سہولت اور تعلقات کو بڑھانے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے ایک اہم اجلاس کا आयोजन کیا ہے، جس میں کئی سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔
ان کی سند بے انتہا وہو ہوئی جس پر انہوں نے اس لیے یہ اہم اجلاس کا منصوبہ بنایا تھا کہ انہیں سمجھنا ہوتا تھا کہ ملک میں اس وقت ایسے مذاکرات کی ضرورت ہے جس سے ملک کو ان معاشرتی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے جو آج وہیں تھے۔
اجلاس میں شہباز شریف، نوازشریف اور آصف علی زرداری پر مشتمل ایک مذاکراتی کمیٹی بننے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے گا۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن کی تعیناتی کی جائے گی، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے گا، مीडیا کی سنسر شپ کو ختم کیا جائے گا اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں گے۔
سیاسی رہنماؤں نے بتایا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی، کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ اس بات پر متفق تھے کہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی سیاست نے قوم کو تقسیم کیا ہے، اور اب personality politics سے نکل کر ادارہ جاتی اصلاحات، آئین و قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور شفاف سیاسی عمل کی طرف بڑھنا ہوگا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی رائے میں کہا تھا کہ ایک ہی ادارہ میں ہمیں ذاتی مفادات کو چھوڑنا پڑega جس سے انہوں نے اس خطاب میں بتایا تھا کہ ملک آگے لے جانے کے لیے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، اور اس لیے کہ پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں، جب الیکشن کے منصفانہ نتائج نہ آئے، میڈیا آزاد نہ ہو تو نتائج معاشرے پر آئیں گے، اب وقت آگیا سب مل کر ساتھ بیٹھیں، سیاست دانوں فوج اور ججز سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
سہولت اور تعلقات کو بڑھانے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے ایک اہم اجلاس کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں شرکت کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران کوئی ایسی بات نہ ہوئی تھی جس پر انہیں سمجھنا پڑا ہو کہ ملک میں استحکام کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے، اور ملک میں political divisions، social milatary relations میں تناؤ، دہشت گردی، insaf ki عدم فراہمی، میدیا پر قدغنیں اور غیر منصفانہ انتخابی عمل نے ریاست کو مشکلات میں ڈالا ہے۔
سیاسی رہنماؤں کا مشورہ تھا کہ سیاسی قیدیوں بالخصوص بانی پی ٹی آئی اور خواتین کارکنوں کی رہائی، کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔
ان کی سند بے انتہا وہو ہوئی جس پر انہوں نے اس لیے یہ اہم اجلاس کا منصوبہ بنایا تھا کہ انہیں سمجھنا ہوتا تھا کہ ملک میں اس وقت ایسے مذاکرات کی ضرورت ہے جس سے ملک کو ان معاشرتی اور سیاسی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے جو آج وہیں تھے۔
اجلاس میں شہباز شریف، نوازشریف اور آصف علی زرداری پر مشتمل ایک مذاکراتی کمیٹی بننے کا مطالبہ کیا گیا ہے، جو سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے گا۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن کی تعیناتی کی جائے گی، خواتین سیاسی ورکروں کو فوری طور پر بحال کیا جائے گا، مीडیا کی سنسر شپ کو ختم کیا جائے گا اور سیاسی افراد پر مقدمات ختم کیے جائیں گے۔
سیاسی رہنماؤں نے بتایا ہے کہ سیاسی قیدیوں کی رہائی، کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ اس بات پر متفق تھے کہ ذاتی مفادات اور اقتدار کی سیاست نے قوم کو تقسیم کیا ہے، اور اب personality politics سے نکل کر ادارہ جاتی اصلاحات، آئین و قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور شفاف سیاسی عمل کی طرف بڑھنا ہوگا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی رائے میں کہا تھا کہ ایک ہی ادارہ میں ہمیں ذاتی مفادات کو چھوڑنا پڑega جس سے انہوں نے اس خطاب میں بتایا تھا کہ ملک آگے لے جانے کے لیے ہم سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا، اور اس لیے کہ پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے کے لیے ہم سب ذمہ دار ہیں، جب الیکشن کے منصفانہ نتائج نہ آئے، میڈیا آزاد نہ ہو تو نتائج معاشرے پر آئیں گے، اب وقت آگیا سب مل کر ساتھ بیٹھیں، سیاست دانوں فوج اور ججز سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
سہولت اور تعلقات کو بڑھانے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے ایک اہم اجلاس کا منصوبہ بنایا ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتیں شرکت کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہیں۔
اجلاس کے دوران کوئی ایسی بات نہ ہوئی تھی جس پر انہیں سمجھنا پڑا ہو کہ ملک میں استحکام کے لیے پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھنے کی ضرورت ہے، اور ملک میں political divisions، social milatary relations میں تناؤ، دہشت گردی، insaf ki عدم فراہمی، میدیا پر قدغنیں اور غیر منصفانہ انتخابی عمل نے ریاست کو مشکلات میں ڈالا ہے۔
سیاسی رہنماؤں کا مشورہ تھا کہ سیاسی قیدیوں بالخصوص بانی پی ٹی آئی اور خواتین کارکنوں کی رہائی، کشیدگی کم کرنے اور اعتماد سازی کے لیے ناگزیر ہے۔