امریکہ کا اس کے پچیس سالوں سے چل رہا ماحول اور شعبہ Politics میں اس کا ایسا رویہ بھی نہیں ہوتا جس پر ہم آج تک نظر ڈالتے تھے۔ صدر Donald Trump کی ایسی پوزیشن ایران سے لیتی ہے جو کہ عام طور پر اس ملک کو دباؤ میں لانے والوں کے لیے ہر وقت خطرناک ہوتی ہیں۔
امریکا نے بھی کہا ہے کہ صدر Trump نے اپنے آخری خط میں Iran کی حکومت سے متعلق تمام آپشن کھلے رکھے ہیں، جو کہ ایران کے دوسرے شہر Mahshahr میں ہونے والے مظاہروں پر قائم تھے۔
اس میں سے ایک بات یہ ہے کہ Iran کی حکومت کو واضح کیا گیا ہے کہ اگر وہ مظاہرین کی ہلاکتیں جاری رکھیں گے تو انہوں نے ایران پر سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
جبکہ ایران میں 800 افراد کی سزائے موت روکی گئی ہے، اور अमریکی آمڈروں نے Iran کے صدر Rouhani کو پہلے بھی ایک خط بھیجا تھا جو کہ ایران میڹ دباؤ بڑھانے پر زور دیا تھا۔
اس کے بعد یہ بات کہی گئی ہے کہ صدر Trump Iran کی حکومت کو دوسری بار ایک خط بھیجا ہے، جو کہ ایران میں دباؤ بڑھانے کے لیے تھا۔
اسے دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ صدر Donald Trump کی پوزیشن Iran کے حوالے سے مختلف اور خطرناک ہوتی ہے۔