دہشت گردوں کی خلاف ورزی میں پاکستان آرمی نے ایک بڑی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور انھیں بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد سے لے کر سرنڈر کرایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں فائرنگ کا شکار ہوا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران پریس کانفرنس کی میزبانی وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون شاہد رند نے کی تھی، جس پر ڈی آئی جی سے ان کا تعلق ایک ماہر کاروباری اور سیاسی ماحول میں آتے ہوئے اعتزاز گورایہ نے مشورہ دیا۔ ان کے مطابق اسOperation کامیاب رہی، اور مزید دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
دہشت گردوں کی طرف سے بھی ایک فیل ڈرپ لگایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس پر سرنڈر کرنے کے بدلے میں فائرنگ کا تبادلہ کیا، اور اس طرح اس کارروائی سے دہشت گردوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کسی کو مارنا قانون کی پابندی کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔
دھشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی سیاسی دباؤ کو نظر انداز کیا جانا چاہئے، اور پوری تیزگی سے ایسے کارروائی کیا جائے جو دہشت گردوں کو مارنے یا ان کی مدد کرنے کی اجازت نہ دیں۔
ایسا بھی ہوتا تو یہ قوم نہیں بن سکی ، دہشت گردوں پر کارروائی کرنا ایک اہم کوشش ہے جس کی نتیجے میں اب تک 6 دہشت گرد مارے گئے ہیں اور انھیں اسلحہ سے لے کر سرنڈر کرایا گیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں فائرنگ کا شکار ہوا ، ابھی تک بھی دہشت گردوں کی طرف سے ایک فیل ڈرپ لگایا گیا تھا لیکن انھوں نے اس پر سرنڈر کرنے کے بدلے میں فائرنگ کا تبادلہ کیا ، یہ سب ایک اچھی سندیشن ہے کہ دہشت گردوں کو مارنا قانون کی پابندی کے ذریعے ہوتا ہے لیکن ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوتی ہے ، دھشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی سیاسی دباؤ کو نظر انداز کیا جانا چاہئے اور پوری تیزگی سے ایسے کارروائی کیا جائے جو دہشت گردوں کو مارنے یا ان کی مدد کرنے کی اجازت نہ دیں ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان آرمی نے ایک بڑی کارروائی کی اور اس سے دہشت گردوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا
یہ واضح ہے کہ پکے لوگ بھی جسٹس کی آواز کرتے رہے گا، لاکھوں دہشت گردوں کو مار کر کیا گیا تھا اور اب نئے 6 لوگوں کا بھی فائدہ ہوا ہوگا . پھر تو وہ لوگ جو دہشت گردوں کی مدد دیتے ہیں ان کو مارنا ہوتا ہے اور انہیں بھی ساتھ لے جاتے ہیں. اب پھر دھشت گردوں کی طرف سے فیل ڈرپ لگایا جانا تھا تو کیا ان پر کارروائی نہیں کرنی چاہئیے؟ یہ واضح طور پر دیکھنا ہو گا کہ جب تک یہ کارروائی جاری رہتی ہے تو دھشت گردوں کو کامیابی نہیں مل سکتی.
یہ کارروाई پورے ملک میں لگن گئی ہے اور میرا یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس سے دہشت گردوں کی ایک بڑی تھین رک گیا ہوں گے۔ کیا یہ کارروائی کافی نہیں تھی? میرے خیال میں، نئی سی ٹی ایم این اور ایسٹ ایس پی سے بھرپور تعاون ہوا ہوگا۔ انہوں نے کیا یہ فیل ڈرپ میں ہندوستانی ملاحدوں کی جانب سے لگایا گیا تھا؟ کیا اس پر کوئی تحقیق ہوئی ہو؟
یہ کارروائی بالکل اچھی ہوئی ، پاکستان آرمی کا یہ کردار دہشت گردوں کے خلاف لڑنے میں بہت اہم ہے اور ان کے ساتھ پوری تیزگی کے ساتھ لڑنا ضروری ہے، یہ دیکھا گیا ہو گا کہ دہشت گردی کو کبھی بھی روکنے میں ناکام نہیں ہوتا
جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور انھیں بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد سے لے کر سرنڈر کرایا گیا جس کے نتیجے میں انہیں فائرنگ کا شکار ہوا، یہ بھی ایک اچھا کردار تھا جو دہشت گردوں کو مارنے کی اجازت نہ دیں۔
دہشت گردوں کی طرف سے بھی ایک فیل ڈرپ لگایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس پر سرنڈر کرنے کے بدلے میں فائرنگ کا تبادلہ کیا، اور اس طرح اس کارروائی سے دہشت گردوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
یہ بات اچھی ہے کہ کسی کو مارنا قانون کی پابندی کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوتی ہے۔
دھشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی سیاسی دباؤ کو نظر انداز کیا جانا چاہئے، اور پوری تیزگی سے ایسے کارروائی کیا جائے جو دہشت گردوں کو مارنے یا ان کی مدد کرنے کی اجازت نہ دیں۔
یہ واضح ہے کہ پاکستان آرمی نے پھر سے دہشت گردوں پر ہاتھ اٹھایا ہے، لیکن یہ جاننے میں بھی کچھ مشکل ہوتا ہے کہ کیا وہ ایک دھشت گرد ہیں یا صرف ایک نئی جماعت تھی جس کو دہشت گردوں کی اور پورے ملک کی دھمکی سے بچایا جانا چاہتا تھا۔
اسOperation کے بعد ڈی آئی جی نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کارروائیں جاری رہیں گی، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ سچ مچ دہشت گردوں کو مارنا ہی نہیں بلکہ انھیں اور اسے ہی پوری ملک کی دھمکی سے بچانا ہے، جس کے لئے پوری تیزگی سے کارروائی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی ہے کہ کسی کو مارنا قانون کی پابندی کے ذریعے ہوتا ہے، لیکن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں کسی قسم کی سیاسی دباؤ کو نظر انداز کرنا چاہئے اور پوری تیزگی سے ایسے کارروائی کیا جائے جو انھیں مار ڈالے یا ان کی مدد نہ کرنے دیں۔
یہ کارروائی بھارت سے پہلے ہی منظر پر تھا، کچھ دیر میں پاکستان آرمی نے اس کا جواب دیا اور ایک بڑی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 6 دہشت گرد مارے گئے اور ان کو دھماکا خیز مواد سے لے کر سرنڈر کرایا گیا ہے، یہ تو ایک بڑی کارروائی ہی نہیں تھی بلکہ دہشت گردوں کے خلاف ایک ناقابل تسخیر فعل تھا
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس کارروائی میں کسی کو بھی نقصان پہنچا ہوا ہے، لیکن یہ واضح نہیں تھا ہر کارروائی میں ایک دوسرے کے لئے نقصان پہنچاتا ہے، اور پوری دنیا کو پہچانتا ہے کہ جب تک دھشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رہے گی، وہ اس کی واضح نہیں ہوگئی ہیں
دوسری جانب ہمارا معاشرہ دھشت گردوں کے خلاف ساتھ دلاتا ہے، اور ان کی مدد کرنے والے کو بھی محکوم کرکے دیتا ہے، اور اس پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری ایمریٹا ہمارے لیے کی جائے گی
یہ تو فخر کن ہے کہ پاکستان آرمی نے اس دہشت گردوں کی خلاف ورزی میں ایک بڑی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں وہ لوگ جو ان کی مدد کر رہے تھے، کو بھی مار دیا گیا ہو۔ اور یہ تو صاف ہے کہ انہیں سارے دھماکا خیز مواد اور اسلحہ لے کر سرنڈر کرایا گیا، جس سے انہوں نے کسی فائرنگ کی اجازت بھی نہیں دی ۔
لیکن یہ بات توجہ دیتے ہوئے ہے کہ انہوں نے اپنے معاون وزیراعلیٰ بلوچستان کو ایک پریس کانفرنس میں لاتے ہوئے، ان کا تعلق ایک کاروباری اور سیاسی ماحول سے آتے ہوئے اعتزاز گورایہ نے مشورہ دیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ آپسی پیمانے پر لاتے تھے اور ان کا فیصلہ اتنی ہی جوش سے لیا گیا تھا ۔
لیکن اس Operation کی کامیابیت کا شکر ادا کرنا نہیں ہوگا، یہ تو فخر کن ہے کہ دہشت گردوں کو مار دیا گیا، اور انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔ لیکن اس Operation کی تیزگی سے اور وہ معاون وزیراعلاٰ نے اپنا مشورہ دیا تو یہ بتاتے ہوئے ہے کہ دھشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی سیاسی دباؤ کو نظر انداز کیا جانا چاہئے ۔
اس کارروائی میں پاکستان آرمی نے بہت سارے دہشت گردوں کو مار ڈالا ہے اور انھیں بھاری اسلحہ سے لے کر سرنڈر کرایا گیا ہے... اور یہ بات صاف ہے کہ یہ کارروائی تیزگہری سے ہوئی اور دہشت گردوں کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دھشت گردی سے لڑتے ہوئے ریاستی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوتی ہے اور ان کو مارنا قانون کی پابندی کے ذریعے ہوتا ہے۔
لیکن دھشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کوئی سیاسی دباؤ نظر انداز نہ کرنا چاہئے، پوری تیزگی سے ایسے کارروائی کی جائے جو دہشت گردوں کو مارنے یا ان کی مدد کرنے کی اجازت نہ دیں... اور یہ بات ہی صاف ہے کہ وہ شخص جو اس کارروائی میں شامل تھا، ایک ماہر کاروباری اور سیاسی ماحول سے تعلق رکھتا ہے...
اس کارروائی کا یہ رہی، جو بھی ہوا اس سے پریشانی ختم ہوئی، دہشت گردوں کو مارنا ایک جھوٹا کام نہیں ہے، لیکن ان کی مدد کرنا یا ان کے ساتھ ملنے والا کچھ بھی ایسا ہونے کی توقع میں بھی نہیں ہے، چلو دیکھیں گے کہ مزید کتنی کارروائیوں کو ضرور کرنا پڑے گی؟
یہ سب بہت اچھا ہے، پاکستان آرمی نے بے چرچی دہشت گردوں کو مار دیا ہے اور ان کے ساتھ کیا بھی کیا گیا ہے وہ سب جانتا ہے، لیکن یہ بات کیومنہد فائرنگ اور دھماکہ خیز مواد سے لے کر انہیں سرنڈر کیا گیا اس کے نتیجے میں انہیں بھی فائرنگ کا شکار ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے تو یہ سب ہی ایک دوسرے کی جانب سے ہو رہا ہے