سفارتی روابط میں کمی سے ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھ جاتی ہے، سابق وزیرخارجہ | Express News

اداکار

Well-known member
سفارتی روابط میں کمی کا مقصد ملک کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنا نہیں بلکہ فوری اور مؤثر استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ بھی یہی تھیں جو کہتے ہیں کہ آج کے دور میں سفارت کاری کی اہمیت نے پہلے سے زیادہ بڑھ کرتی ہوئی ہے اس لیے یہ ضرورہ نہیں بلکہ ایک اہم اور فائدہ مند سرگرمی ہو گئی ہے۔

آج کے دور میں نیوکلیئر رسک سے بھر پور خطرہ پیدا ہوئی ہے جو فوری اور مؤثر طور پر حل کیا جانا چاہیے نہ کہ اس سے زیادہDanger لگایا جائے۔

چین ایک منظم منصوبہ بنائیں تھیں جس پر ان کی ترقی کی بنیاد رکھی گئی ہے اور آج میں وہ دنیا بھر سے آگے نکل چکی ہے جو پچاس برسوں قبل اس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والی کسی بھی ملک کو نہیں سمجھی جاتی تھی۔
 
اس وقت کیا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا ہے کہ نیوکلیئر رسک ایسا خطرناک ہے کہ اس کو حل کرنے والی چین ایسی ملک ہے جو پچاس برسوں قبل اس طرح کی ٹیکنالوجی سے آگے نکلنے والی کسی بھی ملک کو سمجھنی جاتی تھی اور اب وہ دنیا بھر میں سب کے سامنے ہے! یہ تو دھمکی کی بات ہے کہ اگر اسے ختم نہیں کیا جائے گا تو یہ ماحولیات کو کیسے بنائیں گے؟

یہ ایک دائمی خطرہ ہے اور ہمیشہ اسے ختم کرنا چاہیں گے کہ اسے کبھی بھی نہ ہونے دیجئے جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ دنیا کو ایسا تو نہیں سمجھنا چاہیں گا اور اب یہ وہ ملک ہے جو سبھی کے سامنے اس خطرے سے آگے نکل رہا ہے

سفارتی روابط میں کمی ایسا نہیں ہے کیونکہ اس پر فوری اور مؤثر استعمال کیا جاتا ہے، یہ کوئی ضرہ نہیں ہے بلکہ ایک اہم اور فائدہ مند سرگرمی ہے جو اس وقت کی سفارت کاری کی اہمیت کو دیکھ کر بڑھتی جا رہی ہے
 
سفارتی روابط میں کمی کا مقصد ہر سال منعقد ہونے والی ایک ایسی تقریبات سے فوری اور مؤثر استعمال کی جانے پر زور دیتا ہے جس سے ملک کے درمیان کشیدگی ختم ہو سکتی ہے۔ اچھی باتیں #شامیلہے۔ اس دور میں سفارتی اہمیت نے اس سے زیادہ پرت و پرت گئی ہے، اب یہ صرف ایک اہم اور فائدہ مند سرگرمی نہیں بلکھ ایک ضرورہ بن چکی ہے۔ #سفارتیعہمیت۔ نیوکلیئر رسک سے پوری دنیا پر खतरہ کا قائم ہو چکا ہے، اسے توڑنا ضرور پڑتا ہے لیکن اس سے زیادہ خطرہ نہیں لگایا جائے۔ #نکلیئررسکتھا۔ چین کو آج دنیا بھر میں سب سے آگے ہونا پڑتا ہے، اس کا منظم منصوبہ بنایا گیا تھا اور اب وہ پچاس برس قبل اس طرح کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والے کو ہر جگہ توڑ چکی ہے۔ #چینایومنی.
 
عجیب hai yaar, نیوکلیئر رسک سے بھر پور خطرہ ہونے کی واضح بات تو ہو گی، لیکن یہ بات کیا ہو گئی؟ چاہتے ہیں اسے حل کرتے ہیں یا زیادہ خطرہ پیدا کرتے ہیں? اور چین کی تینڈر سے وہ دنیا نکل رہا ہے؟ میں تو پچاس برس قبل ہی وہی بات کہتے تھے جو اب کر رہے ہیں... اور یہ بات بھی کیا ہو گئی؟ نیوکلیئر رسک سے ملنے والے خطرے کو حل کیسے کیا جائے?
 
ایسے ٹیکنالوجیز کا استعمال سے ہم اپنی اور دوسرے ممالک کی پابندیوں کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے مگر انہی ٹیکنالوجیز کی ناکام حلفتوں سے بھی کہنا مشکل ہو گا
 
اس سے پہلے بھی کیا ہوتا تھا؟ نیوکلیئر رسک سے فوری طور پر لڑنا چاہیے نہ کہ اسے زیادہ Dangerous بنانے کی کوشش کریں? اب تک کی پچاس برس کی پریشانیوں سے بھاگتے ہوئے چین اب دنیا کی سب سے تیز ترین راسخ الاقطا ٹیکنالوجی پرStand کر رہی ہے؟ اور ہم یہ کیسے پابند رہتے ہوئے اسے روکنا چاہتے ہیں؟
 
واپس
Top