٹھتی ہے کیوں؟
 
تمام جانتے ہیں ان افسران نے شہر میں گھل میں توڑا تھا اور اب وہ مجرموں کے طور پر کام کر رہے ہیں!

ہائی پاور کمیٹی نے غفلت کی عین وہیں سے چھپائی ہوئی جو یہ رات کو شہر میں تھی اور اب ان کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا!

تمہیں لگتا ہو گا کہ یہ حقیقی واقعہ نہیں بلکہ ایک دھمپوں میں اٹھایا گیا معاملہ؟ لیکن جب تک پریشانی کو حل نہ کرنے والے کچھ بھی نہ ہو گے، یہ سچ ہے!
 
یہ ایک غم و دुख کا واقعہ ہے جس کی پوری وضاحت نہیں مل سکتی اور کسی بھی معاشرتی نظام میں یہ ایسی بات کو دور کرنا مشکل ہوتا ہے۔ میری رایے میں ایسے معاشرتی انتظامات کی ضرورت ہوتی ہے جو یہ سیکھنے پر مجبور کریں کہ ان کے ذمہ داران کو بھی کسی جگہ پہنچنا مشکل ہو اور ان پر کارروائی کی جا سکے۔ اس واقعے میں شہریاں نے احسن اقدام کیے ہیں لیکن آئندہ یہ سیکھنا ضروری ہے کہ جب تک ان معاشرتی انتظامات کو بھلائی سے بنایا جائے گا، پھر انسان کی زندگی منصفانہ اور محفوظ رہ سکے گی۔
 
یہ بات تو صاف ہے کہ ایک منظر میں کتنے بھی پلیئر تھے، لیکن جب ان کا نچلے درجے کی غفلت ظاہر ہوئی تو اس کے ساتھ ہونے والی وجوہات کو کہاں لپٹ دیاجائیے? میرا خیال یہ ہے کہ ایس پی کی موجودگی میں بھی ان کے ذمہ داران کو پکڑنا چاہئے، لیکن اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ان کو معاف کر دیا جائے تاکہ وہ اپنی وجوہات بیان کریں اور وہ اس پر استدلال کریں۔

اس واقعے سے نکلنا مشکل ہے، لیکن اگر ذمہ داران کو پکڑا جائے تو یہ ہائی پاور کمیٹی کی انکوائری کا مطلب ہو گا کہ اس پر کام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
 
اس واقعے کا منظر انساف کو دل چھا گئا ہے، سادہ بڑے حادثات کی بات نہیں کی جاسکتی۔ معاشرہ وہی ہے جس میں لوگ جائے وقوع کا دورہ کرنے، شواہد اکٹھا کرنے اور عینی شاہدین کی بات کو سچ سمجھتے ہوں تو آلازمان پر ستون لگ جاتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد یہ بہت اچھا لگ رہا ہے کہ 47 افسر کو برخاست کر دیا گیا ہے، گٹر کور کرنے کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے گرد لوہے کی باؤنڈری لگای اور حالات معتدل کرائے گئے ہیں۔

دوسری جانب مریم نواز کی ایسے کارروائی سے بھی انتہائی approval ملے گا، یہ حقیقی نمونہ ہے کہ جب رشتے داروں کو نہیں سمجھا جاتا تو شریعت کی نیند اٹھاتی ہے۔
 
ماحول میں غفلت کی کثرت دیکھ رہی ہے، اور یہ بات بھی نہیں تھی کہ یہی سا موڑ پھر سے آ رہا ہے۔ ہائی پاور کمیٹی کی رپورٹ میں انافسران کو غفلت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے، یہ بات تو چھپ جاتی ہے کہ ان کی وضاحت اور ذمہ داری کی جانب سے جو جواب نکلتا ہے اس میں جوڑو پلاسٹик لگاتا ہے؟
 
ایسا لگ رہا ہے کہ یہ انتظامات ہمیں بچنے کی سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ 47 افسر برخاست کر دیے گئے اور گٹر کور لگا دی گئی ہے، لیکن یہ سوال ہوتا ہے کہ ان انتظامات سے حقیقی واقفیت حاصل کی جا سکتی ہے یا نہیں؟

ایس پی، ایس ڈی پی او اور SHO کو لاپرواہی کا مرتکب قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ کیا دوسرا انتظاماتی ادارہ تھا جو اس حادثے میں ذمہ دار تھا؟

وزیراعلیٰ نے معاوضہ فراہم کرنے کی کہانی کہی، لیکن یہ بھی سوال ہوتا ہے کہ اس معاوضہ میں کیا حقیقی دھندلے اور ان کا منافع کس طرح ہو رہا ہے؟
 
اللہ Bless those 3 Police officers who got caught in this, maybe they didn't mean to but still they have to be held accountable 🤕👮‍♂️❤️. This is a wake-up call for all of us, we need to make sure that our police force is working properly and no one is compromised on duty 🚨💪. The government needs to take strict action against this, it's not just about giving them a slap on the wrist, but also taking steps to prevent such incidents in the future 🤝🏼👮‍♂️. And to the person who lost their life, may Allah grant them peace and keep their family safe ❤️💕
 
جب میں بچے تھے تو لاهور میں اس طرح کی کارروائی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ ایس پی سٹی اور ایس ڈی پی او جیسے اداروں کی غفلت کو یہاں تک پہنچایا گیا جبکہ معاشرے کی ایسی کوشش کے بغیر نہیں ہوتا جس سے ایسے حادثات سے بچا جا سکے تھوڑی سی کارروائی تو کافی ہے۔ اب یہ بات دوسری جانب رہ گئی ہے کہ کون ہوتا ہے وہ، لہر کے نتیجے میں سچائی سامنے آئے گی تو یہی اسی سے متعلق ہو گا۔
 
واپس
Top