کراچی میں ایک آگ جو بجھانے کی کارروائی کے دوران نوجوان شہید فرقان علی کو ملا، ان کا نام ناظم آباد فائر اسٹیشن کے اہل کARTHے پر ہے جس میں وہ فائراسٹیشن کی عمارت کے اندر دھونڈ رہے تھے، اس وقت انہوں نے عمارت کی چھت سے جنریٹر اور ملبا کو نکال کر ہاتھوں لگایا جس کے باعث وہ موقع پر دم توڑ دیا۔
گل پلازہ میں شہید فائرفائٹر فرقان علی کی ایک بڑی توجہ حاصل ہوئی، صارفین انہیں حقیقی ہیرو کرارے رہے ہیں اور ان کے لیے سول ایوارڈ کا نامزد کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے ٹیلی فون کے ذریعے انہیں شجاعت سے سمجھایا۔ وہ لوگ جو مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے بھی ان کے لیے ستائش کیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے ریسکیو آپریشن کے دوران شہید فائر فائٹر فرقان علی کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ وہ اپنی جان گوا کر دوسروں کو بچاتے تھے، وہ جسے دیکھا اس وقت بھی وہ متوفی فرقان علی کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔
فرقان کی نماز جنازہ نئی آباد فائر اسٹیشن میں ادا کردی گئی، اس موقع پر ان کے ساتھیوں اور شہریوں نے ان کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عطیہ فام خاندان سے دلی تعزیت کی، انہیں ایک ہیرو قراردیا گیا جو اپنی جان قربان کرکے دوسروں کو بچاتا تھا۔ اس موقع پر علی खورشیدی نے فرقان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
فرقان علی ایک لڑکے کے والد تھے جن کا عمر 4 ماہ تھی، ان کی شادی پچاس سال قبل ہوئی تھی، وہ 25 برس کی تھیں جب اس نے شہادت حاصل کی۔
ایک جسیرت کا یہ کھراب ہوا ہو رہا ہے؟ ایک بچے کے والد کو وہی کارروائی کرنے پڑی جو اس کے ساتھ جانے والے لوگ نہیں چاہتے۔ لاکھوں لوگوں کی یہ قربانی ہوئی اور اب ان کو شجاعت سے سمجھایا جارہا ہے؟ آٹھ ماہے کی عمر میں ایک بچے کا یہ کھراب کلام ہو رہا ہے...
مذاکرات کو ڈھیلے ڈھیلے کرنا پڑتا ہے اور اس میں ایسا ہی کھراب ہوا ہو رہا ہے... https://www.arynews.tv/home/1234426/ Karachi-me-ek-ag-jisirat-kar-ranay-ki-karvai-kun-shahid-faraqan-ali
اس دuniya میں بھی کئی ہیں جو ہم کو یاد رکھتی ہے، ان میں سے ایک یہ شہید فرقان علی ہے جس نے اپنی جان قربانی کے لئے بچائو ! وہ آگ جو بجھانے کی کارروائی میں تھا اس وقت انہیں دھونڈ رہے تھے، لیکن وہ ایک ہیرو کے طور پر کام کر رہے تھے ! وہ لوگ جو عمارت کی چھت سے جنریٹر اور ملبا کو نکال کر ہاتھ لگایا تھا وہ اس وقت اپنی جان قربانی کرتے ہوئے دوسروں کے لیے ایک بڑی آئندہ بن گئے !
اس کے بعد کراچی میں ایک آگ جو بجھانے کی کارروائی کے دوران نوجوان شہید فرقان علی کو ملا تو یہ کہیں تک ہم پچتایا رہے تھے کہ انہوں نے ایسے کارروائیوں میں حصہ لیا ہوتا ہے جو لوگ دیکھتے ہیں وہ ان کے ساتھ آتے ہیں اور ان کی جان بچانے کا ایک نئا اور بہترین حقیقت ہے، شہید فرقان علی کو پہلی بار دیکھ کر تو مجھے لگتا تھا اس کا یہ کام ان لوگوں میں سے ایک ہے جو اپنی جان گوا کر کہتے ہیں، لیکن جب مجھ کو ان کی شہادت پہنچی تو مجھے لگا کہ یہ وہی عظیم کارروائی تھی جس کے بعد ہم سمجھتے ہیں کہ اسے دیکھا جائے اور ان کے ساتھ اپنے آپ کو جوڑنا چاہئے، ان کے لیے مجھے بھی گہرا دکھ ہوا اور افسوس ہوا ہے، اس کی شہادت نے مجھے ایسی بات یاد dilai hai کہ جب تک ہمیں اپنی زندگی کو لازم سے چاہنے کا موقع ملا تو ان شہیدوں کی طرح دیکھنا اور ان سے ملنا چاہئیے، یہ ہمارا حق ہے اور ہمیں ایسے لوگوں کے لیے اپنی زندگی کو قربانی دینا چاہیے جو دوسروں کی جان بچانے کے لئے اپنی زندگی گوا رکھتے ہیں
یہ رہا نوجوان کو ایک آگ کے بجھانے میں شہید کر دیا گیا، یہ سچ ہے نہیں؟ انہوں نے اپنی جان قربان کر کے لوگوں کو بچایا تھا، لیکن اب تو وہ جس کے لیے ماری گئے ہوں وہ سبک سے ملا ہوا ہیں... .
کیا یہ ہو سکتا تھا کہ آپ کے چھوٹے بچوں کو ایک فائر اسٹیشن میں دھونڈ کر آگ بجھانے کی کارروائی میں جانہریں نکال کر ہاتھیوں لگا کر دم توڑ دیا جائے؟ وہ کس طرح یہ جانہر اٹھایا؟ اس نے اپنی جان قربان کرکے دوسروں کو بچایا، وہ ایک ہیرو تھا جو پوری زندگی ہی اس طرح ہی کا رخ کیا تھا…
مری گھر کے سائبر ریکر بٹے کو ایک ایسا بچا دیکھنا چاہیا ہوتا ہے جس نے خود کو آگ لگانے کی کارروائی میں ان کی جان گوا دی، اس کے بعد اس کے ساتھ ہو رہی توجہ ایک ایسا شہید بن گئی جو دوسروں کو بچانے کے لیے اپنی زندگی قربان کر دیتا ہے۔
میری کچھ سوسائے اس میں سبق لینے کی بات نہیں توڑتی، وہ بھی کہتے ہیں جو اپنی زندگی میں کم از کم ایک شہید بننے کا موقع ملتا ہے اُس کو سب لوگ تسلیم کر لیتے ہیں۔
یہ ایک بڑا دکھ ہے کہ 4 ماہ کا بچہ اپنی زندگی کی پہلی کوشش میں شہید ہو گیا، ان کی جان نے اپنے والد کے لیے اور دوسروں کے لیے ایک ایسا نمبر بنایا ہے جو ہم کو واپس لے آتا ہے۔ ان کی شہادت کو ہم سب سمجھتے ہیں کہ وہ ایک بڑا ہیرو تھا جو اپنی زندگی سے ہمیں lesson دے رہا ہے۔
وہ دوسرے لوگ جو انہیں ایک ہیرو قرار دیتے ہیں وہ اپنی جان گوا کر دوسروں کو بچاتا تھا اس بات کو پہلے نہیں سمجھتے، اب جب ان کا دم توڑ دیا گیا ہے تو انہیں ایک Hero قرار دیا جا رہا ہے، وہ لوگ جو کہ انہیں اچھے قرار دیتے تھے وہ اب ان کی شہادت پر بھی گہرے دکھ اور افسوس سے ہیں، لیکن وہ جسے ان کا دم توڑ دیا گیا ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں ہے؟
عمر کی جائیداد سب کچھ دھماکے اور آگ کو دبا کر چکی ہیں، لگتا ہے لوگوں نے فرقان کی جان کی قربانی پہ لی، اس نے اپنی زندگی بھی دھواڑ پڑنے پر اس نے اپنا جانب سے کام چھوڑا۔ اگرچہ وہ صرف 25 برس کے تھے اور ان کی عمر میں بھی کتنے عرصے گزرتے تھے، وہ اپنی زندگی کو اس طرح دے دیا جیسا کہ وہ سب سے زیادہ کرنا چاہتا تھا۔
فرقان علی کو جانب سے ایک بڑا تعزیز ملا ہوا اور ان کے لیے ایک سول ایوارڈ کی جانب دیکھا جارہا ہے، وہ ایسا ہی کیا کہ لوگ حقیقت سے ہیرو بن گئے اور ان کے لیے ستائش کی جا رہی ہے، انھوں نے اپنی جان بچانے کے لیے دوسروں کو فائر اسٹیشن میں چھپایا تھا، اب وہ ایک شہید بن گئے ہیں اور ان کی شہادت پر سبھی لوگ دیکھ رہے ہیں
سارے توجہ اس نوجوان پر مرکوز ہونے سے پہلے ان سے ٹالنے کا کوئی چانس ہوا؟ جس نے اپنی زندگی اپنا بھلہ لینے سے پہلے دوسروں کی lives کو خطرے میں لانے کا وہی کردار ادا کیا، وہ ان لوگوں کو اس کے لیے بدترین ایوارڈ ہے، جو سول ایوارڈ کا نامزد کر رہے ہیں ان کو پوچھ لگتی ہے کہ وہ کیا کیا کرتے تھے؟
اللہ یہ دیر نہیں بہت آئی چاہے ان کے ساتھ ایک آگ بھی بجھانے کی کارروائی ہو ، مینے سنایا تھا کہ انہوں نے اپنے شہر کو ایسا بنایا ہے جو لوگوں کو دل دھمکا دہتا ہے اور اب انہیں ایک سول ایوارڈ کا نامزد ہو گیا ہے تو یہ بھی دیر نہیں بہت آئی، مینے ان کی طرف اشارہ کیا تھا اور اب لوگ انہیں ایک ہرونہال بنانے لگے ہیں
عجीब سا یہ بات کہ نوجوان شہید فرقان علی کو اپنی جان قربان کرکے دوسروں کو بچاتے ہوئے ایک آگ جیسے جھنڈے میں شہید ہو گئے، یہ جاننا بھی کہ وہ اپنی عمر میں ہی ان شہدائیت کی اسکرین کو سنجیدہ تھا، مگر اس کو ہی نہ دیکھ کر وہی اس آگ پر چڑھ کر جانا پڑا۔ اس طرح سے ایک نوجوان جو اپنی عمر میں ہی ہی ان شہدائیت کی عادت کو بناتا تھا وہی وہی شہید ہو گیا، یہ کبھی بھول نہیں سکی جاسکتا، اس نے اپنی عمر میں ہی دوسروں کو ایسا کرنے کا مظاہرہ کیا جو اکیلے نہیں کرنا چاہئیے۔
یہ شہید فرقان علی کا عمل تو بے شمار ایام سے ہرے رہے ہیں، مگر اب یہ اسی نوجوان کی جان کی قربانی کو سمجھنا ہی ہم سب کو مشکل لگ رہا ہے، وہ کیسے اس ایسے موقع پر تھا جب اسے ایک ڈرامہ سٹری میں اداکاری کرنا پڑی؟ مگر ان کی جان بھی اسی وقت کی چیلنجز کو اپنی جانب نہیں موکل کر سکتی تھی، اگر یہ سچ ہوا تو ان کا کردار اس وقت تک ہر وقت کا ہو گیا ہوتا ، اور اب ان کی یہ قربانی ہمارے سامنے ایک ایسا موقع بھی بن رہی ہے جس پر ہم اپنی نظر بڑھاکر دیکھ سکیں، وہ بھی کچھ نہیں تھا، لڑکا 4 ماہ کی عمر میں اور اس نے ان سے پہلے بھی اپنی زندگی کو ایک ایسا ہیrisٹرک دکھایا ہوں گے، حالانکہ وہ یہ سب سچ کیسے سائے کر سکتی ہے؟
عصمت ایسے لوگوں کو لاتا ہے جو اپنی جان قربان کرکے دوسروں کو بچاتے ہیں، فرقان علی نے اپنے وطن کے لیے یہ کارنامہ انجام دیا ہے اور اس کا شہید ہونا تو۔ وہ ایک عادی جانتے تھے جو فائر اسٹیشن میں دھونڈ رہتے تھے، لیکن ان کی جانب سے کی گئی کارروائی نے ان کا شہید ہونا کیا ۔ اب وہ ایک شہید ہیں جو اپنی زندگی کو آپ کی دھونڈنے میں費چ کر رہے تھے
ابھی کراچی میں ایک آگ جو بجھانے کی کارروائی کے دوران ایک نوجوان شہید ہوگیا، ان کا نام نажم تھا اور وہ اپنی عمارت میں دھونڈ رہتے تھے جس کے باعث وہ شہادت کا سامنا کیا تھا
اس کی بھی ایسی ایک نئی آگ اچھی طرح سے نہیں تھی، اس نے اپنی عمارت میں دھونڈ کر شہید ہوگیا اور اب ان کے لیے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ یہ بات پچھتے ہی ایک چھوٹا بچہ اپنے والد کی شہادت سے کوئی لطف آنا بھی نہیں پاتا
اس جگہ کی شہر وطن کے لوگ انھیں حقیقی ہیرو قرار دی رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی نہیں پہچتی کہ اس طرح کی شہادت سے کیا لطف آسکتا ہے؟ نوجوانوں کو اپنی زندگی کا اور اپنے گhar والوں کا بھی فائدہ ہونا چاہیے
یہ دیکھتے ہیں بچوں کا ایک آخری راز! فرقان علی ان کے والد تھے جن کی عمر صرف چار ماہ تھی، اس نے اپنی زندگی کو 25 سال کے لیے وقف کر دیا تھا جس کے بعد انھوں نے شہادت حاصل کرلی۔ یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ وہ جو دوسروں کو نجات دینے کے لیے اپنی جان قربان کر رہا تھا ان کی پوٹیوں پر شہادت کا بھار پڑا ہے اور اس کا ایک توازن نہیں ہوسکتا۔
لڑکے کی والدت کو یہی نہیں مل سکتی ہوگی کہ اپنا بیٹا ایک آگ میں شہید ہوا، انہیں پچاس سال پہلے سندھ کی ایک فائر اسٹیشن میں آپنی شادی کی تین دہائیوں کا عرصہ ہوگیا تھا۔ انہیں یہ بھی مل گیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ایک آگ میں ہاتھوں لگاکر شہادت عطا کر دیتا تھا، یہ تو انتہائی خوفناک ہے۔