ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں عالمی شہرت یافتہ سابق این بی اے اسٹار شکیل او نیل سے ملاقات کی، جس میں دو شخصیات نے خوشگوار ماحول میں باسکٹ بال کھیلا اور اپنے یादوں کو کیمرے میں محفوظ کیا۔
ملاقات کے دوران، صدر اردوان اور شکیل او نیل نے اس موقع پر باسکٹ بالز پر دستخط بھی کیے، جو اس ملاقات کی یادگار علامت بن گئے۔ ان دونوں شخصیات نے کھیلوں، نوجوانوں میں اسپورٹس کے فروغ اور باسکٹ بال کی عالمی مقبولیت پر بھی گفتگو کی۔
ان ملاقات سے شائقین اور سوشل میڈیا صارفین کو یہ بات بن گئی ہے کہ شکیل او نیل کی استنبول آمد اور ترک صدر کے ساتھ ان کا دوستانہ انداز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
دوسری جانب، یہ ملاقات کھیل اور قیادت کے خوبصورت امتزاج کی عکاس ہے، جو شائقین کی جانب سے بے حد سراہی جا رہی ہے۔ یہ ملاقات ان شخصیات کو بھی متاثر کر رہی ہے جو کھیلوں میں دلچسپی لیتے ہیں۔
اس وقت تک، اس مقامی ملاقات کی معلومات صرف ایک لمحے سے بھی کم ہیں، لیکن ان شخصیات کے درمیان جو رشتہ باقی ہو گا یہ آگے بڑھنے پر ہمیشہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
اس ملاقات میں دو شخصیات نے خوشگوار ماحول میں باسکٹ بال کھیلا اور اپنے یادوں کو کیمرے میں محفوظ کیا، لاکín میں بھی ایسی صورتحال نہیں ہوئی جتنی عکاسی کی جا سکتی ہو، شائقین کی سراہ وغیرہ.
ان دونوں شخصیات نے کھیلوں، نوجوانوں میں اسپورٹس کے فروغ اور باسکٹ بال کی عالمی مقبولیت پر بھی گفتگو کی، لیکن اس بات کو یقینی بنانے میں کام ہو گا کہ ان تمام باتوں سے کچھ فائدہ ہوا یا نہیں.
باسکٹ بال کی بے حد جگہ ہے! یہ ملاقات نہ صرف اس وقت تک کی حالات کو روشنی میں لاتی ہے جبکہ ان دونوں شخصیات کے درمیان رشتہ بننے کی بھی صدر اور شکیل او نیل کی خوشگوار تبادلہ خیال سے واضح ہوتا ہے۔
اس موقع پر انھوں نے ایک ایسا دستخط کیا جو اس ملاقات کی یادگار علامت بن گیا ہے اور یہ بھی دیکھنا عجوبت ہے کہ انہوں نے کھیلوں، نوجوانوں میں اسپورٹس کے فروغ اور باسکٹ بال کی عالمی مقبولیت پر بھی گفتگو کی۔
اس ملاقات سے یہ بات ہمیشہ ثابت رہی ہے کہ شکیل او نیل کو اس دنیا میں ہمارا ایک پریشانہ شائقین ہیں!
شکیل او نیل کو اچھا بھی دیکھا جائے، وہ اپنی پہلے ٹیم میں سے ایک تھے، اب وہ کئی سالوں سے یوٹیوب پر کھیل رہے ہیں اور انھوں نے اپنے کھیل کی پھرمیں بھی دیکھی ہے۔ وہاں بھی جسے وہ لائے تھے، اس میں انھوں نے اپنے دوستی اور باسکٹ بال کے شوق کو دکھایا ہے۔
جس طرح شکیل او نیل کو استنبول لانے سے پوری دنیا میٹ گئی، اسی طرح جیسے شائقین ٹرک کھیلوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت میں دلچسپی لاتے رہتے ہیں تو اس ملاقات سے پورا دنیا ایک اور طرف مائل ہوا ہو گا۔ یہ دونوں نئی ترقی کی علامتی خطوط ہیں۔
باسکٹ بال کی ایسی ملاقات تازہ ایسے ہی ہے جو میں کچھ عرصے سے نہیں دیکھا ہوا تھا Wow
شکیلا اور رجب طیب اردوان کی دوستی بہت دلچسپ ہے، جیسے میں بتایا کہ انھوں نے باسکٹ بال پر دستخط بھی کیے ہیں، یہ ان دونوں کے منفرد کردار کو دیکھنے کا ایک بہت ہی منصوبہ تھا Interesting
جب تک میں اس مقابلو کی کوئی اہمیت نہیں سمجھی، لیکن اب جب کھلاسا نے استنبول گئے تو یہ ملاقات کوکنگ شوف پر ان بہت ہی خوشگوار کے طور پر لیکر دیکھنا شروع کر گیا تھا اور میں اس کو آسانی سے نہیں چھوڑ سکٹا
جبکہ، شائقین کا یہ منظر کچھ عجیب ہے جو سوشل میڈیا پر پریمیٹ کی گئی ہے لیکن میں اس کو ایسا نہیں سمجھتا جس میں لوگ اس نیل کے ساتھ ساتھ Erdogan کے ساتھ ان کی دوستی کو چیلنج کرنے لگتے ہیں، یہ ملاقات صرف ایک شائقین کے منظر کی بات ہو گئی ہے اور میں اسے پہلے سے ہی دیکھ رہا تھا
اس ملاقات کو دیکھ کر میں سوچتا ہوں کہ شائقین کی دلچسپی یہی نہیں ہے بلکہ ان تمام لوگوں کی توجہ اور دلچسپی جسے یہ ملاقات عروض کر رہی ہے وہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے کیا ہوا، ان شخصیات کی ایسی جگہ پر ملاقات اور ان کے درمیان رشتہ بننا یہ کس قدر اچھا ہے۔
اس وقت تک میں کہتا تھا کہ شائقین کی دلچسپی صرف اس بات پر تھی کہ شکیل او نیل استنبول آئے لیکن اب یہ لگتا ہے کہ وہ ساتھ ان صدر کی بھی ملاقات کو محفوظ کر رہے ہیں جس پر انہوں نے اپنے شائقین کا اعتماد بنایا ہے۔
ترک صدر کی باسکٹ بال کھیلنا ایک اچھی بات ہے، لیکن یہ وہ شخص نہیں جو اس کھیل کو انیس دہائیوں سے ہی ترک میں لائے ہیں، ان نوجوانوں کی تلافی کی ضرورت ہے جنہوں نے اپنے مچھلے بھگڑوں میں جھیلمجھی کر کھیل کو ترک سے دور لے گئے ہیں...
انٹرنیٹ پر شائقین کی بات اس طرح ہوتی ہے کہ اگر اس طرح کی ملاقاتوں میں بھی نوجوانوں کو شامل کیا جائے تو یہ ریسپبلسویٹی ویلنٹی کا ایک اچھا نمونہ ہوگا...
کیو نہیں ان شخصیات میں سے ایک کو اپنی قوم کی پیدائش گزشتہ 20سالوں میں بہت سارے مچھلے حالاتوں کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، تو اس وقت یہ بات تو ایک دوسرے کی مدد کرنے لگے...
اس وقت ترک صدر کی استنبول میں ملاقات سے پوری دنیا کا دھیا اٹھ گیا ہے، لیکن یہ بات تو نہیں تھی کہ شکیل او نیل کو صرف ایک لمحے کے لئے استنبول بھیجا جائے گا... ان دو شخصیات کے درمیان رشتہ باقی رہنا ہو گا تو یہ بات تو پورے دنیا کو چھوڑ کر اس شہر پر غلبہ حاصل کر لیگا...
عشق کی بات کرتے ہوئے شائقین کو بہت خوشی ہوگی اور یہ ملاقات ان کی زندگی میں ایک نئی ترقی کا سہارہ بن گیی ہوگی۔ شکیل او نیل کی استنبول آمد اور رجب طیب اردوان کے ساتھ ان کا دوستانہ انداز دیکھتے ہوئے لوگ یقیناً inspires ہون گے۔ اس ملاقات سے نوجوانوں کو بھی ایسے سچے اور معزز انسائکلوڈ کا احساس ہوگا جو ان کی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے motivational بن سکتے ہیں!
اکثر جب میں دیکھتا ہوں کہ کسی نے یہ کہا ہو، "یہ باسکٹ بال کھیلنے والے لوگ ایسی دوستی کی طاقت کو مظاہر کرتے ہیں جو آپ کو محفوظ بناتی ہے" تو میں اس کی تردید نہیں کراتا ۔ اس واقعے نے مجھے یہ لگایا کہ دوستانہ ملاقاتوں سے ناکام رہنا بھی ایک اہم بات ہے۔
تمام کچھ ایسا ہی رہتا ہے جیسا کہ اس میں ہو سکta ہے। شائقین کے لیے یہ ملاقات کافی تعزیم والی ہے، لہذا چاہے وہ باسکٹ بال کی دنیا سے منسلک نہ ہوں، یہ اس بات کو دیکھنے اور محفوظ کرنے کے لیے ایک ایسی پلیٹ فارم بن گیا ہے جس پر وہ اپنے مشاعر اور ماحول کو سچائی سے پیش کر سکیں۔
ان شخصیات میں سے ایک بھی نئے لوگ کے لیے ایک ریکارڈ بن گئے، جو ان کی کوششوں اور تحقیقات سے ہوا ہو گیا ہے، جب یہ ان کے ساتھ پہلے ملاقات میں ہوئی تو وہ نئے لوگوں کو اچھی سی بات سیکھنے اور ان کی مدد کرنے کا موقع لگتا تھا، اب وہ اس کے لیے ایک ریکارڈ بن گئے ہیں۔
ترکیہ کی وہ ملاقات جو اب تک ہوئی، اس وقت میں یقین رکھو کہ ایسے تقاضوں کو پورا کرنے والا ایک منظم پلیٹ فارم بنایا جائے جیسے کہ ان شخصیات کو ایک ساتھ لے کر کام کیا جا سکے۔
علاوہ ازیں ان صارفین نے جو اس ملاقات کی وڈی توجہ دیتی ہیں، انھیں کہا جائے کہ اس وقت یہ سوشل میڈیا پر ایک منظم پلیٹ فارم بنایا جائے جو کہ ان لوگوں کو اپنی فیکس بुकز یا انستا پوسٹس میں ہی شہر کے نئے منظر عام اور اس صدر سے ملنے کی تاریخوں کو دکھائی دے۔
ترکیہ کے صدر اور شائقین کی دلچسپی کو دیکھتے ہی میرا لگتا ہے کہ وہ ایک نئی چیز کو متاثر کر رہے ہیں، جیسے کہ دوستانہ انداز کی بیسٹ پرستی اور باسکٹ بال کی عالمی مقبولیت پر بات چیت کرنا یہ ریکارڈ نہیں بنایا گیا ہے۔
اس ملاقات سے ان شخصیات کے درمیان جو تعلقات بننے والے ہیں وہ تو بھی دلچسپ ہو گئے ہیں، جیسے شائقین اور اسٹار شکیل او نیل کے درمیان کچھ نئا بن گیا ہے، جو ابھی ایک لمحے سے بھی کم ہیں۔
لیکن یہ بات واضح ہے کہ باسکٹ بال کو محفوظ کرنا اور اس میں سرگرمیاں لانا ایک نئا تجربہ ہے جو شائقین کی جانب سے بھی اپنے جذبات اور علاز کے مطابق ریکارڈ ہو گا۔