آزاد جموں و کشمیر کے ایک نامور ترین رہنماؤں میں بھی ابھی ہی انتقال کر گئے آپ کی شان کا کوئی ختم نہیں ہوا۔ بیرسٹر سلطان محمود جسے معاشرے نے اپنی فخر و Pride سے قبول کیا تھا، اب ان کیAbsentia کا خاتمہ ہو چکا ہے اور اس سے بچنے والی کوئی بات نہیں تھی آپ نے اپنا آخری دور 2021ء میں صدر کا منصب قبضہ کر لیا تھا جس وقت ابھی انھوں نے اس عہدے پر فائز تھے۔
یہ سچ بڑی دکھ دیا ہے کہ ایسا اور ایسا رہنما پھر سے نہیں آئے گا کہ معاشرے کو اُس کے ساتھ لگ جائے، آپ کی یہ باتیں ہی لاکھو لاکھ لوگوں کی دلچسپی اور کفایت کر رہی ہیں۔ میں آپ کا شان و Pride دیکھتا رہوں، آپ اپنے آخری دور میں بھی پابند اور ذمہ دار رہنما تھے، 2021 میں صدر کا منصب حاصل کرنا ایک بڑا عزم اور شجاعت کی حوالہ تھا، اس وقت آپ کا نام بھی تاریخ کے صفحات پر لگا تھا، مجھے یقین ہے کہ آپ کا جس्म اپنے ساتھ ہو گیا ہے اور اُس کی یاد میں کوئی نہیں ہوگا جو آپ کی شان و Pride دیکھے گا۔
آزاد کشمیر کی سہولت اور تحریک کی جانب سے آپ کے ایسا ہی رہنا بہت غم دہ ہے، مگر وہ جانتے ہوں گے کہ وہ اپنے ناپاک کارروائیوں کی وجہ سے یہاں تک پہنچ رہے تھے اور اب ان کی موت سے ہمیں کچھ فائدہ نہیں ہوا، اس پر غور کرتے ہوئے مجھے لگتا ہے کہ وہاں بھر میں ان کی موت کے بعد سے ایسی صورتحال پائی جائے گی جو سچائی سے نکل سکتی ہے، لیکن مجھے یہ بھی خیال ہے کہ وہ جانتے ہوں گے کہ ان کی موت اس پریشانی کو ٹھلک نہیں دیتی اور آگے بھی یہی صورتحال رہتی ہے۔
میری رائے ایسا لگتا ہے کہ ان کی وفات سے صدر کو تو ہی اچھا ہوتا ہے، اب اس عہدے پر کوئی نئی فامش نہیں آ سکتی، مگر وہ جو کرتا تھا ان کی وفات کے بعد تو چلنے کی کوئی پوری نہیں ہوگی، ایسے میں صدر کے لئے یہ بہت اچھا مظاہر ہوگا
اس خبر سے میرا دिल پھینکتا ہوا رہا اور مجھے بہت کچھ یاد آ گیا۔ آج کی نسل بہت بے نتیجہ ہے، ان کے بعد بھی کوئی ایسی شخصت نہیں ہے جس کا آپریشن جاری رکھا جا سکے۔ میرا خیال ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہنرہم بھی اس نسل میں پڑتے ہیں جن کو اپنا مقصد بنانے کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔
لاکھوں لوگوں نے ان کی صلاحیتوں سے بھرا ہوا اپنی زندگیاں بنائی ہیں، جو کہ ایک ایسے معاشرے میں ہوئی جہاں کچھ بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ مجھے یہ بات دل کو چوٹ دیتی ہے کہ اگر اس معاشرے میں اپنی طاقت اور صلاحیتوں کو نہیں بنایا جاسکتا تو حالات بہت بدتے ہیں۔
یہ بہت دھیما ہوا ہے … ایک بڑے شخص کا انتقال تو چلنا تھا لیکن اس کی شان کے بارے میں یہ بات کوئی جانتا نہیں تھا کہ آپ نے 2021ء میں صدر کا منصب قبضہ کر لیا تھا … ابھی اس کیAbsentia کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہ بات نہیں آگئی کہ اسے اس عہدے پر رکھنا چاہئیے … شاندار اور انساف کے حامل شخص کیAbsentia کا خاتمہ ہو جانا ایک بڑی جیت ہوئی …
اس خبر پر مجھے لگتا ہے کہ میرے والد جیسے لوگ چلے گئے ہیں۔ معاشرے نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا۔ میں اسے یقینی بنانے کی کوشش کرungi کہ اس جگہ کو محبت اور احترام کے ساتھ چلو۔ میرے والد نے انہیں پکڑنے والے شہری کے طور پر بھی نظر دیا تھا، ہمیشہ سماجی کام کی توجہ سے سرگرم تھے...
یہ سچ کہ ایک نامور ترین رہنماؤں کو بھی ابھی ہی انتقال کر گئے، ابھی تو یہ اس بات سے منحصر ہوتا ہے کہ کیوں انتقال ہوا ، ان کے بعد جو خلاف نہیں، وہ بھی ایک ایسا عہدے پر آئے جس کو انھوں نے پہلے اس عہدے پر رکھا تھا، لگتا ہے یہ ایک کلوکول ہی ہے۔
عزیز ایسے بھی ہیں جو ابھی جانے والے یہاں تو آتے رہتے ہیں اور ان کی یاد میں رکھنے کے لیے پلاٹ فارم پر کافی فضا ہوتی ہے۔ لیکن ایسا سمجھنا مشکل ہے کہ اس فضا کو کس طرح بڑھایا جائے اور اسے اچھی طرح سے سنھے۔ پلیٹ فارم پر کافی مضمون لکھتے رہتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر توجہ کسی شخص کی یاد میں رکھنے پر مرکوز کی جاتی ہے۔ اس کو پلاٹ فارم کے منظر نامے میں شامل کرنا اور اسے ایک مضمون کے طور پر پیش کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
اس گروپ رہنماؤں کی جانوں کا ہوا چلی آ گیا یہ ایک بدلAVA کا بھی سیگنل ہو سکتا ہے۔ پہلے سے ہی ہوتے ہوئے، سرکار کو اپنی فوج کی قیمتی زندگیوں پر مزید فخر کیسے کرے؟
جس نے آپ کی Absentia میں ساتھ لیتا تھا وہ اس شان ہی میں کبھی بھی نہیں آتا ۔ پھر وہی جوں آپ نے صدر کی سربراہی کرنے سے انकار کر دیا تھا، اب اسے سنجیدگی سے نہیں لیتا گیا۔ پوری دنیا جانتا ہو چکی ہے کہ وہ جس کی جانے والی قیمتی زندگیوں کے ساتھ آپ کی شان کا انقسام ہوا تھا، اب اس سے باوجود کرنے کو نہیں پئے۔
عصمت اور طول کی راتوں میں وہی گزرتے ہیں جو بے پناہ کے طور پر جیتا۔ بیرسٹر سلطان محمود اپنی زندگی کا انتہائی اچھا حصہ ہیں ان کے حالات اس وقت یقینی ہو جب وہ اپنے نالیدہ صدر کا عہدہ رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ ایسے لوگوں کی مدد کرتے رہتے جس پر ملک کا دھیا بھی پڑتا اور اس عہدے سے ان کی مرغبت بھی یقینی تھی۔ ان کے خاتمے کے بعد یہ سوشل میڈیا پر اپنے فینز کو گھبراہٹ محسوس کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی شان کی بات کر چکے ہیں اور اب ان کا نام ہر جگہ سر پر لگتا ہے!
بھائی یہ بات بہت دुखدائے کا مضمون ہے۔ ایک رہنما جس کی شان کوں ہمارے معاشرے میں اچھی طرح مشہور ہو گئا تھا، اب وہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ بھی دیکھنا مشکل ہے کہ وہ اپنے آخری دور میں صدر کی بے مثال کامیابی حاصل کر لیتے تھے، اب جب ان کی آزاد Kashmere سے کئی فاصلے ہی پر ہیں تو یہ سچ نہیں ہو سکتا کہ کسی نے ان کو اس عہدے سے بچانے کی کوشش کی ہو گی۔
اس وقت کی سٹریت رنرز کی جانب دیکھتے ہوئے، یہ بات دوسرے لئے واضع ہے کہ ان کا اثر آج بھی برقرار ہے۔ انہوں نے اس فیلڈ میں ایک اچھا رہاس جو ابھی نہیں دیکھا گیا۔ معاشرہ کے بڑے افراد پہنچتے ہی ان کی یاد میں آنی شروع ہوجاتی ہے اور آج یہ واضع ہے کہ ان کا Impact ہمیشہ دیر سے نہیں ہوتا۔
یہ بہت بے حسی ہے کہ ایک شخص جس کا آپریشن ہلچل میں نہیں آتا، اُسکی شان کی کوئی حد نہیں ہوتی، لہٰذا اس پر غور کیا جاے تو دیکھا جاتا ہے کہ پوری دنیا اس طرح ہی چلتی ہے۔
اس کی غلطی یہ تھی کہ وہ اپنی شان کو بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے، مگر دیکھو اُس نے جس عہدے پر فائز ہونے کا محفوظ مقام حاصل کیا تھا اس میں تو اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔
جگہ جگہ سے ان کے متبادل پیدا ہو گئے، اور یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کی شان کو نہیں سمجھا جاتا، بلکہ ان پر دباؤ دیا جاتا ہے تاہم یہ بات نہیں کہ اُس نے اپنی زندگی میں سچائی کے لیے لڑا ہو یا خوف و ہمکت کے لیے۔
عجب ایسا کیا ہوا کے؟ بیرسٹر سلطان محمود کو اچانک انتقال کر گئے، یہ وبا لاکھوں لوگوں کے لیے ہے جو ان کے ساتھ تھے۔ میرا خیال ہے کہ ان کی Absentia کو ختم کرنا ایک بڑا نقصان ہے، آج کل کے نئے پریڈی میں اس طرح کی شخصیات کی کمی دیکھنی مشکل ہوگی۔ لیکن میرے خیال میں ان کو سوشل میڈیا پر بھی رکھنا چاہیے، کچھ لائیٹ میڹنے والی پوسٹس بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اور یہ تو دیکھنا ہی بہت انthrilling ہوگا۔
بilkul, یہ راز پوری دuniya کو ہی نہیں پٹای گا کہ ایک نامور ترین رہنما کی Absentia کا خاتمہ ہو چکا ہے اور پھر بھی لوگ اس پر غور نہیں کر رہے تھکاؤنڈ۔ کیا یہ وہی سچائی نہیں جو آپ کو ماحول میں سمجھائی دیتی ہے؟ بیسویں صدی میں ایسے شخص کی Absentia کا خاتمہ ہونا بہت اہم بات ہے، نا کہ کوئی فخر و Pride ہو تو نا کہ کوئی معاشرے کا مقbol بننا.
آج سے 31 دسمبر 2025 کو ، یہ سوچنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ایک نامور رہنما سلطان محمود کو ابھی ہی انتقال کر گئے تھے ان کی شان کا ختم نہیں ہوا ، یہ ایسا لگتا ہے جیسے وہ مریچ میں آ کر آتے ہیں ، مجھے پتہ چلا ہو گا کہ اس کے بعد وہ کیا کروگا؟
کچھ لوگ نہیں دیکھتے کہ انسانی جینس کی آخری لڑائی کیسے ہوتا ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ بیس سال سے نہیں بچتے ہو گئے ، چھوٹے سے موٹے ، اس طرح سے ہر آخری کے بعد نا آخری اور نا آسان کی پدھरیت ہوتی رہتی ہے اور اب ایک ایسا زمانہ بھی آ گیا ہے جس میں صدر ان سے چھوٹکے ہی تھے اور اس طرح نا منصوبۂ بند ہونے کے بعد ان کی جان لینے کے بعد بھی شان کی کوئی بات نہیں تھی ، ایسا تو ہوتا ہے ۔
ایسا بہت دورو ہے! وہ ایک نامور ترین رہنماؤں میں تھا جنہیں ابھی ہی ہوا چکی تھی اور یہ جاننا مشکل ہے کہ اب ان کی Absentia کا خاتمہ ہو کر کیا ہونا چاہئے? وہ ایک بڑے رہنماؤں میں سے تھے جنھیں معاشرے نے اپنی فخر و Pride سے قبول کیا تھا اور اب وہ ایک Bairister بن کر بھی اس عہدے پر فائز رہ گئے جس میں وہ اپنا آخری دور 2021ء میں صدر کا منصب قبضہ کر لیے تھے! اب وہ ایک معاشرتی چیئرمن بن کر فائز ہو گئے ہوں گے اور یہ جاننا مشکل ہے کہ اس میں سے کیا کچھ ہوا!